#لذتِ_عشق #از_سنیا_چوہدری #قسط_نمبر_15 وہ لو…

#از_سنیا_چوہدری
#قسط_نمبر_15
وہ لوگ مری پہنچ کر کچھ دیر کے لیے آرام کرنے چلے گئے وفا اور سارا تو سو گئی تھیں جب سو کر اٹھیں تو باہر ا گئیں کافی سٹوڈنٹ تھے وہ لوگ مال روڈ پڑ تھے سارا اور وفا الگ تھیں جب کے حرم اپنی دوستوں کے ساتھ تھی مال روڈ کے کنارے پڑ کوئی بارڈر نہیں تھا نیچے دیکھنے پڑ گہرائی نظر آتی تھی اور سبزہ ہر جگہ درحت تھےوہ لوگ تصویریں بنا رہیں تھیں جب سارا کو اپنے اوپر کسی کی نظروں کا احساس ہوا اسنے دیکھا تو تین لڑکے کھڑے تھے جن کے ہاتھ میں سگریٹ تھے سارا نے وفا کو اشارہ کیا وہ دونوں آگے چلنے لگیں جب کے وہ لڑکے بھی ان کے پیچھے ارہے تھے گھبراہٹ میں سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کے کیا کریں وفا کے دماغنے کچھ کام کرنا شروع کیا تو اس نے ہاتھ میں پکڑے موبائل سے کچھ ٹائپ کیا اور اب بس اسے انتظار تھا وہ لوگ اب بھی ان کے پیچھے آرہے تھے اور اب تو انہوں نے آہستہ آہستہ آواز میں باتیں بھی شرو ع کر دیں تھیں اتنے میں وفا کو آواز آئ
آپ لوگ یہاں کیا کر رہی ہیں اور گروپ تو آپکا پیچھے ہے کافی (ان دونوں نے دیکھا آریان کھڑا تھا جبکے وہ لڑکے پیچھے کی طرف مڑ گئے تھے
وہ ہمیں پتا ہی نہیں چلا کے ہم زیادہ آگے نکل آے ہیں (وفا نے کہا
دھیان رکھا کریں اور آپنے گروپ کے ساتھ رہا کریں اگر اب میں نا آتا یہاں پھر چلیں اب (آریان نے فکرمندی سے کہا وہ دونوں اسکے آگے اگے چلنے لگیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
رات کو کھانا کھانے کے باد سارا تو سو گئی لیکن وفا کو نیند نہیں آرہی تھی ابھی مشکل سے اسکی آنکھ لگی تھی کے اسکا موبائل بجا اسنے نمبر دیکھ کر کال اٹھائی
میں ویٹ کر رہا ہوں نیچے آجاؤ
اوکے (وفا نے لمحے بھر کی خاموشی کے بعد کہا کے شائد کوئی بات کرنی ہو
اسنے ایک نظر سوئی ہوئی سارا کو دیکھا اور باہر آگئی آریان کھڑا تھا وہ اسکے پاس گئی
کوئی کام تھا آپ کو (وفا نے اس سے پوچھا
کیا میں جام کے علاوہ تمہیں نہیں بلا سکتا
تو پھر
میرا دل کر رہا تھا کے کافی ہو میری زندگی ہو اور میں اسکے ساتھ واک کروں
آپ کو اس ٹائم اتنی سردی میں واک کی پڑی ہے (وفا نے غصے سے کہا
ہاں اسی موسم کا تو مزہ ہے (آریان نے کہا وفا آگے سے کچھ نا بولی وہ دونوں خوبصورت ٹریک پڑ واک کر رہے تھے اور ہاتھ میں کافی کے کپ تھے کبھی کبھی آریان بات کر لیتا
اب وفا جو سردی لگ رہی تھی کیوں کے وہ جلدی میں شال لینا ہی بھول گئی آریان نے وفا کے نیلے پڑتے ہونٹ دیکھے تو آپنے اوپر لی ہوئی شال کی ایک سائیڈ پکڑ کر وفا کے اوپر دی اور اسکے گرد اپنی باہوں کا حصار باندھ لیا
مجھے سردی نہیں لگ رہی (وفا نے گھبراتے ہوے کہا
ہاں نظر آرہا ہے کے تمہیں سردی نہیں لگ رہی یہ ہونٹ تو شوقیہ طور پڑ نیلے ہی رہے ہیں نا
(آریان کے کہنے پڑ وفا خاموش ہو گئی کافی لوگ انہیں رشک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ہوٹل آ کر آریان نے اسے آپنے حصار سے آزاد کیا
کل اسی ٹائم میںانتظار کروں گا اللہ حافظ
اللہ حافظ )وفا نے کہا اور اندر کی طرف بڑھ گئی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے دن وہ لوگ نتھیا گلی گئے گھوڑسواری کی ایوبیہ گئے اور مری کے مختلف مقامات پے گے برف باری ہو رہی تھی جسے سب نے بہت انجوے کیا لیکننتیجے میں سب کو زکام اور بحا ر ہو گیا اس دن بھی آریان اور وفا نے واک کی لیکن وفا اپنی شال لے کے جانا نا بھولی
اگلے دن انہوں نے اسلام آباد روانہ ہونا تھا وفا کی آنکھ دیر سے کھلنے کی وجہ سے جلدی جلدی ساری چیزیں سمیٹیں وہ لوگ جلد ہی روانہ ہو گئے پہلے لیک ویو پارک گئے سب نے رائیڈز لیں اور بوٹنگ کی شام کو وہ لوگ مونال ہوٹل اسلام آباد ا گئے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Apni ray ka izhar zroor kren
جاری ہے


