منتخب غزلیں

"دن بھر کی عطشؔ دھوپ کو دامن میں سمیٹے میں شام کے…

"دن بھر کی عطشؔ دھوپ کو دامن میں سمیٹے
میں شام کے سورج کی طرح ڈوب رہا ہوں”

خواجہ ریاض الدین عطشؔ کا یومِ وفات
January 08, 1925

منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتہ رقیب کا دے جام جم تو کیا ہوگا
وہ پھر اٹھائیں گے جھوٹی قسم تو کیا ہو گا
ادا سمجھتا رہوں گا ترے تغافل کو
طویل ہو گئ شام الم تو کیا ہوگا
جفا کی دھوپ میں گزری ہے زندگی ساری
وفا کے نام پہ جھیلیں گے غم تو کیا ہوگا
ابھی تو چرخ ستم ہم پہ ڈھائے جاتا ہے
زمیں نہ ہوگی جو زیر قدم تو کیا ہوگا
میں ڈر رہا ہوں کہ زاہد کی خشک باتوں سے
سراب بن گیا باغ ارم تو کیا ہوگا
خود اپنی موج نفس سے یہ زاہدان کرام
بجھا رہے ہیں چراغ حرم تو کیا ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابر چھایا نہ کوئی ابر برستا گزرا
اب کے ساون بھی کڑی دھوپ میں جلتا گزرا
یا سر راہ کبھی ٹوٹ کے تارے برسے
یا کسی چاند کا بجھتا ہوا سایہ گزرا
ہم جلاتے رہے ہر گام محبت کے چراغ
وہ رہ و رسم کی ہر شمع بجھاتا گزرا
ہم کزر جاتے ہیں ہر دور سے ایسے جیسے
ایک آنسو کسی جہرے سے ڈھلکتا گزرآ
سوچتا ہوں کہ بدلنے پڑے کتنے چہرے
زندگی گزری ہے اپنی کہ تماشا گزرا
جادہ عمر عطشؔ پاؤں کی گردش ٹہری
دشت سِمٹا نہ کبھی دامن سحرا گزرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواجہ ریاض الدین عطش 4 مارچ 1925ء کو پٹنہ کے قریب واقع تاریخی شہر عظیم آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن عظیم آباد میں گزارا، پھر پٹنہ سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے دوران برٹش ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی اور پانچ برس اس سے وابستہ رہے۔ اسکے بعد عطش ڈھاکہ چلے گئے۔
عطش نے اپنی زندگی کے آخری دس برس شکاگو میں بسر کیے جہاں وہ ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوئے۔ شکاگو میں عطش بہت باقاعدگی کے ساتھ ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں میں شامل ہوتے رہے۔ اسکے علاوہ وہاں اردو اخبارات اور رسائل میں لکھتے بھی رہے۔ عطش نے اپنی ادبی خدمات پر ‘غالب ایوارڈ’ سمیت کئی ایوارڈ حاصل کیے۔
عطش 8 جنوری 2001 کو شکاگو میں انتقال کر گئے اور وہیں آسودہ ٔ خاک ہوئے۔


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/