منتخب غزلیں

وہ کون لوگ تھے ، اُن کا پتہ تو کرنا تھا مرے لہو …

وہ کون لوگ تھے ، اُن کا پتہ تو کرنا تھا
مرے لہو میں نہا کر جنہیں نکھرنا تھا

یہ کیا کہ لوٹ بھی آئے سراب دیکھ کے لوگ
وہ تشنگی تھی کہ پاتال تک اترنا تھا

گلی کا شور ڈرائے گا دیر تک مجھ کو!
میں سوچتا ہوں دریچوں کو وَا نہ کرنا تھا

یہ تم نے انگلیاں کیسے فگار کر لی ہیں؟
مجھے تو خیر لکیروں میں رنگ بھرنا تھا

وہ ہونٹ تھے کہ شفق میں نہائی کرنیں تھیں؟
وہ آنکھ تھی کہ خنک پانیوں کا جھرنا تھا

گلوں کی بات کبھی راز رہ نہ سکتی تھی
کہ نکہتوں کو تو ہر راہ سے گزرنا تھا

خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن
میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا

محسن نقوی

از:-برگِ صحرا ص ۹۵

انتخاب
سفیدپوش


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/