منتخب غزلیں

اب دل بھی دُکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی حیرت ہے کسی ب…

اب دل بھی دُکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی
حیرت ہے کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی

اب درد بھی اک حد سے گزرنے نہیں پاتا
اب ہجر میں وہ پہلی سی وحشت نہیں ہوتی

ہوتا ہے تو بس ایک ترے ہجر کا شکوہ
ورنہ تو ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی

کر دیتا ہے بے ساختہ بانہوں کو کُشادہ
جب بچ کے نکل جانے کی صورت نہیں ہوتی

دل خوش جو نہیں رہتا تو اس کا بھی سبب ہے
موجود کوئی وجہِ مسرت نہیں ہوتی

یوں برسرِ پیکار ہوں میں خود سے مسلسل
اب اس سے الجھنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی

اب یوں بھی نہیں ہے کہ وہ اچھا نہیں لگتا
یوں ہے کہ ملاقات کی صورت نہیں ہوتی

یہ ہجرِ مسلسل کا وظیفہ ہے مری جاں
اک ترکِ سکونت ہی تو ہجرت نہیں ہوتی

دو چار برس جتنے بھی ہیں جبر ہی سہہ لیں
اِس عمر میں اب ہم سے بغاوت نہیں ہوتی

(اکرم محمود)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/