پیامِ مشرق شعرِ اقبال صد نالہء شب گیرے، صد صبحِ …

شعرِ اقبال
صد نالہء شب گیرے، صد صبحِ بلا خیزے
صد آہِ شرر ریزے، یک شعرِ دل آویزے
ترجمہ
رات بھر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں آفت لانے والی صبحیں، سینکڑوں شعلے پھینکنے والی آہیں ایک طرف اور ایک دل کو لبھانے والا شعر ایک طرف۔
شعرِ اقبال
در عشق و ہوسناکی دانی کہ تفاوت چیست؟
آں تیشہء فرہادے، ایں حیلہء پرویزے
ترجمہ
عشق اور ہوس کے درمیان جانتا ہے کہ کیا فرق ہے؟ عشق فرہاد کا تیشہ ہے اور ہوس پرویز کا مکر و فریب۔
شعرِ اقبال
با پردگیاں بر گو کایں مشتِ غبارِ من
گردیست نظر بازے، خاکیست بلا خیزے
ترجمہ
فرشتوں سے کہہ دو کہ میری یہ مشتِ غبار، ایک گرد ہے لیکن نظر رکھنے والی، ایک خاک ہے لیکن طوفان اٹھانے والی۔
شعرِ اقبال
ہوشم برد اے مطرب، مستم کند اے ساقی
گلبانگِ دل آویزے از مرغِ سحر خیزے
ترجمہ
اے مطرب میرے ہوش اڑا دیتی ہے، اے ساقی مجھے مست کردیتی ہے، سحر کے وقت پرندے کی دل کو لبھانے والی آواز۔
شعرِ اقبال
از خاکِ سمر قندے ترسم کہ دگر خیزد
آشوبِ ہلاکوے، ہنگامہء چنگیزے
ترجمہ
میں ڈرتا ہوں کہ پھر اٹھے گا سمرقند کی خاک سے، ہلاکو خان کا فتنہ اور چنگیز خان کا ہنگامہ۔
شعرِ اقبال
مطرب غزلے بیتے از مرشدِ روم آور
تا غوطہ زند جانم در آتشِ تبریزے
ترجمہ
اے مطرب مرشدِ روم کی کوئی غزل، کوئی شعر لا، تاکہ میری جان شمس تبریز کی آگ میں غوطہ زن ہو۔
۔
صریرِ خامۂ وارث – محمد وارث



