منتخب غزلیں

اب کے بچھڑا ہے تو کچھ نا شادماں وہ بھی تو ہے دھوپ …

اب کے بچھڑا ہے تو کچھ نا شادماں وہ بھی تو ہے
دھوپ ہم پر ہی نہیں بے سائباں وہ بھی تو ہے

شکوۂ بیدادِ موسم اُس سے کیجیے بھی تو کیوں
کیا کرے وہ بھی کہ زیرِ آسماں وہ بھی تو ہے

اور اب کیا چاہتے ہیں لوگ دیکھیں تو سہی
دربدر ہم ہی نہیں ،بے خانماں وہ بھی تو ہے

ایک ہی دستک جہاں چونکائے رکھے ساری عمر
ایک انداز ِ شکست ِ جسم و جاں وہ بھی تو ہے

اس طرف بھی اک نظر اے راہرو منزل نصیب
وہ جو منزل پر لٹا ہے کارواں وہ بھی تو ہے

افتخار عارف


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/