نشہ مے سے جواں بنتے ہیں پیری میں ریاضؔ وقت ہے توبہ…

وقت ہے توبہ کریں،اب قبر کا ساماں کریں!
…
آج ریاضؔ خیر آبادی کی برسی ہے۔
Jul 28, 1934
سید ریاض احمد نام، ریاض تخلص تھا۔ 1855ء میں بمقام خیرآباد پیدا ہوئے۔ جوانی کا زمانہ گورکھپور میں گزارا۔ یہ شعر گورکھپور کی صحبت کا مظہر ؎
وہ گلیاں یاد آتی ہیں جوانی جن میں کھوئی ہے
بڑٰی حسرت سے لب پر ذکر گورکھپور آتا ہے
امیر مینائی کے شاگرد تھے۔ ریاض الاخبار، صلح کل، گلکدہء ریاض، فتنہ،پیام یار، اور عطرفتنہ رسالے اور اخبار جاری کئے۔ انگریزی ناول کا ترجمہ بھی کیا۔ ناول "ناشاد”ان کی یاد ہے۔
فتنہ اخبار کے متعلق انہوں اپنے ایک مقطع میں اس طرف اشارہ کیا ہے
فتنہ کو پوچھتا ہے کوئی کس ادا کے ساتھ
چھوٹا سا وہ ریاضؔ کا اخبار کیا ہوا
اس کے علاوہ انہوں نے بے شمار اخبارات میں لکھا
28 جولائ 1934ء کو انتقال فرمایا۔ان کا دیوان "دیوانِ ریاض”کے نام سے شائع ہوا۔
چند اشعار ملاحظہ ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روزہ رکھ کے بلا کے دن کاٹے ہیں
مے سے دامن بچا کے دن کاٹے ہیں
مے خانہ میں ہم تشنہ لبوں نے ساقی
سینے سے سبو لگا کے دن کاٹے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وقت وہ ہے کہ خم سبو پر پی لیں
پا جائیں تو جھک کے حوضِ کوثر پی لیں
خم کی تیری خیر!کہہ دے اے پیر مغاں
روزہ رکھا ہے سانس بھر کر پی لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوم میں لوٹتے ہیں روز تلاوت کے مزے
بڑھ کے نعمت سے ہیں اللہ کی رحمت ے مزے
وقت افطار پہنچ جاتے ہیں مسجد میں ریاضؔ
گھر میں اللہ کے آ جاتے ہیں دعوت کے مزے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رند ناکام کو کچھ نشہ سا ہو جاتا ہے
ہاں یونہی نام کو کچھ نشہ سا ہو جاتا ہے
صدقے اس لذت افطار،پسِ توبہ بھی
بے پیۓ شام کو کچھ نشہ سا ہو جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر تر میرے چھلکتے ہوۓ ساغر ہیں ریاضؔ
پھر بھی سب پوچھتے ہیں آپ نے پی بھی کہ نہیں؟
جن لوگوں نے ریاضؔ کا کلام دیکھا ہے۔جنہوں نے ان کی خمریات کا مطالعہ کیا ہے۔جن کی نظروں سے شراب سے متعلق ان کی نازک خیالیاں اور بلند پروازیاں گذری ہیں۔ان کا عام خیال یہی ہے کہ ریاضؔ بادہء تاب کے متوالے تھے۔ان پر ہر وقت نشہ چھایا رہتا تھا۔ساغر و مینا ان کی زندگی کے رفیق تھے۔ ساقی و میخانہ ان کے امام راہ اور مرکز خیال تھے۔لیکن کیا یہ واقعہ ہے؟واقعات کو جواب نفی میں ہے۔
ریاضؔ نے شراب کے مضمون کو اردو زبان میں اپنا لیا ہے جو لوگ شراب پی پی کر شعر کہتے ہیں اور شعر کہہ کہہ کر شراب پیتے ہیں ان کے ہاں بھی شراب کے مضامین میں وہ بے ساختگی،وہ اداۓ بیاں،وہ جزبات و ندرت نہیں ملے گی جو ریاضؔ کے ہاں نظر آتی ہے۔اردو زبان میں خمریات کو فن کی حیثیت سے فروغ دینے والے ریاضؔ ہی ہیں۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی زبان تک اس آتش سیال کا ایک قطرہ بھی نہیں گیا۔اس زمانے میں بھی نہیں جب وہ یکسر شباب و شعر بنے ہوۓ تھے اور اس وقت بھی نہیں جب تقدیس اور ریاضؔ ہم معنی الفاظ ہو کر رہ گۓ تھے۔انہیں شراب سے
اتنی ہی نفرت تھی جتنی ایک مرد مومن کو ہو سکتی ہے۔




مٹتے ہوئے دیکھی ہے عجب حسن کی تصویر.. اب کوئی مرے مجھ کو ذرا غم نہیں ہوتا..
کعبہ سنتے ہیں کہ گھر ھے بڑے داتا کا ریاض
زندگی ھے تو فقیروں کے بھی پھیرے ہوں گے
Zabardast