ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا – سعید احمد اخت…

ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا
اس دیس پہ سایہ ہے کسی اور بلا کا
ہر شام سسکتی ہوئی فریاد کی وادی
ہر صبح سُلگتا ہوا صحرا ہے صدا کا
اپنا تو نہیں تھا میں کبھی، اورغموں نے
مارا مجھے ایسا رہا تیرا نہ خدا کا
پھیلے ہوئے ہر سمت جہاںحرص و ہوس ہوں
پھولے گا پھلے گا وہاں کیا پیڑ وفا کا
ہاتھوں کی لکیریںتجھے کیا سمت دکھائیں
سُن وقت کی آواز کو ، رُخ دیکھ ہوا کا
لُقمان و مسیحا نے بھی کوشش تو بہت کی
ہوتا ہے اثر اس پہ دعا کا نہ دوا کا
اس بار جو نغمہ تِری یادوں سے اُٹھا ہے
مشکل ہے کہ پابند ہو الفاظ و صدا کا
اتنی تِرے انصاف کی دیکھی ہیں مثالیں
لگتا ہی نہیں مُلک ترا مُلک خدا کا
سمجھا تھا وہ اندر کہیں پیوست ہے مُجھ میں
دیکھا تو مِرے ہاتھ میں آنچل تھا صبا کا
……………………………………………….
مجوعہ: اب کے بچھڑے کب ملیں
……
سعید احمد اختر کے ایک صاحبزادے امریکا میں رہتے ہیں ، جبکہ بڑے بیٹے خاور احمد کراچی میں انکم ٹیکس کمشنرہیں اورخود بھی شاعر ہیں۔صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے حامل شاعر غلام محمد قاصر انکے داماد تھے
احمد ندیم قاسمی اور سید ضمیر جعفری نے سعید احمد اختر کے بارے میں کہا تھا کہ ان کی شاعری الفاظ کی بازی گری نہیں امکانات کی صورت گری ہے



