منتخب غزلیں

( مزاح رنگ ) مِرا بھی نیند میں چلنے کا مُوڈ بن گیا ہے پھر اُس گلی میں ٹہَلنے کا…

( مزاح رنگ )

مِرا بھی نیند میں چلنے کا مُوڈ بن گیا ہے
پھر اُس گلی میں ٹہَلنے کا مُوڈ بن گیا ہے

پہَن کے کَچّھا ۔۔ مَیں بیٹھا ہوں یَــخ نومبر میں
جدید شعر اُگلنے کا مُوڈ بن گیا ہے

مِرے کلام پہ پھر قہقہے لگاؤ تم
کہ حاسدین کے جلنے کا مُوڈ بن گیا ہے

تمہارے ہجر میں میرا ” کَفِ مَسرّت ” سے
یہ ہاتھ زور سے مَلنے کا مُوڈ بن گیا ہے

ذرا سی آنسہ ” مہر النساؑ ” ہوئی جو قریب
سٹیل دل کے پگھلنے کا مُوڈ بن گیا ہے

( عــزیــز فیـصــلؔ )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/