مختصر کہانیاں

#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #تحریر_فرحت_اشتیاق قسط 4 و…

#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو

#تحریر_فرحت_اشتیاق

قسط 4
وہ تو خود پہلے ہی لیلی کے ساتھ جانا چاہ رہی تھی چچی کے خوف سے شوق کا اظہار نہیں کیا اجازت ملنے کی دیر تھی اس نے خوشی خوشی شال سوئٹر رکھ لی سرِشام وہ روانہ ہو گئے ۔دانش اور لیلی اگلی نشست پر تھے وہ پیچھے ان کی باتوں میں شریک تھی لیلی سارا وقت ان لوگوں کو برا بھلا کہتی رہی جو جنگل اجاڑ کے قدرت کے نظام میں خلل ڑالتے ہیں اس کا بس چلتا شکاریوں اور سوداگروں کو پھنسی دلوا دیتی۔عام آدمی اس بارے میں سوچ نہیں سکتا درخت پہاڑ جانور سب مل کر جنگل بناتے ہیں شاید ہم اپنے بچوں کو بتائیں بیٹا ہمارے زمانے ميں ایسا جانور ہوتاتھا چیتا کہلاتا تھا جیسے ہم آج ڈانوسور کے بارے میں پڑھے سنتے ہیں اسکو آج جنگل کے جانوروں کے علاوہ کسی ٹاپک پر بات کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا دانش بھی پتہ نہیں اسکا دل رکھنے یا سچ میں دلچسپی لے رہا تھا پوری رات سفر کرتے رہے کبھی دانش ڈرائیو کرتا کبھی لیلی۔
وہ تھوڑی دیر سو کر تازہ دم ہو چکی تھی پھر ان دونوں کے ساتھ گفتگو میں شریک ہو گئی لیلی کی کسی بات پر قہقہ لگاتے ہوئے اسے لگا جیسے گاڑی پوری قوت سے کسی چیز سے ٹکرائی لیلی اور اسکے منہ سے بلند چیخ نکلی اس سے پہلے کے وہ سنبھلتے گاڑی نے دو تین قلابازیاں کھائی زہین ماؤف ہو چکا تھا گاڑی کے قلابازی سے دروازہ کھل گیا اور وہ کسی بال کی طرح اوچلتی ہوئی جا کر زمین پر گری۔بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے جو منظر دیکھا تھا گاڑی موجود کسی کھائی میں جا گری تھی ۔اسکے بعد اسے ہوش نہیں رہا دماغ مکمل تاریکی میں ڑوب گیا تھا ۔
اسے ہوش آیا تو کتنی دیر پتھر یلی زمین پر پڑی رہی
اسکے سر کے عین اوپر سورج اپنی شعائیں بکھیر رہا تھا
وہ دس پندرہ منٹ یونہی پڑی رہی پھر اچانک یاد آیا کے ان لوگوں کے ساتھ کیا گزری تھی وہ ایک دم اٹھ بیٹھ گئی
پتہ نہیں کسی کی دعا لگی یا مجزہ ہوا تھا اتنےبری طرح گرنے کے باوجود کوئی زیادہ چوٹیں نہیں آئی تھی کہنیاں تھوڑی چھل گئ تھی ابھی بھی خون رس رہا تھا گھٹنے معمولی زخمی ہوئے
وہ اپنی چوٹیں نظر انداز کر کے بھاگتی ہوئی اس کھائی کی طرف آئی جہاں گاڑی گری تھی ۔
نیچے جھک کر دیکھا رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔وہ کھائی تو اسکے تصور سے بھی کہری تھی ۔اچھی طرح نظریں دوڑائیں کے گاڑی کے ہی کوئی اثار ملیں نہ گاڑی نہ ان دونوں کا کچھ پتہ بہت فکر مندی کے ساتھ سوچتے ہوئے تھوڑی دیر گزری ہو گی۔اچانک اسے خیال آیا کے وہ خود کہاں اس وقت موجود ہے ۔یہ کون سی جگہ ہے واپسی کا کون سا راستہ ہے ۔ان سوالات کا انا تھا وہ ان کو بھول بھال کر خود کی فکر میں پڑ گئی ۔ایک ماہ میں تو اسے وہاں کے بارے میں کوئی پتہ نہیں تھا وہ کسی طرح بھی شہری آبادی میں پہنچ جانا چاہتی تھی ۔وہ نہیں جانتی تھی پوری رات سفر کر کے وہ کس قصبے میں ہیں ۔اٹکل سے چلتی رہی چلتے چلتے اسکے پاؤں شل ہو گئے
یہاں تک کے شام کے آثار ہونے لگے ۔وہ بری طرح بے بس ہو کر وہی بیٹھ کر رونے لگی۔اسے لگ رہا تھا وہ یوہی جنگل میں بھٹکتی رہے گی واپسی کا راستہ نہیں ملے گا ۔شاید اب کبھی اپنے گھر والوں سے مل نہیں پائےگی
وہ بہت رو رہی تھی جنگل میں جہاں نہ آدم تھا نہ آدم زاد
یہ سوچ کر ہی وحشت ہو رہی تھی کے یہاں رات کیسے گزارے گی ۔رات تو خود ہی خوفناک ہوتی ہے اوپر سے جنگل
وہ تو بہت ڈرپوک سی َلڑکی تھی ۔جو کتے بلیوں سے ڑرتی تھی ۔ہر جانور سے ڑرتی تھی ۔وہ تو اکیلے کمرے میں سونے سے ڑرتی تھی ۔عین اسی وقت اس نے ایک فائر کی آواز سنی وہ بری طرح خوف زدہ ہو کر چیخ پڑی پھر اسے وہ مل گیا جو کم سے کم انسان تو تھا ۔وہ اپنی خوش قسمتی پر خدا کا شکر ادا کر رہی تھی ۔جس نے اتنے ویرانے میں ایک جیتا جاگتا انسان ملا دیا ۔تمام رات اس نے عجیب کیفیت میں گزاری۔کبھی آنکھ لگ جاتی کبھی کھلتی کبھی اچانک خوفزدہ ہو کر بیٹھ جاتی ۔رات کا جانے کون سا پہر تھا ۔
جب اسکی آنکھ گاڑی کے اسٹاٹ ہونے سے کھلی۔اس نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا مگر اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔
ابھی صبع نہیں ہوئی تھی وہ بدحواس ہو کر بغیر دوپٹہ اوڑھے باہر نکل آئی۔سناٹے کو چیرتی گاڑی دور جا رہی تھی ۔
وہ پوری رفتار سے گاڑی کے پیچھے بھاگی
سنیں پلیز رک جائیں
میری بات سن لیں پلیز
وہ چیخ کر آوازیں دینے لگیں اس وقت جب سارا جنگل سویا ہوا تھا ۔کوئی آواز کوئی اہٹ نہ تھی ۔اسکی آواز کسی بازگشت کی طرح جنگل میں پھیل رہی تھی اس نے گاڑی روک لی تھی مگر واپس نہیں آیا تھا وہ خود بھاگی ہوئی گاڑی تک پہنچی۔
آپ اتنی رات کو مجھے اکیلا چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں ۔وہ اسٹرینگ پر ہاتھ رکھے بیزار بیٹھا تھا ۔محترمہ صبع کے چار بجے ہیں رات کب کی ختم ہو گئی ۔
اور جہاں تک اکیلے چھوڑ کر جانے کا سوال ہے میں نہیں سمجھتا کے میں نے ایسا کوئی وعدہ کیا تھا ۔کے آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ کے جاؤں گا ۔اتنی بزدل کم ہمت تھی تو اس جنگل میں کیا کرنے آئی تھی ۔وہ کپڑے نکھرے پہنے کل کی نسبت کافی فریش لگ رہا تھا ۔پتہ نہیں چار بجے نکلنے کے لیے وہ خود کب جاگا۔
آپ میری مدد کریں پلیز
آپ مجھے یہاں کے کسی بھی شہر قصبے میں پہنچا دیں ۔
میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گی
وہ اکھڑے پن کو کچھ کم کرتے ہوئے بولا
اس وقت تو مجھے جانا ہے واپس آوں گا تو تمہیں اس مسئلے پر بات کریں گے وہ جیپ اسٹاٹ کرنے لگا
وہ اس کے اداس چہرے پر سرسری سی نگاہ ڑال کر اس سے مخاطب ہوا ۔کچھ کھا پیلینا وہاں اندر کالے کلر کا بیگ رکھا ہے اس میں کھانے پینے کا سامان ہے ۔
اور اس کے علاوہ میری کسی چیز کو چھڑنے یا گھسنے کی ضرورت نہیں ہاتھ منہ دھونا ہوا تو ہمارا شاہی حمام
اس نے اشارے سے نظر آتی جھیل دکھائی
اور یہ جا وہ جا ہوا۔وہ کچھ دیر جیپ دیکھتی رہی جب نظروں سے اوجھل ہوگئی تو واپس خیمے میں آ گئی ۔کچھ دیر یوہی پریشان بیٹھی رہی ۔
اس نے کہا تو ہے مدد کرے گا ۔پریشان سے کچھ نہیں ہو گا بہتر ہے ہاتھ منہ دھو کر کھا پی لوں۔خود کو سمجھاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ۔اور جھیل کی طرف آگئ صبح کا اجالا ہلکا ہلکا پھیلنا شروع ہو گیا تھا ۔چڑیوں کے چہچہاہٹ ٹھنڈی پرسکون ہوا اسے کچھ دیر تمام فکروں سے غافل کر گئے
الله نے دنیا کتنی خوبصورت پیدا کی ہے
درخت پھل پھول بہتا صاف پانی وہ کتنی دیر کھڑی وہاں کا حسن دیکھتی رہی ۔چرند پرند خدا کی حمد وثنا میں مصروف تھے ۔وہ جھیل کے ٹھنڈے پانی سے منہ ہاتھ دھونے لگی اسکی طبیعت ایک دم بشاش سی ہو گئی
وضو کر کے خیمے میں آ گئی نہ قبلے کا پتہ نہ نماز کے ٹائم کا
لیکن وہ الله کے حضور نیت کر کے کھڑی ہو گئی
نماز پڑھ کے الله سے اپنی پریشانی سے نجات کی دعا کی
اپنے لئے چائے کا بنانے کا سوچا اور چولہے کے پاس گئ
وہ شاید جلدی میں اپنے لئے چائے بنا کر گیا تھا
اسی لیے چائے کے کپ سب ایسے ہی پڑے تھے
برتن دھونے کا تو کوئی انتظام نہیں تھا وہ اسکے بتائے ہوئے کالے بیگ کی طرف بڑھی۔تا کے کپ اور پتی وغیرہ نکال سکے۔
جاری ھے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/