منتخب غزلیں

بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر جلالؔ لکھنوی بے…

بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر
جلالؔ لکھنوی
بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر
شرم آنکھ میں پائی نہ گئی تل کے برابر

دشمن کوئی اے یار مرا اور ترا دوست
ہوگا نہ زمانے میں مرے دل کے برابر

دل متصل کوچۂ محبوب ہوا گم
لٹنا تھا پہنچ کر مجھے منزل کے برابر

کم بختیٔ واعظ ہے کہ ہو وعظ کی صحبت
رندان قدح نوش کی محفل کے برابر

ہم پی گئے جو اشک قریب مژہ آیا
کشتی ہوئی جب غرق تو ساحل کے برابر

آہوں کے شرر گرد نہیں داغ جگر کے
تابندہ ہیں اختر مہ کامل کے برابر

پردہ نہ اٹھا قیس نے لیلیٰ کو نہ دیکھا
جھونکا بھی نہ آیا کوئی محمل کے برابر

مقتل میں یہ حسرت رہی اے ضعف پس ذبح
پہنچے نہ تڑپ کر کسی بسمل کے برابر

گھر تک در جاناں سے جلالؔ آئیے کیوں کر
ایک ایک قدم ہے کئی منزل کے برابر


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/