مختصر کہانیاں

"ہماری شمو” تحریر: زویا حسن قسط نمبر: 6 29 دسمبر …

"ہماری شمو”
تحریر: زویا حسن
قسط نمبر: 6
29 دسمبر 2017، شمو نیو ائیر پارٹی کی تیاریوں میں لگی تھی اور ہم سب چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے ۔ امی اور سرمد اس سوچ میں تھے کہ شمو مجھے منانے کے لیے انکی مدد کررہی ہے اور میں اس غلط فہمی کا شکارتھی کہ وہ میرے سائیڈ پہ ہے۔ ہم سب میں بابا تھے جنھیں شمو کی کمپنی بنا کیسے ہیلے بہانے کے پسند تھی۔ وہ اسکی باتوں کے گرویدہ تھے، شمو کی نئی سوچ اور عقلمندی کی تعریف کرتے۔ اپنی زندگی کی جو باتیں آج تک انھوں نے ہم سے نہیں کی تھیں۔ وہ شمو سے کررہے تھے ۔ یوں کہہ لیں شمو میں انکے کسی پرانے دوست کی روح تھی۔ بابا اسکے گاؤں کے قصے سن کے لطف اندوز ہوتے رہیتے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد شمو نے امی کو بتایا کہ وہ باہر کسی سے ملنے جانا چاہتی ہے۔ امی نے اسے اکیلے جانے کی اجازت نہیں دی اور بولیں کے صبا کو ساتھ لے جاؤ۔ لیکن حیران کن طور پر شمو نے میرے ساتھ جانے سے اجتناب کیا اور امی سے کہنے لگی کہ کہ صبا آپی تھوڑی اپ سیٹ ہیں اس لیے انھیں آج ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی۔ میرے دماغ میں ایک بار تو یہ بات آئی کہ تین دن تو ضد کرکے وہ مجھے اپنے ساتھ لے جاتی تھی اب اچانک ایسا کیا ہوا۔ خیر میں اپنے آپ میں گم تھی اسی لیے زیادہ دھیان نہیں دیا۔ سرمد نے آفس سے چھٹی کی تھی۔ چنانچہ امی نے سرمد کے ذمے لگا دیا کہ شمو نے جہاں جانا ہے اسے وہاں لے جائے۔ سرمد جلتا کڑھتا مان ہی گیا کہ شمو کو لے جائے گا۔
سرمد اس لیے اسکے ساتھ نہیں جانا چاہتا تھا کیوں کہ اسے پتا تھا کہ وہ بلاوجہ کی ہانکتی رہے گی۔ لیکن گھر سے نکلتے ہی شمو حیران کن طور پہ خاموش تھی۔ آدھے گھنٹے کی مسلسل خاموشی کے بعد سرمد نے اس سے سوال کیا
"تمہاری طبیعت ٹھیک ہے۔۔ ؟”
"جی سرمد بھائی۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔”
اس نے آہستگی سے جواب دیا
"لگتا نہیں ہے۔۔۔ اتنی دیر سے خاموش ہو کچھ نہ کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔۔”
وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولا
"مجھے پتا ہے میری باتیں آپکو پسند نہیں ہیں۔۔ اس لیے میں خاموش ہوں۔۔ آپ نے خالہ کے کہنے پہ مجھے باہر لانے کی حامی تو بھر لی ۔۔ میں اس سے زیادہ سزانہیں دینا چاہتی”
شمو نے اتنے سنجیدہ اانداز میں کہا سرمد خاموش ہوگیا۔ کہیں نا کہیں وہ یہ بات سمجھ رہا تھا کہ اس کا ہر وقت شمو کی بے عزتی کرنا اسکا مذاق اڑانا شائد برا لگا ہے۔
"دیکھو۔۔! مجھے تمہاری باتیں بری نہیں لگتیں۔۔ بس کئی بار غصہ آجاتا ہے۔۔ تم نے شائد دل پہ لے لیا۔۔ ”
وہ صفائی دینے لگا
"میں سمجھ سکتی ہوں۔۔ میرے اور آپکے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تعلیم، سٹیٹس ہر چیز مختلف ہے۔ واجب سی بات ہے کہ میں اس لیول پہ ہوں ہی نہیں کہ آپ میری بات سننا پسند کریں گے۔ میں جتنی بڑی سمجھدار کیوں نہ ہوں جاؤں۔۔ رہوں گی تو پینڈو۔۔۔ اور ہاں میں کچھ بھی دل پہ نہیں لیتی۔۔ حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی میں اپنا اتنا مذاق اڑوا چکی ہوں کہ اب کوئی مذاق نہ اڑائے تو حیرانی ہوتی ہے۔۔ اور یہ جو میری بے وقوفوں والی حرکتیں ہیں وہ صرف اس لیے ہیں تاکہ کسی کو پتا نہ چلے کہ مجھے بھی کچھ فیل ہوتا ہے۔ میرے جیسے لوگوں کو اگر جینا ہے تو پھر بے عزتی پروف ہونا پڑے گا۔۔۔ ”
سرمد کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب شمو بول رہی ہے
"تم۔۔ احساس کمتری کی شکا ر ہو۔۔ اور کچھ نہیں ہے۔۔ اگر کوئی تمہیں ہرٹ کرے تو تم اسے منہ توڑ جواب دو۔۔۔ چاہے وہ پھر میں کیوں نہ ہوں۔۔۔ ”
سرمد نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی
"نہیں۔۔ بالکل نہیں۔۔ میں اپنی اوقات سے بہت اچھی طرح سے واقف ہوں۔۔۔ میں کیا ہوں۔۔ کتنے پانی میں ہوں۔۔ خوب سمجھتی ہوں۔۔ اس لیے خود کو صحیح جگہ پہ رکھا ہے۔۔”
"شمو۔۔ ! میں تم سے بس اتنا کہوں گا کہ زندگی گزارنے کے لیے عزت نفس کو داؤ پہ کبھی مت لگاؤ۔۔۔ تم کسی سے کم نہیں ہو”
"آپ کو پتا ہے، پرانے وقتوں میں بادشاہوں نے اپنے دربار میں مسخرے رکھے ہوتے تھے۔ دربار میں ان کی ایک خاص جگہ ہوتی تھی۔ اور ان کو وہ جگہ اس لیے ملتی تھی کیوں کہ وہ اپنا مذاق بنا کے درباریوں کو ہنساتے تھے۔ ۔ ذرا سوچیں۔۔ وہ ایسے کیوں کرتے ہوں گے۔۔ ؟ انسان خوش شکل ہو یا بد شکل اسکی ایک خواہش ہوتی کہ معاشرے میں اپنی ایک پہچان ہو، اسے لوگوں کے بیچ بیٹھنے کی جگہ ملے۔ جو خوش شکل ، خوش اخلاق، دولت مند ہوتے ہیں ان کے لیے ہر محفل میں جگہ خالی ہوتی ہے، سمجھداروں کی محفل میں ایسے لوگوں کو اونچی کرسی پہ بٹھایا جاتا ہے۔ جو میرے جیسے کم شکل اور بے ڈھنگے لوگ ہوتے ہیں جنھیں کوئی منہ نہیں لگاتا، انھیں اپنی جگہ بنانے میں بہت دقت پیش آتی ہے۔ جب یہ سمجھ آجاتاہےکہ سمجھداروں کی محفل میں اپنی کوئی جگہ نہیں ہے تو ہم لوگ بے وقوفی کا لبادہ اوڑھ کے اندر گھستے ہیں۔ سمجھدار ہمیں اپنے ساتھ بٹھا کے برتری کا مزہ لوٹتے ہیں اور ہم مذاق بن کے محفل کی زینت بنتے ہیں۔۔ سارا کھیل سروائیول کا ہے۔۔۔ اور جہاں بات سروائیول کی ہو وہاں سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے”
سرمد کی حالت ایسی تھی جیسے ایک مفکر کے آگے جاہل بیٹھا ہو۔۔ اس نے نظر بھر شمو کو دیکھا۔۔ یہ وہی لڑکی یا کوئی اور۔۔۔
"تمہاری بتائی ہوئی جگہ پہ ہم پہنچ چکے ہیں۔۔ اب کیا کرنا ہے؟”
سرمد نے گاڑی کو بریک لگائی۔۔
"میرے خیال میں وہ سامنے گلی ہے۔۔ اس کے گلی کا آخری ہے گھر ہے جہاں رانی رہیتی ہے۔۔ اسے دعوت پہ مدعو کرنا ہے”
اس نے اشارہ کیا
سرمد نے اس گھر کے دروازے کے سامنے گاڑی روک دی
شمو نے دروازے پہ دستک دی۔ کسی نے دروازہ کھولا اور وہ قصے کہانیاں سناتی ہوئی اندر گھس گئی۔
شمو کا یہ روپ دیکھ کر سرمد نہ صرف حیران تھا بلکہ اسے اپنے برتاؤ پہ شرمندگی سی ہونے لگی۔ اسکے واپس آنے تک وہ اسی کے بارے میں سوچتا رہا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح سے اس سے معافی مانگے۔ چالیس منٹ کے بعد شمو واپس آئی۔ اسکے چہرے پہ خوشی کے آثار نمایاں تھے۔ وہ آ کے گاڑی میں بیٹھی
"لگتا ہے۔ تمہیں خوشی کی خبر ملی ہے ۔۔ اس لیے اتنا چہک رہی ہو”
سرمد نے مسکراتے ہوئے سوال کیا
"ہاں۔۔۔ میں ابھی رانی آپی سے مل کے آئی ہوں۔۔ کمال کی لڑکی ہے۔ کم گو بھولی بھالی لڑکی نے کچھ ایسا کردکھایا جو ہر عورت کے لیے ایک سبق ہے۔۔ اس نے ایک ایسی مشعل روشن کی ہے جس کی مثال ہمارے معاشرے میں بہت کم ملتی ہے۔۔ ”
شمو بتانے لگی
"ایسا کیا کیا ہے اس نے۔۔۔”
سرمد حیران ہوا
"ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ عورت جس حال میں بھی ہو وہ مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔۔ لیکن خدانخواستہ مرد کے حالات بگڑ جائیں تو کم ہی عورتیں سہارا بنتی ہیں۔۔ پر رانی کا تو قصہ ہی الگ تھا۔۔ شادی والے دن ہی کار کے حادثے میں ارسل قومہ میں چلا گیا ، رانی کے پاس رستہ تھا کہ وہ اسے چھوڑ کے چلی جائے۔ پر اس نے ہمت کا مظاہرہ کیا۔ سارے زمانے سے لڑ گئی۔ شوہر کا ساتھ چھوڑا اور نہ ہی مشکلات سے گھبرائی۔ ارسل کو دوسری زندگی ملی اور اسکی وجہ رانی کی کوششیں تھیں۔ اب صرف گھر میں ہی نہیں۔ بلکہ پورے معاشرے میں اسکی حوصلے اور لگن کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ہر مرد خواہش کرتا ہے کہ اسکی بیوی رانی جیسی ہو۔ ارسل کے زندگی میں لوٹنے کے بعد بھی وہ اسکے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے کھڑی ہے”
شمو نے تفصیل سے بتایا
"کیا سچ مچ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں۔۔ ؟”
سرمد پوچھنے لگا
"بالکل موجود ہیں۔۔ چاہے انکی تعداد کم ہے۔۔ لیکن موجود ہیں۔۔ ہمارے آس پاس۔۔۔ یہ بات اور ہے ہم ان سے سیکھتے نہیں ہیں۔۔ سبق نہیں لیتے”
شمو نے گہری سانس لی
"سنو۔۔! میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔”
سرمد اسکی طرف دیکھ کے بولا
‘جی۔۔۔ کہیئے۔۔ !”
"سوری۔۔۔”
وہ آہستگی سے بولا
"کس بات کے لیے۔۔ ؟”
شمو کو حیرانی ہوئی
"ہر بات کے لیے۔۔ میرا برا برتاؤ۔۔ بدتمیزی ۔۔ ہر چیز کے لیے۔۔ پلیز مجھے معاف کردو۔۔ ”
وہ بولا
"اوہو۔۔۔! پلیز مجھے شرمندہ مت کریں ۔۔ میں نے آپکی کوئی بات دل پہ نہیں لی۔۔۔ آپکی جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسے بی ہیوو کرتا۔۔ ”
شمو نے جواب دیا
"پھر بھی یار۔۔۔ میں تمہیں غلط سمجھ رہا تھا۔۔ ”
"کوئی بات نہیں۔۔۔ ”
شمو مسکرانے لگی
"گیسٹس کی لسٹ مکمل ہوچکی ہے۔۔؟”
سرمد نے پوچھا
"جی۔۔۔! لگ بھگ۔۔”
"دیٹس گڈ۔۔۔ ”
جہاں ایک طرف وہ لوگ ارسل اور رانی سے ملنے گئے ہوئے تھے۔ وہیں دوسری جانب میری تایا زاد انعم اور نازیہ ہمارے گھر آئیں۔ پھوپھو زاد فاخرہ بھی ان کے ساتھ تھی۔ کہنے کو تو وہ مجھ سے ملنے آئی تھیں لیکن اصل مقصد طلاق کے معاملے کی جانچ پڑتال تھا۔ باتوں باتوں میں انھوں نے امی کو اور مجھے خوب سنایا۔ لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہمارا خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔ امی نے ان لوگوں کو خاص تنبیہ کی کہ بابا کو اس بات کی بھنک نہ پڑے۔ شام ہونے لگی اتنے میں سرمد اور شمو بھی آگئے۔ انھیں ایک ساتھ اندر آتا دیکھ کے سب نے بھنوئیں چڑھا لیں۔
"چچی یہ کون ہے۔۔؟”
انعم بولی
اس سے پہلے امی اسے کوئی جواب دیتیں فاخرہ جھٹ سے بولی
"لگتا ہے سرمد بھائی نے شادی کرلی۔۔۔ ”
"اوہ۔۔۔ سرمد کو دیکھو اور اس کالی کلوٹی کو۔۔۔ ”
نازیہ ہنستے ہوئے بولی
شمو اور سرمد آگئے
"ہیلو سرمد۔۔۔! ہاؤ آر یو۔۔۔ ؟”
انعم بولی
سرمد نے مسکرا کے سب کو سلام کیا
شمو سر جھکائے خاموش کھڑی تھی
"انکا تعارف تو کرائے کوئی۔۔۔ ”
فاخرہ بولی
"یہ شمع ہے۔۔ ہماری خالہ رضیہ کی بیٹی ۔۔ کچھ دن رہنے کے لیے آئی ہے”
سرمد نے جس خوش اخلاقی سے شمو کا تعارف کرایا۔۔ امی اور میں دونوں حیران تھے۔
"شمع تو کہیں سے نہیں لگ رہی۔۔ بجھا ہوا چراغ ہے۔۔۔ ”
نازیہ نے سرگوشی کی۔۔ وہ تینوں ہنس پڑیں۔۔۔ ا نکی سرگوشی سب کو صاف سنائی دی۔
"ویسے۔۔ کچھ دن رہنے آئی ہیں یا۔۔۔ پرماننٹ پلان ہے۔۔۔ ”
انعم کے ماتھے پہ بل تھے
"سرمد ۔۔ فریش ہو جاؤ تم۔۔۔ میں شاہدہ سے کہتی ہوں تمہارے لیے کوفی بنائے ۔۔۔ ”
امی نے بات بدلنے کی کوشش کی
سرمد اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔ شمو میرے ساتھ آکے بیٹھ گئی
ان لوگوں نے شمو کا انٹرویو لینا شرو ع کیا۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں نان سٹاپ بولتی چلی گئی۔ ان لوگوں نے اسکی باتوں کا مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ امی اور میں شمو کو اشارے کرتے رہے کہ زیادہ نہ بولے لیکن وہ بھلا کہاں سننے والی تھی۔ سرمد بھی وہاں آگیا
"چچی ۔۔ آپ نے سرمد کا رشتہ دیکھا یا نہیں۔۔ ؟”
انعم نے سوال کیا
"نہیں بیٹا۔۔ فلحال تو نہیں۔۔”
امی نے جواب دیا
"ویسے میری نظر میں ایک رشتہ ہے۔۔ آپکے بیٹے کے لیے۔۔۔ ”
وہ بولی
"بتاؤ۔۔ کون ہے وہ۔۔ ”
امی نے پوچھا
” بس یہیں کہیں۔۔ آس پاس۔۔ ماشاء اللہ آپکا بیٹا کافی ہینڈسم ہے۔۔۔ اسے بیوی سے زیادہ۔۔ نظر بد سے بچانے والے کالے ٹیکے کی ضروت ہے۔۔ ”
اس واہیات سی بات پہ وہ تینوں کھی کھی کر کے ہنسنے لگیں۔
"خالہ۔۔! میں سب کے لیے چائے لاتی ہوں۔۔”
میں نے پہلی بار شمو کی آنکھوں میں آنسو ؤں کی چمک دیکھی۔۔۔ شائد اب اسکی برداشت کم پڑ گئی تھی
"شمو۔۔! تم رہنے دو۔۔۔ یہ لوگ اب گھر جائیں گے۔۔۔ مصروف لو گ ہیں۔۔ زیادہ ٹائم ضائع نہیں کرتے۔۔۔ نہ اپنا نہ کسی اور کا۔۔”
سرمد کی سرخ ہوتی آنکھیں صاف بتا رہی تھیں کہ اسے ان لوگوں کی بکواس بالکل پسند نہیں آئی۔ ایک دم سے سب کی کھی کھی بند ہوئی۔۔
"تھینکس گائیز۔۔۔! آپ لوگ مجھ سے ملنے آئے۔۔ ٹائم ملے تو دوبارہ چکر لگانا۔۔ ”
میں نے بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔۔ اور اٹھ کے کھڑی ہوئی۔۔ ان تینوں کو بے عزتی محسوس ہوئی۔۔ منہ بناتی ہوئی وہ وہاں سے چلی گئیں۔۔
"بیٹا ۔۔! ان لوگو ں کی باتوں کو دل پہ مت لینا۔۔ کچھ بھی کہتی رہیتی ہیں۔۔ دراصل پرورش ہی اس طرح کی ہے۔۔ ”
امی نے شمو کے کندھے پہ ہاتھ رکھا
"ارے خالہ۔۔۔! آپ کیوں فکر کررہی ہیں۔۔ میں نے کونسا روز روز ملنا ہے ان لوگوں سے۔۔ دو دن بعد چلی جاؤں گی۔۔۔ دل پہ کیا لینا ۔۔ ”
شمو نے مسکرا کے جواب دیا
سرمد کی آنکھیں شمو پہ جمی تھیں اور وہ اسکی نظروں کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی
30 دسمبر کی شام میں شمو کو مارکیٹ لے کے گئی تاکہ ہم لوگ نیو ائیر پارٹی کے لیے کچھ خریداری کر سکیں۔ ہم مختلف مارکیٹس میں کافی دیر پھرتے رہے۔۔ اچھی خاصی شاپنگ بھی کی۔
"صبا آپی۔۔! میں نے سنا ہے لاہور میں نئے نئے مالز کھلے ہیں۔۔۔ ”
وہ بولی
"ہاں۔۔ چلو میں تمہیں مالز دکھاتی ہوں۔۔۔ ”
مال میں گھومتے پھرتے رات کے دس بج چکے تھے۔
"تمہارا دل بھر گیا ہے تو اب ہم گھر چلیں۔۔ ؟”
آئس کریم پارلر سے اٹھتے ہی میں نے سوال کیا۔۔
"ہاں ۔۔ اب چلتے ہیں۔۔ میں بھی تھک گئی ہوں۔۔۔ ”
شمو بولی
ہم مال کے ایگزٹ گیٹ کی طرف بڑھنے لگے ۔۔ اوپردیکھتے ہوئے پہلی منزل پہ شمو کی نظر کسی پہ پڑی۔۔ تو وہ چونک کی بولی
"اوہ۔۔ یہ تو وہی ہیں۔۔۔ ”
"کون۔۔ ؟ کس کی بات کررہی ہو۔۔۔”
میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔
"آپ یہیں رکیں۔۔ میں ایک منٹ میں آئی۔۔۔ ”
وہ ایلیویٹر کی طرف بھاگی۔۔۔
"شمو۔۔! سنو۔۔۔ کہاں جارہی ہو۔۔؟”
میں اسے آوازیں دیتی رہی۔۔ لیکن اس نے ایک نہیں سنی۔۔ اس پریشانی میں کہ کہیں وہ ادھر ادھر گم ہی نہ ہوجائے۔۔ میں بھی اسکے پیچھے پیچے چل پڑی۔۔
"پاگل لڑکی۔۔! رکو تو سہی۔۔۔ ”
شمو آگے اور میں پیچھے۔۔۔
اللہ جانے کسے دیکھ لیا تھا اس نے جس کے پیچھے پاگلوں کی طرح بھاگتی چلی جارہی تھی۔۔۔ میرے ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھے۔۔ اسکے پیچھے چل چل کے میرا برا حال تھا۔ لوگوں کی بھیڑ کو کاٹتے ہوئے وہ آگے بڑھتی جارہی تھی۔۔ پہلی سے دوسری منزل پہ پہنچ گئے۔۔ فوڈ کوٹ کے ارد گرد چکر کاٹتے۔۔ اس نے ایک لڑکی کے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا
"ارسہ آپی۔۔۔ شکر ہے آپ مجھے مل گئیں۔۔۔ ”
شمو کی سانس پھول رہی تھی
وہ لڑکی پیچھے مڑی اور حیرانی سے دیکھتے ہوئے بولی
"آپ کون ہیں۔۔ ؟”
"میں شمو ہوں۔۔ بڑی دور سے ملنے آئی ہوں آپ سے۔۔۔ آپکے گھر کا بھی چکر لگایا۔۔ دروازہ بند تھا۔۔ خالہ کے گھر سے پتا چلا کہ آپ پنڈی ہیں۔۔ میری تو امید ٹوٹ چکی تھی۔۔ کلثوم کو کیا جواب دیتی واپس جا کر۔۔۔ شکر ہے۔۔ آپ مل گئیں۔۔ ”
شمو نے سانسیں بحال کرتے ہوئے ارسہ کاہاتھ تھاما۔ جواباً ارسہ مسکرانے لگی
اتنے میں میں بھی ان کے پاس پہنچی
"سوری۔۔! صبا آپی۔۔۔ آپ کو اتنا بھاگنا پڑا۔۔۔ یہ ارسہ آپی ہیں۔۔ جنھیں اس دن ہم ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔ ”
شمو نے تعارف کرایا
"ہیلو۔۔ ارسہ۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ ؟”
میں مسکرا کے اسکی طرف دیکھنے لگی
"آپ لوگ آئیں کہیں بیٹھتے ہیں۔۔۔ ”
ارسہ بولی
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ ہم لوگ ذرا جلدی میں ہیں۔۔ بس آپ کو انویٹیشن دینا ہے۔۔ نیو ائیر پارٹی کا ۔۔ آپ اور احمر بھائی اس پارٹی میں ضروری آئیے گا پلیز۔۔۔ ”
شمو فوراً بولی
"احمر۔۔۔! ”
احمر کا نام سنتے ہی ارسہ کے چہرے پہ گہری اداسی چھا گئی۔۔۔

بقیہ اگلے حصے میں
لائیک ، کمنٹ اور شئیر کرنا نہ بھولیں

"اس کہانی کی بلا رکاوٹ اپ ڈیٹس لینے کے لیے ابھی اس پیج کو "فالو” کریں اور "سی فرسٹ” پہ کلک کرکے ہر قسط بر وقت پڑھیں”
Click “Following” and select “See First”

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/