مختصر کہانیاں

#تیری_دیوانی_از_سحرعلی #قسط_8_حصہ_اول دن گزر رہ…

#تیری_دیوانی_از_سحرعلی
#قسط_8_حصہ_اول

دن گزر رہے تھے۔۔ سردیوں کی آمد تھی۔۔ اماں اور شہناز بیگم نے ملازموں کے ساتھ مل کر سارے بستر نئے سرے سے تیار کروائے۔۔ کپڑوں کو دھوپ لگوائی۔۔ اماں کی وجہ سے ان کی یہ روایت برقرار تھی وہ ہمیشہ سے موسم بدلتے ہی کپڑوں اور بستروں کو دھوپ لگواتیں جس وجہ سے گھر کے کام بڑھ جاتے۔
احسن صاحب آفس میں بیٹھے تھے جب احمد ملک ان کے پاس آئے۔۔
احسن کیا سوچ رہے ہو؟
کچھ نہیں بھائی صاحب۔۔ بس زرتاشہ کے لیے کچھ فکرمند ہوں۔۔
کیوں بھئ کیا ہو گیا ہے۔۔ سب خیر تو ہے؟ احمد صاحب بھی فکر مند ہوئے۔
ارسل کی والدہ کا فون آیا تھا۔۔ زرتاشہ اور ارسل کے نکاح کی بات کر رہی تھیں۔
کیا مطلب یہ اچانک انہیں بیٹھے بٹھائے نکاح کا خیال کیسے آ گیا۔۔ جبکہ رشتہ کرتے وقت ہم نے یہ بات واضح کردی تھی کہ جب تک وہ پڑھ رہی ہے ہم ایسی کوئی رسم نہیں کریں گے۔۔ پھر بھی انہوں نے اچانک انگوٹھی پہنانے کا شوشہ چھوڑ دیا۔۔ وہ تو چلو ہم نے مان لیا مگر اب یہ۔۔ احمد صاحب کچھ تلخ ہوئے۔۔ انہیں ارسل کی والدہ پہ خاصہ تاؤ آرہا تھا۔
یہ ہی تو بات مجھے پریشان کر رہی ہے بھائی صاحب۔۔ جب ہم سب کچھ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں پھر یہ بات کرنے کی وجہ۔۔
ہمم۔۔ تم پریشان نہ ہو میں بات کرتا ہوں ارسل کے بڑے بھائی سے۔۔ وہ کافی سمجھدار بچہ ہے سمجھ جائے گا۔
ہمم۔۔ کر کے دیکھ لیں بات۔۔ میں تو دو بار منع کر چکا ہوں مگر وہ بضد ہیں۔۔ احسن نے انہیں مزید بتایا تو وہ ان پر چڑھ دوڑھے۔
وہ پہلے بھی یہ بات کر چکی ہیں اور تم اب مجھے بتا رہے ہو۔۔ میں نہ پوچھتا تو تم اب بھی مجھے نہ بتاتے۔۔ احمد صاحب نارض ہوئے۔
ارے نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔ میں ابھی آپ کے پاس ہی آ رہا تھا یہ بات کرنے۔۔ مصروفیت اتنی زیادہ تھی بس موقع ہی نہ ملا آپ سے بات کرنے کا۔
ہاں میں تو کسی اور ملک میں رہتا ہوں جو بات کرنے وہاں آنا پڑتا۔۔ ناراضگی ہنوز برقرار تھی۔
احسن صاحب کو ہنسی آگئی۔۔ بھائی صاحب اتنے بڑے ہو گئے ہیں ناراض ابھی بھی بچوں کی طرح ہو رہے ہیں۔۔
ارے یار دل تو بچہ ہے ناں۔۔ احمد صاحب نے کہا۔۔ تو دونوں کا قہقہا گونج اٹھا۔
پھر وہ دونوں اپنے بزنس کے متعلق کچھ باتیں کرنے لگے۔

۝۞۞۝۞۞۝

زاویار نے گھر میں بتایا کہ وہ عمرہ کرنے جا رہا ہے
تو سب سے زیادہ خوشی دادی کو ہوئی۔۔
جیتا رہ میرا بچہ۔۔ اللہ تیرا آنا قبول کرے۔۔ اپنی دادی کو مت بھولنا وہاں جا کر۔۔ خاص دعا کرنی ہے میرے لیے۔۔ وہ اسے نصیحتیں کرنے لگیں۔
جی جی دادو۔۔ آپ فکر ہی مت کریں۔۔ سب سے پہلے آپ کا نام لوں گا وہاں جا کر۔۔ زاویار نے انہیں تسلی دی۔
کب جا رہے ہو بیٹا؟ احسن صاحب نے سوال کیا۔
چاچو کل شام کی فلائٹ ہے۔۔
اور کتنے دن کا سٹے ہے؟
ان شاءاللہ پندرہ دن کا سٹے ہو گا۔۔
ماشأاﷲ۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو بیٹا۔۔ اللہ زندگی کے ہر قدم پر تمہاری رہنمائی کرے۔۔ انہوں نے دل سے زاویار کو دعا دی۔۔ وہ اسے بھی بالکل تابش ہی کی طرح سمجھتے تھے بلکہ بعض اوقت تو تابش ان سے لڑتا کہ ڈیڈ آپ زاویار کو مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔ تو وہ مسکرانے لگتے۔۔
بیٹا یہ میرا وہ بچہ ہے جو مجھے زندگی کی طرف واپس لایا تھا۔۔ میں آج تک اس کی وہ باتیں نہیں بھول سکتا جوا س نے مجھے اپنی چھوٹی سی عمر میں سمجھا دی تھی جب شاید یہ خود بھی ان باتوں کو سمجھتا نہیں تھا۔۔ وہ ماضی کے ان لمحات کو یاد کر کے کہتے جب زاویار نے انہیں احساس دلایا تھا کہ ان کی بیٹی بھی ہے انہیں زرتاج گل (چاچی) کے غم سے باہر نکلنے میں ان کی مدد کی تھی۔۔ اس لیے یہ میرا بڑا بیٹا ہے جو مجھے بہت عزیز ہے۔۔ اور میں چاہوں گا تم دونوں بہن بھائی بھی اس سے اسی طرح محبت کرو جیسے میں کرتا ہوں۔۔
ڈونٹ یو وری ڈیڈ۔۔ یہ ہمارا بھی بھائی ہے اور ہمیں بھی اسی طرح عزیز ہے جیسے آپ کو۔۔ تابش ہمیشہ کی طرح یہ بات کہہ کر انہیں مطمئن کر دیتا۔
ارے میں یہ کیا سن رہی ہوں۔۔ کوئی عمرہ کرنے جا رہا ہے۔۔ اور وہ بھی میرے بغیر۔۔ زرتاشہ نے لاؤنج میں آتے ہی رونا رویا۔
شہناز بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا اور اسے اپنے پاس بلایا۔۔ ادھر آؤ۔۔ کہاں تھیں تم کب سے تمہارا ویٹ کر رہے تھے ہم۔۔
بڑی ماما یونیورسٹی نے میرا سب سکھ چین برباد کر دیا ہے۔۔ اتنی اسائنمنٹ پریزنٹیشن۔۔ ان سب سے جان چھٹتی نہیں کہ مڈ اگزیمز سٹارٹ۔۔ اللہ اللہ کر کے وہ جان چھوڑتے ہیں تو فائنل کی ڈیٹشیٹ نوٹس بورڈ پہ چپکی منہ چڑھا رہی ہوتی ہے۔۔ زرتاشہ نے اپنی داستانِ غم ان کے گوش گزار کی توسب کا قہقہا گونج اٹھا۔
پتر جی اسی لیے تو کہتے ہیں۔۔ پڑھو گے نہیں تو بڑے آدمی کیسے بنو گے۔۔ تابش نے دوہائی دی۔۔
رہنے دیں بھئیا۔۔ میں لڑکی ہوں لڑکی ہی رہنا پسند کروں گی۔۔ آدمی آپ ہیں آپ ہی پڑھیں۔۔ پتہ نہیں مجھے اس عزاب میں کیوں ڈال دیا ہے۔۔ اسنے جس انداز میں کہا سب کو اپنی ہنسی پر قابو پانا مشکل لگا۔
آپ سب لوگ ہنسیں نہیں۔۔ کہتے تھے بس ایف ایس سی میں اچھے گریڈز لے لو یونیورسٹی میں تو ایش ہو گی۔۔ میں نے اسی خوشی میں ایف ایس سی میں اتنی محنت کر کے اے پلس گریڈ لیا۔۔ مگر یونیورسٹی میں تو توبہ۔۔ پہلے ایک سمسٹر میں حکم نامہ صادر ہو گیا تھری پوائنٹ فائو سے کم جی پی نہیں آنا چاہیے۔۔ وہ شکر ہے تھری پوائنٹ ایٹ آگیا تو اب نیا عزاب۔۔ اگلے سمیسٹر میں بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھنی ہے۔۔ مجھے تو لگتا ہے کسی جنم میں کوئی بہت بڑا گناہ کر چکی ہوں میں۔۔ اس نے اس طرح داستان بیان کی جیسے اس پر بہت بڑے ظلم کے پہاڑ ٹوٹے ہوں۔ سب لوگ نیچے منہ کر کے ہنس رہے تھے سوائے زاویار کے اس کی نظر زرتاشہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔
نظروں کی گرمائش خود پر محسوس کر کے زرتاشہ نے گردن گھمائی۔۔ نظروں کا زبردست تصادم ہوا۔۔ زاویار نے گھبرا کر نظریں پھیر لیں۔۔ زرتاشہ کا دل بھی بری طرح دھڑکا۔۔ مگر فوراً ہی اس نے خود پر قابو پا لیا۔
فوراً اٹھ کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔ میں تو بھول ہی گئی۔۔ میں آپ سے لڑنے آئی تھی۔۔ اس نے زاویار کے بازو پر مکا جڑا۔۔
زاویار نے اسے غور سے دیکھا پھر احتیاط سے اپنے ہاتھ پر دہرا اس کا ہاتھ ہٹا کر اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ پیدا کیا۔۔ یہ سب کچھ اس نے اتنی احتیاط سے کیا کہ کسی کو بھی اس چیز کا احساس نہ ہوا۔ سوائے زرتاشہ اور شہناز بیگم کے۔۔
شہناز بیگم نے دل ہی دل میں بیٹے کو داد دی کہ اس نے ان کی بات کو اچھے سے سمجھا ہے۔
مگر زرتاشہ نے زاویار کی اس حرکت کو کسی اور انداز میں ہی محسوس کیا۔ اس کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔۔ وہ سمجھ نہ پائی کہ زاویار نے ایسا کیوں کیا ہے۔۔ کیا زاویار بھائی مجھ سے ناراض ہیں؟ میرے سے کوئی غلطی ہو گئی ہے؟ ایسا کیا ہوا ہے جو آپ مجھ سے دور دور رہنے لگے ہیں۔۔ وہ یہ سب کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ پائی۔۔ وہ زاویار کی یہ حرکت پہلے بھی نوٹ کر چکی تھی مگر اپنا وہم سمجھ کر نظرانداز کر گئی۔۔ مگر آج یہ حرکت اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی بھر گئی۔۔ چہرہ جھکا کر اس نے اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔ پھر چہرے پر مسکراہٹ سجائے زاویار کی طرف دیکھا۔
زاویار اس کے چہرے کے آثار دیکھ کر اس کے دل کی حالت سمجھ چکا تھا مگر وہ مجبور تھا۔۔ اسے اللہ اور ماں سے کیے وعدے کی پاسداری کرنی تھی۔ اسے اللہ کے حکم کو ماننا تھا۔۔ اسے دنیا کی گندی سوچ سے اس لڑکی کو بچانا تھا جسے اس نے زمانے کی گرم ہوا تک نہ لگنے دی تھی۔۔ سب اپنی باتوں میں مصروف تھے۔۔ مگر شہناز بیگم کی نظر انہیں ہی دیکھ رہی تھی اور زرتاشہ کو دیکھ کر ان کا دل بھی دکھا تھا۔۔ میرے بچے مجھے معاف کرنا۔۔ تمہاری ہی خاطر یہ اقدام اٹھانے پر مجبور ہوئی ہوں وہ دل میں ہی زرتاشہ سے مخاطب ہوئیں۔
ان میں موجود ایک اور نظر بھی یہ سب کچھ دیکھ اور سمجھ رہی تھی۔۔ وہ تو چند پل میں ہی زرتاشہ اور زاویار کے دل کی حالت بھی جان گئی تھی۔۔ اس نظر نے ان کی ہر سوچ کی تصدیق کر دی تھی۔
زرتاشہ نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔۔ زاویار بھائی مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا تھا۔۔ آپ مجھے بھول گئے۔۔ بہت برے ہیں آپ۔۔ اس نے اپنا پرانا انداز اپناتے ہوئے کہا۔
ارے نہیں میں اپنی پرنسز کو بھولا تھوڑی ہوں۔۔ نیکسٹ ٹائم ہم سب ساتھ جائیں گے۔۔ کیوں تابش۔۔ اس نے خوبصورتی سے بات کو سمیٹا۔
ہاں ان شاءاللہ ضرور۔۔ تابش مسکرایا۔
مگر مجھے ابھی جانا ہے آپ کے ساتھ۔۔ بہت ساری دعائیں کرنی ہیں۔۔ اور اللہ سے آپ کی شکایت بھی۔۔ کہتے ہی وہ کھلکھلانے لگی۔
زاویار اس کی بات کا مطلب نہ سمجھ سکا۔۔ ہولے سے مسکرا دیا۔

۝۞۞۝۞۞۝

اگلے دن زاویار سب سے مل کر ائرپورٹ کے لیے نکل گیا۔۔ تابش، احمد اور احسن ملک اسے چھوڑنے آئے۔۔ ڈھیروں دعاؤں میں رخصت کیا۔
یہ کچھ گھنٹے اس نے بہت کچھ سوچتے ہوئے گزارے۔۔ اپنے اللہ کے گھر جانے کی خوشی نے اس کے اندر باہر مہکا دیا۔
جدا ائرپورٹ پر پہنچ کر احرام باندھا اور مکہ کے لیے روانہ ہو گیا۔۔ مکہ میں داخل ہوتے ہی اس کے دل کی حالت غیر ہونے لگی۔۔ ایک خاص قسم کا احساس ہچکولے لینے لگا۔۔ وہ مسجدالحرم کے احاطے میں پہنچ چکا تھا۔۔ اندر قدم رکھا تو قدم من من کے ہوگئے۔۔ اپنے گناہ جو دانستہ نہ دانستہ کیے یاد آنے لگے تو وہ ٹھہر گیا۔۔ کیا میری حیثیت ہے کہ میں اس کے گھر آ سکوں۔۔ کیا اس نے مجھے اس قابل سمجھا ہے کہ مجھے اپنے سامنے لا کھڑا کرے۔۔ بہت سی باتیں اس کے ذہن کے پردے پر رونما ہوئیں۔۔ مگر اندر سے آواز آئی۔۔ اگر اس نے اس قابل نہ سمجھا ہوتا تو میں آج یہاں موجود نہ ہوتا۔۔ بس پھر ہمت مجتمع کر کے قدم آگے کی طرف بڑھا دیے۔۔ اب باری تھی اندر جانے کی اس صحن میں داخل ہونا تھا جہاں ہر مسلمان کے آنے کی خواہش ہوتی ہے۔۔ اس کو کسی کی کہی گئی بات یاد آئی۔۔ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگو وہ رد نہیں ہوتی۔
اسے اچانک زرتاشہ کا خیال آیا۔ تو کیا مجھے اسے مانگنا چاہیے۔ اس نے سوچا۔ پھر اگلے ہی پل اپنی سوچوں کو جھٹک کر آگے بڑھا۔ نہیں مجھے ایسا کچھ نہیں سوچنا چاہیے۔ وہ کسی اور کی امانت ہے میری نامحرم ہے۔ مجھے یہاں جس نے بلایا ہے میری سوچوں پر صرف اس کا ہی حق ہے۔۔ مجھے صرف اس پاک ذات کوسوچنا ہے۔۔ میں یہاں اسے منانے آیا ہوں۔ وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ اس نے اپنی سوچوں پر گراہ لگا لی۔ جیسے ہی اس نے قدم صحن کی طرف جاتے دروازے باب الاسلام کیطرف بڑھایا تو کچھ پل کے لیے ساکت ہو گیا۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا وہ اس وقت ادھر موجود ہے۔ یہ سب ایک حسین خواب لگ رہا تھا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ زینہ تہہ کرنے لگا۔ تھوڑا آگے جا کر صحن آگیا۔ وہ نظریں جھکائے آگے بڑھا۔۔ وہ قریب جا کر خانہ کعبہ پر نظر ڈالنا چاہتا تھا۔ سیاہ آسمان رات ہونے کا پیغام دیتا تھا مگر وہاں ہر سو بکھرا نور دیکھ کر یوں محسوس ہوتا شاید یہاں کبھی رات ہوتی ہی نہیں۔۔ تھوڑا آگے جا کر اس نے نگاہ اٹھائی تو ساکت رہ گیا۔۔ کوئی دعا یاد نہ رہی۔۔ زبان گنگ تھی۔۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ ایک جلال تھا۔۔ وہ وہیں بیٹھ گیا۔۔ بہت دیر بعد زبان سے ادا ہوا۔۔ اللہ۔۔ اللہ۔۔ اللہ۔۔
پھر وہ جھگتا چلا گیا۔۔ اس کی پیشانی نے زمین کو بوسہ دیا۔۔ کتنی ہی دیر وہ سجدے میں پڑا رہا۔۔ پھر کچھ دیر بعد اٹھا اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے پہلا فرض یعنی طواف کرنے لگا۔۔ رات کا وقت تھا کچھ ہجوم بھی کم تھا تو اس نے جلد ہی طواف مکمل کر لیا۔۔ اس کے بعد وہ صفا مروہ کی جانب بڑھا۔۔ سعی کرنے کے بعد اس نے اپنے سر کے بال منڈوائے۔۔ اس طرح اس کا پہلا عمرہ ادا ہو گیا۔۔ اس نے احرام کھول دیا۔۔ وہ بے انتہا خوش تھا۔۔ خوشی سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ اب وہ صحن میں پرسکون بیٹھا تھا۔۔ بیٹھے بیٹھے کچھ سوجھی تو اٹھ کر خانہ کعبہ کے پس پہنچا کانپتے ہاتھوں سے اس نے کعبہ کو چھوا۔۔ پھر دیوانہ وار آگے بڑھ کر اسے بوسہ دیا۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لئے۔
زاویار بھائی کعبہ پہ نظر پڑتے ہی سب سے پہلے میرے لیے دعا کرنی ہے آپ نے۔۔ زرتاشہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجی۔
اللہ تاشہ کو میرے نام لکھ دے۔۔ میری محرم بنا دے۔۔ بے اختیار اس کی زبان سے ادا ہوا۔۔ اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔۔ حیران ہو کر سامنے دیکھا۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔ اس نے چہرا رگڑا۔۔ اللہ مجھے معاف کردے۔۔ میں اس جگہ کھڑا ہو کر کیا سوچ رہا ہوں۔۔ پھر اس نے کچھ نہ کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ اتنے میں فجر کی اذان ہونے لگی۔۔
یہ اس کی موجودگی میں پہلی اذان تھی۔۔ پر سوز آواز تھی جو اندر باہر سکون بکھیر رہی تھی۔۔ اس نے پوری توجہ سے اذان سنی۔۔ اس کے بعد باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد وہ اپنی رہائش گاہ کی طرف چل دیا۔۔

جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/