منتخب غزلیں
خوابوں کے راہگزر میں رہنا پڑا مجھے تا عمر انتظار م…

خوابوں کے راہگزر میں رہنا پڑا مجھے
تا عمر انتظار میں رہنا پڑا مجھے
تا عمر انتظار میں رہنا پڑا مجھے
شہرِ وجود، جنگ زدہ شہر کی طرح
لیکن اِسی دیار میں رہنا پڑا مجھے
جب دل کے آئنے میں اقامت نہیں ملی
دنیا! ترے غبار میں رہنا پڑا مجھے
مجھ کو تو اپنے آپ میں رہنا عذاب تھا
اب تیرے اختیار میں رہنا پڑا مجھے
میرے یقین و کفر پہ جھگڑا جہاں میں تھا
اور انتظارِ دار میں رہنا پڑا مجھے
اِک سمت قصرِ وہم تھا اک سمت قصرِ زر
دونوں سے بچ کے غار میں رہنا پڑا مجھے
جب دل کے خاک دان میں گھر کر گیا کوئی
پھر تیرے خاک زار میں رہنا پڑا مجھے
نیّر میں لفظ لفظ میں تقسیم ہو گیا
اک ہو کے بے شمار میں رہنا پڑا مجھے
شہزاد نیّر
از:-خوابشَار ص ۱۲۴/۱۲۵
انتخاب
سفیدپوش


