منتخب غزلیں
( غیر مطبوعہ ) یہ دردِ دل عدم آثار تھا ‘ مگر ایسا…

( غیر مطبوعہ )
یہ دردِ دل عدم آثار تھا ‘ مگر ایسا؟
مَیں پہلے بھی ترا بیمار تھا ‘ مگر ایسا؟
یہ انتہاے خموشی ہے ابتدا ہی سے
ترا سلوک دل آزار تھا ‘ مگر ایسا
اذاں ہوئی بھی نہیں اَور تم نے سُن بھی لی
تمہیں خدا سے سروکار تھا ‘ مگر ایسا؟
سزاے قید ِ نفَس میں اضافہ چاہتا ہوں
مَیں زندگی کا گنہ گار تھا ‘ مگر ایسا؟
کہاں کی بزم کہ خلوت بھی چھوڑنا چاہوں
مَیں ہجر ِ یار کا حق دار تھا ‘ مگر ایسا؟
کبھی کبھی کوئی تصویر بول پڑتی تھی
کوئی کوئی مِرا شہ کار تھا ‘ مگر ایسا؟
( لیاقت علی عاصِم )


