857ء کے ناکام انقلاب سے متاثر ہو کر دلی کی بربادی …

؎ تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ
نہ سنا جاۓ گا ہم سے یہ فسانہ ہر گز
داستاں گل کی خزاں میں نہ سنا اے بلبل
ہنستے ہنستے ہمیں ظالم نہ رلانا ہر گز
ڈھونڈتا ہے دل شوریدِ بہانے مطرب
درد انگیز غزل کوئی نہ گانا ہر گز
صحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گی
کوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہر گز
موجزن دل میں ہیں یاں خون کے دریا اے چشم
دیکھنا ابر سے آنکھیں نہ چرانا ہر گز
لے کے داغ آۓ گا سینے پہ بہت اے سیاح
دیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہر گز
چپے چپے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاک
دفن ہو گا کہیں اتنا اتنا نہ خزانا ہر گز
مٹ گۓ تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تو
اے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہر گز
وہ تو بھولے تھے ہمیں ہم نے بھی انھیں بھلا دیا
ایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانہ ہرگز
جس کو زخموں سے حوادث کے اچھوتا سمجھیں
نظر آتا نہیں ایک ایسا گھرانا ہر گز
ہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخ
ہم پہ غیروں کو تو نہ ظالم نہ ہنسانا ہر گز
یار خود روئیں گے کیا ان پہ جہاں روتا ہے
اُن کی ہنستی ہوئی شکلوں پہ نہ آنا ہر گز
آخری دور میں بھی تج کو قسم ہے ساقی
بھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہر گز
بخت سوۓ ہیں بہت جاگ کے اے دورِ زماں
نہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہر گز
یاں سے رخصت سویرے کہیں اے عیش و نشاط
نہیں اس دور میں یاں تیرا ٹھکانا ہر گز
کبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمھارا دلی
ہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہر گز
شاعری مر چکی اب زندہ نہ ہو گی یارو
یاد کر کر کے اسے جی نہ کڑھانا ہر گز
غالبؔ و شیفتہؔ و نیروؔ آزردہؔ و ذوقؔ
اب دکھاۓ گا یہ شکلیں نہز مانا ہر گز
مومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعد
شعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہر گز
کرو یا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کو
ورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانا ہر گز
داغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں
نہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہر گز
رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبر
اب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانا ہر گز
بزم ماتمِ تو نہیں ، بزمِ سخن ہے حالیؔ
یاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہر گز




