منتخب غزلیں

ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے عدیم ہاشمی ہم ب…

ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
عدیم ہاشمی
ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
تم بھی اک آدھ گھڑی کاش ہمارے ہوتے
عکس پانی میں محبت کے اتارے ہوتے
ہم جو بیٹھے ہوئے دریا کے کنارے ہوتے
جو مہ و سال گزارے ہیں بچھڑ کر ہم نے
وہ مہ و سال اگر ساتھ گزارے ہوتے
کیا ابھی بیچ میں دیوار کوئی باقی ہے
کون سا غم ہے بھلا تم کو ہمارے ہوتے
آپ تو آپ ہیں خالق بھی ہمارا ہوتا
ہم ضرورت میں کسی کو نہ پکارے ہوتے
ساتھ احباب کے حاسد بھی ضروری ہیں عدیمؔ
ہم سخن اپنا سناتے جہاں سارے ہوتے


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/