منتخب غزلیں

محمد شیر افضل جعفری کی وفات Jan 22, 1989 بائیس جن…

محمد شیر افضل جعفری کی وفات
Jan 22, 1989

بائیس جنوری 1989کو جھنگ کے ملنگ شاعر اور اردو شاعری میں جھنگ رنگ کے موجد اور خاتم ممتاز شاعر ،ادیب ، سماجی کارکن ،دانش ور اور ماہر تعلیم محمد شیر افضل جعفری نے عدم کے کوچ کے لیے رخت سفر باندھ لیا ۔ان کی وفات سے جھنگ کے دبستان شاعری کا ایک نیر تاباں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ان کی وفات سے اردو زبان وا ادب کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔ان کے چھ شعر مجموعے شائع ہو چکے ہیں جنھیں ز بر ست پذیرائی ملی ۔سادگی ،عجز و انکسار،حریت ضمیر سے جینے کے لیے اسوہء شبیر کو اپنانے والے اس عظیم تخلیق کار نے مسلسل آٹھ عشروں تک اپنے افکار کی تابانیوں سے سفاک ظلمتوں کو کافور کیا اور عوام میں زندگی کی حقیقی معنویت کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پیدا کرنے کی مقدور بھر سعی کی –
محمد شیر افضل جعفری نے زندگی کو جس روپ میں دیکھا اس کا پرتو ملاحظہ فرمائیں:
پھول پھول زندگی ،رنگ رنگ زندگی ہیر ہیر زندگی ،جھنگ جھنگ زندگی
دھڑکنوں کے تال پر ناچتی سہاگنیں بانہہ بانہہ زندگی ، ونگ ونگ زندگی
دل ربا گوالنیں رس بھری کٹوریاں
دودھ دودھ زندگی ، کنگ کنگ زندگی
انھوں نے مستقبل کی اردو کے بارے میں جو پیشین گوئی کی تھی اور جس نئی زبان کا خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر ان کے اشعار میں جھلکتی ہے :
چرخے کی سر پنجابی اور ترانہ جھنگی ہے
مستقبل کی اردو بھی افضل کی نیرنگی ہے
چڑھتے چنھاں سے لے کے لہکتی جوانیاں اردو کو جھنگ رنگ میں نہلا رہا ہوں میں

عشق کے موضوع پرمحمد شیر افضل جعفری کی شاعری میں ایک قابل فہم اندازفکر موجود ہے ۔ان کی بات دل سے نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اترتی چلی جاتی ہے ۔
عشق آفاق میں خلاق حیات جاوید عالم نیست میں کیا صاحب ہست آیاہے
بشر اگر عشق سے دعا لے سراب سے آب جو نکالے
عشق جب وقت کو جھنجھوڑتا ہے حادثے کانپ کے گر جاتے ہیں
بے زری دان کے لائق نہ سہی عشق میں جان بھی پن ہوتی ہے
عشق میں چوٹ ہی کھائی ہم نے آگ سے پیاس بجھائی ہم نے
عشق میں کونج کی فریاد کے ٹکڑے افضل مست بلبل کی مدھر تان میں ڈھل جاتے ہیں
جب نگار قضا سنورتا ہے عشق لہرا کے رقص کرتا ہے
۔انھوں نے خود کہا تھا کہ میری زندگی تو خاموشی سے گزر گئی مگر میرے بعد مجھے لوگ ضرور یاد کریں گے ۔
میری موت تے ہوسیں جنج ورگی سنجی زندگی چپ چپیتی اے
(میری موت کے بعد میری خدمات کو دیکھ لوگ مجھے پہچانیں گے۔میری زندگی تو خاموشی سے گزر گئی لیکن میری وفات کے بعد میر ی تخلیقی کامرانیوں پر لوگ جشن منائیں گے )

اردو شاعری کا دبستان جھنگ جس نے افق ادب کو گزشتہ آٹھ عشروں سے منور کر رکھا تھا اب اپنی تمام تر رعنائیوں اور چکا چوند سے محروم ہو چکا ہے ۔


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/