منتخب غزلیں
بانگ درا کی چار اشعار پر مشتمل یہ غزل اقبال کے ابت…

بانگ درا کی چار اشعار پر مشتمل یہ غزل اقبال کے ابتدائی دور یعنی 1904ء سے ہے ، اقبال کی ابتدائی غزلیات. کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کے یہ غزلیں اقبال کی بعد کی غزلوں سے اسی طرح مختلف ہیں جس طرح کہ بال جبریل اور ضرب کلیم کی شاعری بانگ درا سے مختلف ہے –
…..
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
معنی:
گلزار ہست و بود: دنیا کے باغ —
نثر:
فنا و بقا سے مربوط دنیا کہ اے باشعور انسان اجنبیوں اور بیگانوں کے انداز میں نہ دیکھ! یہ تو ایک ایسا عالم رنگ بو ہے جسے بار بار دیکھنے کی ضرورت ہے -اس دنیا کے جملہ عناصر پر غور و حوض ہی لطف و مسرت کا سبب بن سکتا ہے –
….
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
معنی:
شرار: مراد ناپائدار ہستی —
نثر:
غزل کے دوسرے شعر میں بھی انسان کو مخاطب کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں, کہ دنیا میں تیرا وجود ایک ایسی چنگاری کی مانند ہے, جس کی زندگی انتہائی مختصر ہوتی ہے, بیشک تیری زندگی ہی بہت کم ہے ایسا نہ ہو کہ یہ زندگی تجھے فریب دے جائے اور تو اپنے حقیقی مقاصد سے محرووم رہے.
…..
مانا کے تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو مرا شوق دیکھ ، مرا انتظار دیکھ
نثر:
یہ شعر پہلے دو اشعار سے خاصہ مختلف ہے . اس میں اقبال اپنے محبوب کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بے شک میں تیرے التفات و توجہ کے قابل نہیں. پھر بھی میرے شوق اور انتظار کی کیفیت ایسی نہیں کہ بے اعتنائی برتی جائے.
….
کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہگزر میں نقش کف پائے یار دیکھ
نثر:
اس امر میں شک کی گنجائش نہیں. جلوہ محبوب کا نظارہ کرنے کے مذاق و شوق نے تیری آنکھیں کھلی رکھیں ہیں چنانچہ اگر اب مجھے ہر گلی کوچے میں نقش کف پائے یار نظر آ جائے تو پھر کوئی حیرت کی بات نہیں.
….
کلامِ اقبال ترجمہ و شرح
…..
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
معنی:
گلزار ہست و بود: دنیا کے باغ —
نثر:
فنا و بقا سے مربوط دنیا کہ اے باشعور انسان اجنبیوں اور بیگانوں کے انداز میں نہ دیکھ! یہ تو ایک ایسا عالم رنگ بو ہے جسے بار بار دیکھنے کی ضرورت ہے -اس دنیا کے جملہ عناصر پر غور و حوض ہی لطف و مسرت کا سبب بن سکتا ہے –
….
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
معنی:
شرار: مراد ناپائدار ہستی —
نثر:
غزل کے دوسرے شعر میں بھی انسان کو مخاطب کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں, کہ دنیا میں تیرا وجود ایک ایسی چنگاری کی مانند ہے, جس کی زندگی انتہائی مختصر ہوتی ہے, بیشک تیری زندگی ہی بہت کم ہے ایسا نہ ہو کہ یہ زندگی تجھے فریب دے جائے اور تو اپنے حقیقی مقاصد سے محرووم رہے.
…..
مانا کے تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو مرا شوق دیکھ ، مرا انتظار دیکھ
نثر:
یہ شعر پہلے دو اشعار سے خاصہ مختلف ہے . اس میں اقبال اپنے محبوب کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بے شک میں تیرے التفات و توجہ کے قابل نہیں. پھر بھی میرے شوق اور انتظار کی کیفیت ایسی نہیں کہ بے اعتنائی برتی جائے.
….
کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہگزر میں نقش کف پائے یار دیکھ
نثر:
اس امر میں شک کی گنجائش نہیں. جلوہ محبوب کا نظارہ کرنے کے مذاق و شوق نے تیری آنکھیں کھلی رکھیں ہیں چنانچہ اگر اب مجھے ہر گلی کوچے میں نقش کف پائے یار نظر آ جائے تو پھر کوئی حیرت کی بات نہیں.
….
کلامِ اقبال ترجمہ و شرح


