منتخب غزلیں
مظفر حنفی اِسی بِنا پہ، سب احباب نے کِنارا کِیا ک…

مظفر حنفی
اِسی بِنا پہ، سب احباب نے کِنارا کِیا
کہ، ہم نےدھارے میں بہنا نہیں گوارا کِیا
ندی کے بیچ، ہے ناسُور سا جو اِک منجدھار
وہاں سے، کوئی مُسلسل مجھے پُکارا کِیا
اندھیری رات کی سوغات جس نے بخشی ہے
اندھیری رات میں، ہم نے اُسے سِتارا کِیا
جہاں کسی نے قصیدے پڑھے بہاروں کے
خزاں نے دیر تلک تذکرہ ہمارا کِیا
کِھلے وہ پُھول سے، ہم اُڑ چلے کہ خوشبُو ہیں
اُدھر کو، بادِ سَحر نے جِدھر اِشارا کِیا
خطر پسند ہیں، دو چار حادثوں کے لیے
نہ وسوَسے میں پڑے ہم، نہ استخارا کِیا
مُظفؔر آپ اگر محوِ خواب تھے کل رات
توپِھر یہ تودۂ شب کِس نے پارا پارا کِیا
مظفؔر حنفی


