اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا موج نسیم تھی ادھر…

موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی
تلوک چند محروم کی وفات
February 06, 1966
مشہور اردو اسکالر اور شاعر جگن ناتھ آزاد کے والد
نام تلوک چند، محروم تخلص۔ ۱۸۸۵ء میں تحصیل عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ پہلے مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انٹرنس ، اس کے بعد بی اے اور ایس اے وی پرائیوٹ طور پر پاس کیے۔ ۱۹۰۸ء میں مشن ہائی اسکول، ڈیرہ اسماعیل خاں میں انگلش ٹیچر ہوگئے۔ ۱۹۳۳ء میں کنٹونمنٹ بورڈ مڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ زمانہ طالب علمی میں ان کی نظمیں پنجاب کے اخبارات اور رسائل میں شائع ہونی شروع ہوگئیں۔ محروم نے کسی سے اصلاح نہیں لی۔ ۱۹۲۹ء میں ان کا مجموعہ کلام’گنج معانی‘ کے نام سے میسر زعطر چند کپور نے لاہور سے شائع کیا۔ ان کے دوسرے شعری مجموعے کا نام’شعلہ نوا‘ ہے ۔ تقسیم ہند کے بعد دہلی چلے گئے اور وہیں ۶؍فروری ۱۹۶۶ء کو انتقال ہوا
….
اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی
……..
عقل کو کیوں بتائیں عشق کا راز
غیر کو راز داں نہیں کرتے
بعد ترک آرزو بیٹھا ہوں کیسا مطمئن
ہو گئی آساں ہر اک مشکل بہ آسانی مری
…….
بظاہر گرم ہے بازار الفت
مگر جنس وفا کم ہو گئی ہے
……
برا ہو الفت خوباں کا ہم نشیں ہم تو
شباب ہی میں برا اپنا حال کر بیٹھے
……
دام غم حیات میں الجھا گئی امید
ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ احسان کر گئی
……
دل کے طالب نظر آتے ہیں حسیں ہر جانب
اس کے لاکھوں ہیں خریدار کہ مال اچھا ہے
…….
دل میں کہتے ہیں کہ اے کاش نہ آئے ہوتے
ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے
……
فکر معاش و عشق بتاں یاد رفتگاں
ان مشکلوں سے عہد برآئی نہ ہو سکی
……
ہے یہ پر درد داستاں محرومؔ
کیا سنائیں کسی کو حال اپنا
……
ہوں وہ برباد کہ قسمت میں نشیمن نہ قفس
چل دیا چھوڑ کر صیاد تہ دام مجھے
مندر بھی صاف ہم نے کئے مسجدیں بھی پاک
مشکل یہ ہے کہ دل کی صفائی نہ ہو سکی
…….
نہ علم ہے نہ زباں ہے تو کس لیے محرومؔ
تم اپنے آپ کو شاعر خیال کر بیٹھے
……
نہ رہی بے خودی شوق میں اتنی بھی خبر
ہجر اچھا ہے کہ محرومؔ وصال اچھا ہے
…….
صاف آتا ہے نظر انجام ہر آغاز کا
زندگانی موت کی تمہید ہے میرے لیے
…….
تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے
جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا
…….
اٹھانے کے قابل ہیں سب ناز تیرے
مگر ہم کہاں ناز اٹھانے کے قابل
یہ فطرت کا تقاضا تھا کہ چاہا خوب روؤں کو
جو کرتے آئے ہیں انساں نہ کرتے ہم تو کیا کرتے
یوں تو برسوں نہ پلاؤں نہ پیوں اے زاہد
توبہ کرتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری


