منتخب غزلیں
بات بس سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے …

بات بس سے نکل چلی ہے
دل کی حالت سنبھل چلی ہے
دل کی حالت سنبھل چلی ہے
اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے
اب طبیعت بہل چلی ہے
اشک خونناب ہو چلے ہیں
غم کی رنگت بدل چلی ہے
یا یُونہی بُجھ رہی ہیں شمعیں
یا شبِ ہجر ٹل چلی ہے
لاکھ پیغام ہو گئے ہیں
جب صبا ایک پل چلی ہے
جاؤ اب سو رہو ستارو
دَرد کی رات ڈھل چلی ہے
فیض احمد فیض
منٹگمری جیل ۲۱ نومبر ۱۹۵۳
از:-زنداں نامہ ص ۶۳/۶۴
نسخہ ھائے وفا ص ۲۵۳/۲۵۴
انتخاب
سفیدپوش



