منتخب غزلیں

اک برگ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ مرتضیٰ برلاس …

اک برگ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ
مرتضیٰ برلاس
اک برگ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ
میں پھر بھی جی رہا ہوں مرا حوصلہ بھی دیکھ

ذرے کی شکل میں مجھے سمٹا ہوا نہ جان
صحرا کے روپ میں مجھے پھیلا ہوا بھی دیکھ

تو نے تو مشت خاک سمجھ کر اڑا دیا
اب مجھ کو اپنی راہ میں بکھرا ہوا بھی دیکھ

مانا کہ تیرا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں
ملنے کے بعد مجھ سے ذرا آئنہ بھی دیکھ

تیرے لیے تو صرف اشاروں کا کھیل تھا
مجھ کو جو پیش آیا ہے وہ حادثہ بھی دیکھ

اوروں کے پاس جا کے مری داستاں نہ پوچھ
جو کچھ ہے میرے چہرے پہ لکھا ہوا بھی دیکھ

ہموار راستوں پہ مرا ساتھ چھوڑ کر
آگے نکل گیا تھا تو اب راستہ بھی دیکھ

چہرے کی چاندنی پہ نہ اتنا بھی مان کر
وقت سحر تو رنگ کبھی چاند کا بھی دیکھ


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/