مختصر کہانیاں

#توہی_عشق_توہی_جنون #ازصاحبہ_فردوس #ساتویں_قسط …

#توہی_عشق_توہی_جنون
#ازصاحبہ_فردوس
#ساتویں_قسط
تبھی مرتضی اس کے پاس آیااوردھیرےسےا س کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئےبولا۔
"کیابات ہے آج تمہارے چہرے سے وہ خوشی نہیں جھلک رہی جو ہماری منگنی طے ہونے کے وقت جھلک رہی تھی "۔اس کی بات سن کر عمائمہ بے رخی سے بولی ۔
"مرتضی وقت ایک جیسانہیں ہوتا ہے وہ وقت میرے لیے بہت خاص تھاجب تم میری زندگی میں بہار بن کر آئے تھے مگر آج کا یہ وقت جو لمحہ بہ لمحہ سرکتے جارہاہےاور ہمیں احساس
بھی نہیں ہونے دے رہاہے کے ہم کیا کھو رہے ہے کیاپار ہے یہ وقت بہت بدل گیاہے یہ وقت مجھے شدت سے احساس دلارہاہے کے میں بہت کچھ کھورہی ہومرتضی میں ہمیشہ اس ہی وقت میں جینا چاہتی ہوجس میں تم میرے ساتھ ہومیں اس ہی لمحہ میں جیناچاہتی ہو تم کہے رہ تھے نا کے میں خوش نظر نہیں آرہی ہو تو ہاں میں خوش نہیں ہو کیونکہ مجھے ایسا لگ رہاہے کے بہت جلدی میری یہ ساری خوشیاں خاک میں مل جائے گئی تم مجھ سے بہت دور ہوجاؤ گےبس اس ہی لیے میں اس آنے والے وقت کو سوچ کر ڈر رہی ہو اس لیے میں خوش نہیں ہو "۔ناچاہنے کے باوجود آخر میں اس کی آنکھوں سے آنسوں نکل گے تھے مرتضی اسے اپنے لیے اتنا جذباتی ہوتادیکھ کر حیران ہوگیاوہ نہیں جانتا تھا کے و ہ اس سے اتنی شدت سے محبت کرتی ہے مر تضی نے اسےاپنے سامنے کیااوراس کے آنسوں اپنے ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے بولا۔
"مت ڈروں اس آنے والے وقت سے مت سوچاکرو ایسی باتیں جو تمہیں دکھ دیتی ہے مت سوچوں کے میں کبھی تم سے دور جاؤگا تم سے جدا ہونے کا تصور ہی میرے لیےایسا ہے جیسے خود ہوکر اپنی موت کو دعوت دینا میں وعدہ کرتا ہومیں کبھی تمہیں تنہاکرکے نہیں جا ؤ گااور تم بھی وعدہ کر و کے تم مجھ سے ایسی ی شدت سے محبت کروگی”۔مرتضی کی زبان سےمحبت لفظ سن کر وہ اپنی جگہ ہونق بنی اسے دیکھتی ر ہ گئی اور اس لمحہ سوچنے لگی کے کیاو ہ
سچ میں مرتضی سے محبت کرتی ہے یا پھر ارشمیل کے ساتھ زبردستی کے رشتے میں بندھ کر کیااس کے لیے دل کے جذبات بدل گے ہے کیااس کا دل ارشمیل کے لیے بے ایمان ہورہاہےکیااس کا جنون اس کے سر چڑ کر بول رہاہے کیاوہ اس کے حواسوں پر دھیرے دھیرے ہی صحیح سوار ہورہاتھاایک پل کواس کی نظروں کے سامنے سے مرتضی کاچہرہ دھندلاگیاتھااور ارشمیل کا تمسخر آڑاتا ہوا چہرہ سامنے آگیا اس نے جلدی سے اپنےبے قابو ہوتے ہوئے دل کو سنبھالااور مرتضی کے بڑھے ہوئے ہاتھ کے طرف اپناہاتھ بڑھادیا تھامرتضی نےاس کاہاتھ تھام لیا اور اس پراپنے لب رکھ دیایہ دیکھ کراس کادل نئے سرے سے مرتضی کے لیے دھڑکنے لگا تھا۔
٭٭٭
دیکھتے ہی دیکھتے ان کی شادی کو صرف چاردن باقی رہ گے تھے مرتضی نے چار دن پہلے سے فائی اسٹار ہوٹل بک کرلیاتھااس کہنا تھاشادی صرف ایک بار ہوتی ہے اس لیے وہ اپنی شادی کو بہت یاد گار بنانا چاہتا تھا عمائمہ نے اتنا خرچا کرنے سے اسے منع بھی کیاتھامگروہ نہیں مانا تھا اس نے عمائمہ کے لیے ایک سے بڑھ کرایک مہنگی ترین چیزیں خریدہ تھاوہ اسے خود پراتنا
پیسہ خرچا کرتا دیکھ کر حیران ہوئے بنا نا رہ سکی تھی کیونکہ آج سے پہلے مرتضی نے کبھی بھی
اس پر اتنا بے تحاشہ پیسہ خرچ نہیں کیاتھا کیونکہ اس کی اتنی حثیت نہیں تھی اس نے ایک دو بار
مرتضی سے پوچھا بھی تھا کے وہ اتناپیسہ کہاسے لارہاہے کئی وہ کوئی غلط طریقہ تو نہیں اپنارہاہے مگر
مرتضی نے بہت ہی پیار سے اسے اعتماد میں لیتے ہوئے کہاتھا۔
"نہیں جان میں کیوں کوئی غلط طریقے سے پیسہ کماؤگا یہ تو میری کمپنی کو بہت بڑا انویسٹر مل گیا
ہے اس لیے اب میرے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے "۔اس کی بات عمائمہ کو سچ لگی تو اس نے
کچھ نہیں کہاتھا وہ تو یہ سوچ کر پریشان تھی کے ارشمیل کیوں اتنا خاموش بیٹھاہے کیا وہ
کوئی بہت بڑی پلاننگ کررہا ہے اسے ارشمیل کی خاموشی بہت کھل رہی تھی کیونکہ اس کی خاموشی بتارہی تھی کہ بہت بڑا طوفان آنے والا ہے اس کی زندگی میں کیونکہ اس دن کے بعد سے ارشمیل اسے نظر بھی تو نہیں آیاتھا ۔
آج اس کی مایوں تھی اس نے اپنی مایوں کے لیے مرتضی کے پسند کا پیلے رنگ کا لہنگا لیا اس پر
پیلے ہی رنگ کا ہلکا سا ورک کیا ہوا دوپٹہ تھااس نےہلکا سا میک آپ کیا تھااور اس پر ہلکی سی جیولری کاانتخاب کیا تھا اور اپنے لمبے بالوں کو کھولا چھوڑ دیا تھا وہ اس روپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے خوبصورت سراپے کو دیکھ رہی تھی کے تبھی اس
کادل چاہاکے وہ ایک سیلفی لے تواس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکراپنی سیلفی کلک کیااور انسٹاگرام پراپلوڈ کردیا اس کےتصویراپلوڈ کرتے ہی ارشمیل کا میسیج آگیا۔
"ایسی تصویریں صرف اپنے محرم کو ہی دیکھایاکرتے ہے "۔ارشمیل کا میسیج پڑھ کراسے بہت غصہ آیا اس نے نفرت سے میسیج ٹائپ کیا۔
"صحیح کہاتم نے ایسی تصویریں صرف اپنے محرم کو ہی دیکھایاکرتے ہے اس لیے تو میں نے یہ تصویر مرتضی کے لیے اپلوڈ کیا ہے کیونکہ وہ بھی تو میرا ہونے والا محرم ہے "۔ میسیج کے ساتھ ہی اس نے غصے سے لال والا Emoji سینڈ کیاتوارشمیل نے بھی اس کے میسیج کاریپلائی ہنسی والاEmoji سینڈ کرتے ہوئےدیا۔
” یہ بات تو تم بھی جانتی ہواور میں بھی کے تمہارا محرم کون ہے اورمیری بات یاد رکھنا کے رخصت ہوکرتو تم میرے ہی گھر آوگی”۔اس کا میسیج پڑھ کر عمائمہ ڈبل غصے میں آگئی اس کادل چاہاوہ اپنا موبائیل توڑ دے مگر اس نےاپنا موبائیل توڑنے کے بجائے اسے زچ کرنے کااردہ باندھا اور اسکے میسیج کا ریپلائی دیا ۔
” تم لاکھ کوشش کرو مگر میں تمہاری ہرکوشش کو ناکام کردوگی میں تمہیں مرتضی سے شادی کرکے بتادوگی کے زبردستی بنائے گئے رشتوں کا یہی انجام ہوتا ہے "۔یہ میسیج سینڈ کرکے اس
نے ارشمیل کوانسٹاگروم پر بلاک کر دیاتھایہ دیکھ کر ارشمیل کواتناغصہ آیاکے اس نے اپناموبائیل اتنے زور سے دور اچھالا کے اس کاقیمتی موبائیل دیوار سے ٹکرایا اور کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا کچھ دیربعد جب غصہ شانت ہوا تو وہ اپنی بیوی کی مایوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہوگیا مایوں کی مناسبت سے اس نے وائٹ کلر کاکرتا پاجامہ پہنا تھا جیل سے اپنے بالوں کو سیٹ کیااور خوب سارا پر فیوم اسپرے کرتے ہو ئے وہ ہال میں اپنی کار کی چا بی لینے کے لیے آیاتو اسے گھر میں کوئی نظر نہیں آیا تبھی اس نے اپنے سامنے سے گزرتے ہوئے ملاز م سے گھر والوں کے بارے میں دریافت کیا۔
"سنو سب لوگ کہا گئے ہے "۔اس کے سوال پر ملازم نے سر جھکاکر کہا۔
"جی سر احدسر اور میڈم تو صبح سے ہی ہوٹل چلے گئے ہے اور بڑے صاحب بڑی بیگم ابھی ابھی گھر سے نکلے ہے "۔اس کی بات سن کر ارشمیل نے اسے جانے کا حکم دیا تو ملازم جیساآیا تھا ویسے ہی چلا گیا وقار صاحب اور شہلابیگم کل رات کی فلائٹ سے انگلینڈ سےواپس آئے تھے عمائمہ کی شادی میں شریک ہونے کے لیے انھیں جب پہلی بار پتا چلا تھا کے عمائمہ مرتضی کے ساتھ انگیجڈ ہے تو انھیں بہت دکھ ہواتھا وہ تو عمائمہ کو ارشمیل کے لیے سوچ بیٹھے تھے مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا شہلابیگم نےکل گھر آتےسے ہی ارشمیل پر اپنادکھ ظاہر کیا تھا سب سے ملنے ملانے
کے بعد وہ ارشمیل کے پاس آئے تھے اور بولنے لگے۔
” ارشمیل تمہیں پتا ہے میں نے اور تمہارے ڈیڈ نے تمہارے لیے عمائمہ کو پسند کیا تھا مگر ہمیں نہیں پتا تھا کے وہ پہلے سے ہی انگیجڈ ہے جب ہمیں عدینہ کے منہ سے یہ بات پتا چلی تو بہت دکھ ہوا تھا خیر جانے دو ہم تمہارے لیے اس سے بھی اچھی لڑکی تلاش کرے گے اور اس بار تمہاری بھی شادی کرکے ہی واپس جائے گے "۔ان کی بات سن کر ارشمیل نے کچھ نہیں کہا تھا وہ تو بس مسکرا کرانھیں دیکھتا رہ گیا تھا ۔
وہ جب ہوٹل پہنچاتھاتب مایوں کا فنکشن شروع ہوچکا تھا اس نے دیکھا کے عمائمہ مایوں کے پیلے ڈریس میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی آج اس کے چہرے پر ایک الگ ہی طرح کی رونق در آئی تھی وہ جو کچھ دن پہلے کافی کمزور اور پریشان لگ رہی تھی آج اتنی ہی فریش اور پر اعتماد نظر آرہی تھی مرتضی اور عمائمہ کو ایک دوسرے کے قریب بیٹھایاگیا تھا مرتضی کےطرف سے جو مہمان مدعو تھیں وہ باری باری سے ان دونوں کو ہلدی لگا رہ تھے عمائمہ کا عدینہ اور اس کےسسرالی رشتے دار کے علاوہ کوئی قریبی رشتے دار نہیں تھا اس لیے باقی کی دوسری رسمیں شہلابیگم نے اور عدینہ نے مل کر پوری کیے تھے وہ دیکھ رہا تھا کے مرتضی عمائمہ کے کان میں سر گو شیاں کررہا تھااور وہ اس کی سر گوشیوں پرشرمارہی تھی اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بیوی کو
کسی اور سے عشق فرماتا دیکھ کراس کی آنکھیں غصے سے لال ہوگئی تھی ایسا لگ رہاتھاجیسےاس کی آنکھوں میں کسی نے مرچیاں کوٹ کر ڈال دیا تھا کسی کی کھڑی نظریں خود پر مرکوز پاکر عمائمہ نظریں اٹھانے پر مجبور ہو گئی تھی اس نے جب دیکھا کے وہ اسے کھڑی نظروں سے گھوررہاہے تووہ اس کی نظروں کی تاب نا لا سکی تھی اس نے اپنی نظریں پھیرلیااور ایسے انجان بن گئی جیسے وہ اسے سرے سے جانتی ہی نا ہو ارشمیل اپنے جگہ سے اٹھ کر چلا گیا تو تب جاکرعمائمہ کے دل کو سکون ملا مگراسے یہ بھی ڈر کھائے جارہا تھا کے وہ کیسے اتنا خاموش ہے وہ جتناارشمیل کو جانتی تھی وہ خاموش رہنے والوں میں سے نہیں تھا پھر اب کیو ں اتنا خاموش ہوکر رہ گیا تھااسے شک ہوگیاتھاکے اس کی خاموشی کے پیچھے بہت بڑا طوفان چھپاہواہے جوشایداس کی شادی والے دن ہی آئے گا مایوں کے فنکشن مییں شریک ہونے والے سبھی مہمان دھیرے دھیرے کرکے جارہے تھے اب ہوٹل کے ہال میں چند ہی لوگ بچے تھے وہ اپنی سوچوں میں اتنی گم ہوچکی تھی کے اسے پتا ہی نہیں چلاکے مرتضی اسے کیا کہے رہا ہے اسے غیری سوچ میں ڈوبادیکھ کر مرتضی نے اسے اپنے کونی سے دھکا دے کراپنے طرف متوجہ کیااور بولا۔
"کن سوچوں میں گم ہو”۔ اسکے دھکادینے پروہ ہوش میں آئی اور مسکراتے ہوئے بولی ۔
"نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی سب کو دیکھ رہی تھی”۔اس نے دھڑلے سے جھوٹ بول دیا ۔
"اگریہی بات ہے تو پھر ٹھیک ہےورنہ کوئی دوسری بات جو تمہیں پریشان کررہی ہے اور تم مجھے نہیں بتارہی ہو تو پلیز بتادو میں شاید تمہارادکھ کم کر سکوں "۔
"نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہےوہ بس میں بیٹھے بیٹھے تھک چکی ہواس لیے”۔اس نے ایک دفعہ پھراس سے جھوٹ کہا تھا۔
"یہ بات تھی تو تم نے مجھے پہلے ہی بتادیا ہوتا چلوابھی اٹھوں میں تمہیں روم میں چھوڑ دیتا ہو "۔اسے ہمیشہ سے مرتضی کاایسا کئیرنگ انداز بہت پسند تھااس لیے وہ شایداسے پسند کرتی تھی اس نے وہاں موجودان چندلوگوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
” نہیں مرتضی ابھی مہمان گے نہیں ہے "۔
"نہیں گے ہے توکیااب تم ان کے جانے تک کاانتظار کرتے رہوگی چلوں ابھی کے ابھی اٹھوں میں نہیں چاہتا ہو کے تم ہماری شادی والےدن بیمار پڑھ جاؤ”۔اس کی بات سن کرعمائمہ مسکرا پڑی تھی پھراس نے مرتضی کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھا م لیااور اپنے روم تک آگئی وہ ابھی روم میں ہی جانےلگی تھی کے مرتضی نے پیچھے سےاسے آواز لگایا۔
"عمائمہ سنو”۔اس کے بےقراری سے پکارنے پروہ فوراًمڑی تھی تبھی وہ اس کے قریب آیااور اس کے چہرے پر ہلدی لگاتے ہوئے بولا۔
"میں نے سوچا سب نے تمہیں ہلدی لگایاتو میں بھی تمہیں ہلدی لگاؤ”۔اس کی مدہم سرگوشی نے عمائمہ کی کان کی لہوں تک کوسرخ کرگئی تھی وہ شرماتے ہوئے اپنےروم میں آگئی اورروم کادروازہ اندارسے بندکردیاتاکہ مرتضی آناجائے وہ مرتضی کے احساس میں اتنی گم تھی کے اسے خبرنہیں ہوئی کے کوئی اسکے روم میں موجود ہے اوراسے گھوررہاہے اس نے اپنادوپٹہ صوفہ پررکھااور خود آئینے کے سامنے آکھڑی ہوئی اوراپنے چہرے پرمرتضی کی تازہ تازہ لگائی گئی ہلدی کودیکھ کرمسکرانےلگی مگر تبھی اس کی نظر بیڈ پرلیٹے ہوئے وجود پر پڑی تووہ مڑ کردیکھنے پرمجبور ہوگئی ارشمیل بڑےشان سے اس کے بیڈ پربراجمان تھااسے اس وقت اپنےروم میں دیکھ کروہ حیران ہوگئی تھی وہ توسمجھ رہی تھی کے وہ چلاگیاہےمگر نہیں وہ کیسے جاسکتاتھاوہ اسے زچ کیےبنااسے رولائے بنا جاہی نہیں سکتاتھاوہ بنادوپٹے کے ہی غصے سے اس کے پاس آئی اورنفرت سے بولی ۔
"یہ کیابدتمیزی ہے تم یہاں کیاکررہ ہو کس نے ایجازت دیاہے تمہیں میرے روم میں آنے کی”۔اس کی بات سن کرارشمیل نے کوئی ردےعمل ظاہرنہیں کیاتھاوہ چپ چاپ بیڈ پرسے اٹھ کراس کے پاس آیااور اس کے گرد اپنا آہنی حصارہ باندھتے ہوئے اس کے کان میں سر گوشی کرتے ہوئے بولا۔
"مبار ک بیوی آج ہماری ہلدی کا فنکشن بھی ہوگیا "۔وہ سب اتنا غیرمتوقع ہواتھا کے وہ اس سے اپنا آپ چھڑا بھی نا سکی تھی مگر تبھی اس نے خود کواس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوےبولی ۔
"کیوں کررہ ہوتم یہ سب کیاثابت کرنا چاہتے ہو تم کہ میں ۔۔۔”وہ ابھی آگے بھی کچھ بولناچاہ رہی تھی کے تبھی ارشمیل نے اس کی بولتی ہوئی زبان پراپنا ہاتھ رکھا اور خود بولا۔
"شش ایک لفظ نہیں میں آج کے دن میں کسی طرح کا جھگڑا نہیں کرناچاہتا ہو کیونکہ آج میری دلہن کی ہلدی تھی "۔اتناکہےکروہ اس کے چہرے پرجھک گیااور اس کے گال پر جوتازہ تاز ہلدی لگی ہوئی تھی وہ اپنے گال پرلگانے لگا یہ سب عمائمہ کے لیے بہت عجیب تھاوہ اس کی قربت سے گھبراگئی تھی تبھی اسے دھکادے کرپیچھے کیااورنفرت سے بولی ۔
"کیوں آتے ہوتم میرے قریب کیوں بار بار مجھے احساس دلاتے ہوکے تم نے مجھ سے ایک زبردستی کارشتہ باندھا ہواہے کیوں میراجینا حرام کررہ ہو میں تمہارے آگےہاتھ جوڑتی ہومیری زندگی سےچلے جاؤ مجھے جینے دو "۔اس کی اتنی لمبی چوڑی تقریر کاارشمیل پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوا تھا وہ دو بارہ سے اس کے پا س آیااور اس کاہاتھ اپنے فولادی ہاتھ میں لے کر سختی سے اسے دباتے ہوئے بولا۔
"کیوں تمہیں میرے قریب آنے سے وحشت ہوتی میں تمہارے اس لیے قریب آتاہوکیونکہ میں نے زبردستی ہی صحیح تم سے اپنا جائز رشتہ اسطوار کیاہے تم پراپناحق رکھتا ہو شرعی بھی اور قانونی بھی تمہیں میراقریب آنا جائز نہیں لگتا ہے مگر تم کسی غیرمرد سے عشق فرماؤ کسی انجانے شخص کاہاتھ پکڑو تووہ سب جائز ہے میں نے اس سے پہلے بھی کہاتھاکے تم کسی بھی غیر شخص کے ساتھ نظر نہیں آوگی مگر تم نہیں مانی تھی تم نے مجھے اپنے ساتھ غلط کرنے پر خود مجبورکیا ہے اب تم دیکھوں گی کے میں تمہارے ساتھ کیا کیا کرتا ہو صرف تین دن صرف تین دن رہ گے ہے تمہارے سکھ کے اس کے بعد تم ایک بہت برے عذاب میں پھنسنے والی ہو "۔اتنا کہے کروہ چلاگیاتو عمائمہ روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی اسے نہیں پتا تھا وہ اس سے کونسے جنم کابدلہ لےرہاتھا اس کادل چاہ رہاتھا وہ بہت روئے مگر تبھی اس کے دروازے پردست دے کر عدینہ اس کے روم میں آگئی تھی کیونکہ اس کی شادی تک عدینہ اوراسے ایک ہی روم میں رہناتھااس عدینہ کو دیکھ کرجلدی سے آنسو پوچھتے ہوئےوہ ا پنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
٭٭٭
آج اس کی مہندی تھی اس نے خداسے گڑگڑاتے ہوئے دعامانگی تھی کے ارشمیل اس تقریب میں شامل نا ہو اللہ نے شایداس کی دعاقبول کردیاتھا وہ اس تقریب میں آخری تک اسے نظر
نہیں آیاتھااس کے ہاتھوں میں مرتضی کے نام کی مہندی لگ چکی تھی اس کے آس پاس موجود سبھی لڑکیاں اسے مرتضی کے نام سے چھیڑ رہی تھی اور اسکا مارے شرم کے برا حال ہورہاتھا مہندی کافکشن ختم ہونے کے بعد وہ بناارشمیل کے خوف سےاپنے روم میں آرہی تھی کے تبھی مرتضی نے اس کا ہاتھ پکڑ کراسے اپنے روم میں لے آیا مرتضی کواپناہاتھ پکڑے دیکھ کراسے ارشمیل کی کل والی بات یاد آئی تووہ اپنی جگہ خوف زدہ ہوکررہ گئی تبھی اس کی نظر مرتضی پرنہیں پڑی تھی مرتضی نے ایک بہت قیمتی خوبصور ساسیٹ اس کے سامنے لہرایاتووہ دیکھ کروہ چونکے بغیرنہیں رہ سکی تھی ۔
"مرتضی یہ سیٹ تو بہت قیمتی ہے تم نے کیسے خرید لیا”۔اس کی بات سن کر مرتضی نے مسکراتے ہوئے اس سیٹ کو ڈبے سے باہر نکالااوراسے پہناتے ہوئے بولا۔
"یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میری جان تمہارے لیے تو میں اس سے بھی زیادہ قیمتی شے لاسکتا ہو "۔
مرتضی کی گول گھومی پھری ہوئی باتیں کبھی کبھی اس کے سمجھ سے پرے تھی اس لیے وہ زیادہ کھوج بین کیے آئینے کے سامنے آئی اور اپنے گلےمیں پڑے خوبصورت سے نازک سے نیکلس کودیکھتے ہوئے بولی ۔
"مرتضی یہ بہت اچھا ہے مگر تم اسے کل مجھے دینا ابھی تم اسے اپنے پاس ہی رکھوں”۔
"نہیں عمائمہ تم اسے اپنے پاس ہی رکھوں یہ تمہاری امانت ہے اسے تمہارے پاس ہی ہونا چاہئے "۔مرتضی کی بات سن کرمسکراتے ہوئےوہ وہاں سے نکل گئی تھی اس نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب پیش قدمی کی تھی مگر عین اسی موقع پر کسی نے اسے کلائی پکڑ کر کھنچا تھا وہ سب اس کے لیے اتنااچانک تھا کے وہ حیران رہ گئی تھی توزن بگڑنے کی وجہ سے لڑکھڑائی تھی مگر کھنچنے والے نے اس کے گرد اپنا آہنی حصارہ باندھ دیا تھا اب وہ پوری طرح سے اپنے رقیب کے رحم و کرم پر تھی ارشمیل نے اسے سنبھلنے کا موقع دیااور پھراس کی صراحی دور گردن کے طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
"یہ کس نے دیا ہے "۔اس کی بات سن کر ومائمہ بڑے ہی دھٹائی سے بولی تھی ۔
"مرتضی نے دیا ہے "۔یہ سننے کی دیر تھی کے ارشمیل نے اس ہی نیکلس کواس کے گلے کا پھندا بنا دیاتھااس نے اتنی سختی سے عمائمہ کا گلہ دبایاتھاکے وہ اپنی جگہ ہانپتے رہ گئی تھی اس کی سانسیں اکھڑنے لگی تھی مگر اسے رتی برابر بھی پرواہ نہیں تھی عمائمہ نے پورا زور لگاتے ہوئے خود کوارشمیل سے دور کیااب وہ بری طر کھانس رہی تھی تبھی ارشمیل اس کے پاس آیااور بولا ۔
"بس ایک رات بچی ہے اس ایک رات میں تم مجھے روک سکتی ہو تو روک لو کل کاسورج جب نکلے گانا تو میں دنیاوالوں کی نظروں میں ہیرو بن جاؤ گا اور تمہارا وہ سو کالڈ منگتروہ سب کی نظروں
میں ولین بن جائے گااس آخری بار اپنے منگتر کو جی بھر کے دیکھ لو شاید اس کے بعد یہ ملن نہیں ہوگا”۔اس کی بات سن کر عمائمہ بر ی طر ح ڈر گئی تھی اسے پتا تھاارشمیل جیسا بندہ اپنا بدلہ پورہ لینے کے لیے کسی کی جان بھی لے سکتا ہے وہ خود کو سنبھالتے ہوئے اس کے پاس آئی اورگھبرا کر بولی ۔
"کیا۔۔۔کیا کرنے والے ہو تم مرتضی کے ساتھ "۔اس کی بات سن کر ار شمیل اپنی جگہ خوب ہنستے چلا گیا تھا ۔
"بس کل کی صبح ہونے کاانتظار کرؤ”۔اتنا کہے کروہ چلا گیااور عمائمہ اپنی جگہ پر سن سی کھڑی رہ گئی ۔
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/