منتخب غزلیں

مُنیرّ نیازی شبِ وصال میں دُوری کا خواب کیوں آیا …

مُنیرّ نیازی

شبِ وصال میں دُوری کا خواب کیوں آیا
کمالِ فتح میں یہ ڈر کا باب کیوں آیا

دِلوں میں اب کے بَرس اِتنے وہم کیوں جاگے!
بلادِ صبر میں، اب اِضطراب کیوں آیا

ہے آبِ گِل پہ عجب، اِس بہارِ گُزراں میں !
چمن میں اب کے گُلِ بے حساب کیوں آیا

اگر وہی تھا، تو رُخ پر وہ بے رُخی کیا تھی
ذرا سے ہِجر میں، یہ اِنقلاب کیوں آیا

بس ایک ہُو کا تماشا تمام سمتوں پر
مِری صَدا کے سفر میں، سراب کیوں آیا

مُنیرؔ نیازی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/