منتخب غزلیں
شہریار وحشتِ دِل تھی کہاں کم، کہ بڑھانے آئے کِس ل…

شہریار
وحشتِ دِل تھی کہاں کم، کہ بڑھانے آئے
کِس لئے یاد ہَمَیں بِیتے زمانے آئے
دشت خالی ہُوئے، زنجِیر ہُوئے دِیوانے
تھی خطا اِتنی کہ، کیوں خاک اُڑانے آئے
کیا عجب رسم ہے، دستُور بھی کیا خُوب ہے یہ !
آگ بھڑکائے کوئی، کوئی بُجھانے آئے
وقت کی کیا بات ہے یہ بھی، کہ مکاں خوابوں کا
جِس نے تعمِیر کِیا ہو، وہی ڈھانے آئے
کوئی آسان نہیں ترکِ تعلّق کرنا
بزمِ اغیار میں یاروں کو بُھلانے آئے
نقش کُچھ اب بھی سَرِ جادۂ دِل باقی ہیں
تیز آندھی سے کہو اِن کو مِٹانے آئے
کی قدر دِل سے کسی روز بھی اُس نےنہ مگر
ہم جوبچھڑے تو سبھی ہوش ٹِھکانے آئے
شہریار



