مختصر کہانیاں

#لذتِ_عشق #از_سنیا_چوہدری #ناول_ہی_ناول #قس…

#لذتِ_عشق
#از_سنیا_چوہدری
#ناول_ہی_ناول
#قسط_نمبر_11

پورا لیکچر وفا کو تو اپنی سب کے سامنے کی جانے والی بےعزتی کادکھ رہا باقی دن بھی بور گزرا پہلے تو اسکا جب دل کرتا لیکچر چھوڑ کر ہوسٹل چلی جاتی کیوں کے ہوسٹل پاس ہی تھالیکن اب تو جب تک سارے لیکچر نا ہو جاتے تب تک جا بھی نہیں سکتی تھی وہ گھنٹے بھر سے فری ہو کے بیٹھی ہوئی تھی اور آریان کی کال کا ویٹ کر رہی تھی اور اب تو سارا بھی جا چکی تھی بالآخر کچھ دیر بعد وفا کا فون رنگ کیا دیکھا تو آریان کا ہی میسج تھا اسنے شکر کا سانس لیا اور گیٹ کی طرف چل پڑی آگے آریان گاڑی میں بیٹھا اسکا منتظر تھا وفا نے فرنٹ ڈور کھولا اور اپنی چیزیں سمبھالتی بیٹھ گئی
آریان نے گاڑی سٹارٹ کر کے روڈ پر ڈالی
"کیسا گزرا آج کا دن” (آریان نے سامنے دیکھتے ہوے پوچھا
"کیساگزر سکتا تھا آپ نے کوئی کسر چھوڑی تھی” (وفا ناچاہتے ہوے بھی شکوہ کر گئی
” تو تمہیں برا لگا میرا ڈانٹنا”(آریان نے اسے دیکھتے ہوے پوچھا
"کیا فرق پڑتا ہے اس سے آپ نے کرنا تو وہی ہوتا ہے جو آپ کا دل کرتا ہے دوسروں کی پروا آپ کب کرتے ہیں” (وفا جو اس وقت کی بھڑ ی بیٹھی تھی اسکےپوچھنے پڑ پھٹ پڑی
آریان نے گاڑ ی سائیڈ پے روکی اور وفا کی طرف دیکھا جو کے اب آنسو بہانے میں مصروف تھی اسکےدل کو کچھ ہوا
"وفا ادھر دیکھو” (آریان نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا
"اس میں رونے والی کیا بات ہے مانتا ہوں کے زیادہ ڈانٹ دیا پڑ جو تم کر رہی تھی وہ بھی تو رولز کے خلاف تھا نا اور اگر میں تمہیں کچھنا کہتا تو یہ دوسرے سٹوڈینٹس کے ساتھ زیادتی ہوتی”
وفا خاموشی سے اسکی باتیں سن رہی تھی
آریان نے نرمی سے اسکے آنسو صاف کیے اور اسکی چمکتی پیشانی پڑ اپنے حلال رشتے کی مہر ثبت کی
جبکے وفاتو اسکی اتنی نزدیکی پڑبوکھلا کر رہ گئی شرم کے مارے چہرہ لال ہو گیا اسنے جلدی سے منہ کھڑکی والی سائیڈ پے کر لیا
"اچھا اب بہت بھوک لگی ہے کچھ کھاتے ہیں” (آریان نے کہتے ہوے گاڑی سٹارٹ کی
کچھ دیر بعد وہ لوگ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوے تھے آریان تو خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا لیکن وفا ادھر ادھر دیکھنے میں مگن تھی
"کیا ہوا کھا کیوں نہیں رہی کچھ اور کھانا ہے” ؟(آریان نے نرمی سے پوچھا
"نہیں بس مجھے بھوک نہیں ہے”
"صبح بھی تم نے کچھ نہیں کھایا تھا اسی لا پرواہی کی وجہ سے تو تم بیہوش ہوتی ہو حتم کرو یہ سارا” (آریان نے اسک پلیٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا
وفا برے برے منہ بناتی کھانے لگی جس پڑ آریان کو ہنسی آرہی تھی لیکن وہ مسکراہٹ ضبط کر کے کھاتا رہا تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آج کافی دن ہو گئے تھے وفا کو بھائی سے بات کیے ہوۓ پڑ وہ ہمت نہیں کر پا رہی تھی بات کرنے کی کے کیسے بتاتی سب کچھ اس وقت بھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب حرم اسکے پاس آئ
"کہاں گم ہو وفا”
وفا جو اپنی سوچوں میں گم تھی حرم کے بولنے پڑ چونک گئی
"نہیں کہیں نہیں ”
"کیا یار بور سی بیٹھی رہتی ہو آؤ نا کوئی اچھی سی مووی دیکھیں ”
حرم کے اسطرح کہنے پڑ وفا کی بیزاری بھی فورن غائب ہوئی
"چلو ٹھیک ہیں تم مووی سلیکٹ کرو میں کچھ کھانے کے لئے لے کر آتی ہوں” (وفا حرم کو کہتی ہوئی کچن کی طرف بڑھی
وہ دونوں مزے سے ساری لائٹ اوف کیےکھڑکیوں کے آگے پردے کیے فل اندھیرا کر کے مووی دیکھنے میں مگن تھیں جب کوئی ہاررسین آتا دونوں کی فلک شگاف چیحیں گونجتیں
یکدم لائٹ اون ہو گئیں
وہ دونوں جو مووی میں مگن تھیںnلائٹ اون ہونے پر دیکھا تو آریان کھڑا تھا
"کیا ہو رہا ہے یہاں” (آریان نے دونوں کو دیکھتے ہوے پوچھا
"کچھ نہیں بھائی ہم تو بس مووی دیکھ رہی تھیں” (حرم نےمسکین شکل بنا کر کہا کیوں کے اسے پتا تھا کے اب کیا ہوگا
"تم دونوں کے تو ٹیسٹ سٹارٹ ہیں نا منڈ ےسے”
"جی بھائی لیکن ہمیں ٹیسٹ آتا ہے ہے نا وفا”
حرم نے وفا سے تائید چاہی
"ہاں ہاں”
"بلکل ان کا تو مجھے پتا ہے کے ان کو آتا ہے ٹیسٹ” (آریان نے وفا کو دیکھتے ہوے کہا
"خیر بند کرو یہ اور اگلے 10 منٹ میں تم دونوں مجھے لایبریڑی میں ملو ود بکس”(اپنی بات کہ کے وہ واپس مڑگیا جبکے وہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھ کے رہ گئیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور اگلے دس منٹ بعد وہ دونوں اپنی اپنی بکس اٹھا ے لایبریڑی میں تھیں حرم کا تو فزکس کا ٹیسٹ تھا اسلئےکچھ ٹوپک اسےسمجھانےاور انکے کانسپٹ حرم سے لینے کے بعد اسکی تو جان بخشی ہو گئی لیکن وفا بیچاری پھس گئی کیوں کے اسکا تو میتھ کا ٹیسٹ تھا جس سے اسکی جان جاتی تھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Apni ray ka izhar zroor kren
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/