ہم راہ (زویا حسن) قسط نمبر 8 "سر۔۔ ہمارے پاس نئے …

قسط نمبر 8
"سر۔۔ ہمارے پاس نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایک زبردست آفر ہے۔۔۔۔ اس کے لیے آپکو کچھ جوڑوں کے ساتھ ایک انعامی مقابلے میں حصہ لیناہوگا۔۔۔ اگر آپ جیت گئے۔۔۔ تو۔۔۔”
میں نے اسکی بات بیچ میں کاٹی
"او ہیلو۔۔۔ ! ہم تمہیں کہا ں سے شادی شدہ نظر آرہے ہیں ” میں نے اسے گھیرا
"سوری میم۔۔۔۔۔ ! مجھے غلط فہمی ہوئی۔۔۔۔۔” وہ شرمندہ ہوئی
"ارے ۔۔۔ آپکو بالکل غلط فہمی نہیں ہوئی۔۔۔۔ یہ نیولی میرڈ کپل ہے۔۔۔۔۔۔ ” مدیحہ ہمارے پاس آکے بولی
میری اور احمر کی حیران کن نظریں اسکی طرف اٹھ گئیں
"مدیحہ۔۔۔۔ ! تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔؟” میں نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا
"ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں آپ۔۔۔۔۔؟” مدیحہ نے مجھے نظرانداز کیا اور سیلز گرل سے پوچھنے لگی
"ایکچولی میم۔۔۔ ! ہم نئے شادی شدہ جوڑوں کے درمیان ایک مقابلہ کرا رہے ہیں۔۔۔ جس میں انھیں کچھ گیمز کھیلنی ہوں گی۔۔ جیتنے والے جوڑے کو ڈھیروں انعامات ملیں گے اور مال کی کسی بھی شاپ سے شاپنگ کرنے پہ پچاس فیصد تک کی رعائیت بھی ملے گے۔۔ جیتنے والے جوڑے کو ہماری طرف ‘کینڈل لائٹ ڈنر ‘ کی بھی آفر ہے۔۔۔۔ اگر یہ لوگ اس مقابلے میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو انھیں ایک فارم بھرنا پڑے گا” وہ ساری تفصیلات بتانے لگی
"آپ فارم مجھے دے دیں میں ان سے فِل کراتی ہوں۔۔۔۔” مدیحہ نے اسے کہا
میں نے مدیحہ کے بازو سے پکڑا اور گھسیٹتی ہوئی وہاں سے لے گئی۔۔۔
"تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔۔؟ کر کیا رہی ہو تم ۔۔۔؟” میں نے اس پہ چڑھائی کی
"رکو نہ تم۔۔۔ ایک تو ہر وقت لڑنے مرنے کے لیے تیار رہیتی ہو۔۔۔۔” وہ واپس سیلز گرل کی طرف پلٹی
"مدیحہ۔۔۔۔ ! کیا کررہی ہو یار یہ۔۔۔۔۔” احمر نے بھی اسے گھورا
"تم دونوں بس چپ رہو۔۔۔۔۔” اس نے انگلی کا اشارہ کیا
احمر کا دوست بس مسکراتے ہوئے ہم لوگوں کا تماشہ دیکھ رہا تھا
"میم۔۔۔ ! آپ انکی کیا لگتی ہیں۔۔۔” سیلز گرل نے مدیحہ سے پوچھا
"میں۔۔۔۔ دلہن کی بہن اور دولہے کی سالی ہوں۔۔۔۔۔” وہ شرارتی نظروں سے ہم دونوں کے چہرے دیکھنے لگی
"اوہ۔۔۔ ! اچھا۔۔ لیکن یہ لوگ راضی نہیں ہیں اس کھیل میں حصہ لینے کے لیے۔۔۔۔۔؟” وہ بولی
"راضی نہیں ہیں تو ہو جائیں گے۔۔۔ یہ آپ مجھ پہ چھوڑ دیں۔۔۔۔۔ بس مجھے فارم دیں میں ابھی ان سے فِل کراتی ہوں۔۔۔” مدیحہ نے اسے گھیرا۔۔۔
اس نے ایک فارم مدیحہ کے حوالے کیا۔۔۔
"اس فار م کو فِل کرکے وہ سامنے والے کاؤنٹر پہ جمع کرا دیں مزید تفصیلات آپکو وہیں سے ملیں گی۔۔۔” یہ کہہ کہ وہ کسی اور سے بات کرنے لگی۔۔۔
مدیحہ ہمیں سائیڈ پہ لے گئی۔۔۔
” چلو بھئی۔۔۔ جلدی جلدی فارم فِل کرو۔۔۔۔۔” وہ حکمانہ انداز میں بولی
میں نے اسکے ہاتھ سے فارم چھینا۔۔۔
"تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔ کہاں پھنسا رہی ہو مجھے۔۔۔۔۔؟” میں چلائی
"ایکسکیوز می۔۔۔ ! تم نہیں پھنس رہی میں پھنس رہا ہوں۔۔۔۔۔ ” احمر نے میرے اوپر چڑھائی کی
"اے مسٹر۔۔۔ میں تم سے بات نہیں کررہی۔۔۔۔ تم اس معاملے سے دور ہی رہو۔۔۔” میں نے چڑ کے جواب دیا
"واہ۔۔۔ ایک تو مجھے زور زبردستی کا دولہا بنایا جارہا ہے۔۔۔ اور میں کوئی بات بھی نہ کروں۔۔۔۔” وہ ہاتھ لہرا کے بولا
"سٹاپ اٹ گائیز۔۔۔۔۔! کیا بچوں کی طرح لڑ رہے ہو۔۔۔۔” مدیحہ چلائی
"دیکھیں مس مدیحہ۔۔ میں اس سر پھری لڑکی کا ہزبنڈ نہیں بن سکتا۔۔۔۔۔” احمر مدیحہ سے بولا
"اف او۔۔۔۔۔۔ ! گائیز میری بات دھیان سے سنو۔۔۔۔ یہ صرف ایک کھیل ہے۔۔۔ بس۔۔۔ تم دونوں سچ مچ کے میاں بیوی نہیں بن رہے ہو۔۔۔ چپ کر کے اس میں حصہ لو۔۔۔ موج مستی کرو جیت گئے تو انعام ملیں گے اور ہار گئے تو کوئی بات نہیں۔۔۔ پر ایک بار چانس تو لو۔۔۔۔۔ کاش تم لوگوں کی جگہ مجھے یہ آفر آئی ہوتی تو میں آنکھیں بند کر کے کسی کی بھی بیوی بن جاتی۔۔۔۔۔” مدیحہ بولی
"آر یو سٹوپڈ۔۔۔۔ ! تم اس کھڑوس کے پلے باندھ رہی ہو مجھے۔۔۔ موج مستی کے لیے۔۔۔ نو وے۔۔۔۔” میں خفگی سے بولی
"کھڑوس کس کو کہا۔۔۔۔؟” احمر مجھے گھورنے لگا۔۔
"تمہیں کہا۔۔۔۔ تم سے بڑا کھڑوس اس مال میں اور کوئی نہیں ملے گا۔۔۔۔” میں نے اسے جواب دیا
"واٹ۔۔۔۔۔ اور تم۔۔۔ تم کیا ہو۔۔۔۔ سڑی مرچی۔۔۔۔؟ منہ کھولتی ہو تو آگ نکالتی ہو۔۔۔۔۔۔” اس نے بحث شروع کردی
"اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔ یار تم لوگوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔۔ میاں بیوی کی صرف ایکٹنگ کرنی ہے۔۔۔۔۔ ” مدیحہ ہم دونوں کو کھا جانیوالی نظروں سے دیکھ رہی تھی
میری اور احمر کی زبان تو بند ہوگئی لیکن آنکھوں کے اشارے صاف بتا رہے تھے کہ ابھی ایکدوسرے کا سر پھاڑ دیں گے
"ایکسکیوز می۔۔۔۔ ! بھائی صاحب آپ شادی کا کھانا کھانے آئے ہیں۔۔۔۔۔ آپ سمجھا نہیں سکتے انھیں۔۔۔؟” مدیحہ احمر کے دوست کی طرف مڑی جو بیوقوفوں کی طرح کبھی اسکا چہرہ تکنے لگتا کبھی اسکا۔۔۔
"مان جا نا یار۔۔۔۔ ! موج مستی ہی تو ہے۔۔۔۔۔” وہ احمر سے مخاطب ہوا
مدیحہ میرے پیچھے پڑ گئی اور احمر کا دوست اسے سمجھانے لگا۔۔۔۔ ایک طویل بحث و مباحثے کے بعد ہم دونوں نے حامی بھر لی
مدیحہ جلدی سے فارم فِل کرنے لگی۔۔۔
ہزبنڈ نیم۔۔۔۔ احمر رحمان
وائیف نیم۔۔۔ ارسہ احمد
مدیحہ کے پوچھنے پہ ہم دونوں نے اپنے اپنے نام بتائے۔۔۔
"تم لوگ پاگل ہوگئے ہو۔۔۔۔۔؟ ہزبنڈ وائیف کے نام ایسے ہوتے ہیں۔۔۔؟ ”
ہم دونو ں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
"ہزبنڈ نیم۔۔۔ احمر رحمان، وائیف نیم۔۔۔ ارسہ احمر۔۔۔” وہ لکھنے لگی
میں بامشکل اپنے غصے پہ کنٹرول کررہی تھی۔۔
"ڈیٹ آف میرج بتاؤ۔۔۔۔ ؟” مدیحہ ہم دونوں کی طرف دیکھ کے بولی
ہماری خونخوار نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے سر جھکا لیا
"کچھ بھی لکھ دو۔۔۔ لیکن یاد رکھنا ایک آدھ مہینے کا فرق ہو۔۔۔ نیا شادی شدہ جوڑا دیکھانا ہے۔۔۔۔” احمر کا دوست بولا
"ہاں ٹھیک ہے۔۔۔ پچیس دسمبر لکھ دیتی ہوں۔۔۔ تاریخ یاد رہے گی۔۔۔۔” مدیحہ بولی
احمر اور میں اک دوسرے کو گھورنے میں لگے تھے اور وہ دونوں ہماری فرضی شادی کو حقیقت بنا نے کی کوشش کررہے تھے
"لوّ میرج ۔۔۔ یا ارینج۔۔۔۔؟” مدیحہ بولی
"ارینج۔۔۔ سو فیصد ارینج۔۔۔ ایسی لڑکی سے لوّ میرج کون پاگل کرے گا۔۔۔۔” احمر جھٹ سے بولا
"ایسی لڑکی۔۔۔۔۔ ؟ اور تم کیسے ہو۔۔۔۔ سڑو۔۔۔ کھڑوس۔۔۔ سائیکو۔۔۔۔ سیریل کِلر لگتے ہو۔۔۔۔ تم سے بھی لوّ
میرج کوئی پاگل کرے گی۔۔۔۔۔” میں نے جواب دیا
"یار ۔۔۔ ! تم دونوں تھوڑی دیر چپ نہیں رہ سکتے۔۔۔۔ ” مدیحہ چلائی
"لوّ میرج لکھو یار۔۔۔۔۔ ! ارینج میرج کا ایمپیکٹ اچھا نہیں جائے گا۔۔۔” احمر کا دوست بولا
"ہاں صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔۔ !” مدیحہ نے لکھنا شروع کردیا
"تم خوامخواہ اتنی محنت کررہی ہو۔۔۔ پہلے ہی راؤنڈ میں ہمیں باہر کردیں گے۔۔۔۔” میں بولی
"منہ سے کچھ اچھا پھوٹتے ہیں۔۔۔۔۔” مدیحہ چڑ گئی
"لو۔۔۔ بھئی۔۔۔ جھوٹی شادی کا ڈرامہ کروا کے اچھے برے کا سبق پڑھا رہی ہے۔۔۔” میں نے طنز کیا
خدا خدا کرکے فارم فِل ہوا اور ہم چاروں بلڈنگ کے اندر پہنچے ۔۔۔ کاؤنٹر پہ فارم جمع کرایا۔۔۔ وہاں پہ موجود سٹاف نے فارم کی جانچ پڑتال کی ۔۔ تھوڑی دیر بعد ہمیں کارڈ ایشو کیے گئے۔۔۔ مدیحہ اور احمر کے دوست نے ہم دونوں کو بیسٹ وشز دیں۔۔۔ بلآخر ہمیں اس قطار میں کھڑا کر دیا گیا جہاں پہلے سے جوڑے موجود تھے۔۔۔۔ تماشائیوں کے لیے ایک باؤنڈری بنا دی گئی۔۔۔
"میں یہ سب مجبوری میں کررہی ہوں۔۔۔۔ سمجھے۔۔۔۔!” میں نے سرگوشی کی
"اوہ۔۔۔ سیریسلی۔۔۔۔۔ ؟ میں تو سمجھا تھا کہ تم میری دلہن بننے کے لیے مَر رہی ہو۔۔۔۔۔” وہ طنزیہ انداز میں بولا
"پاگل نہیں ہوں میں۔۔۔۔ تم اگر دنیا میں آخری مرد بھی بچے تو بھی میں تم سے شادی کا سوچوں گی نہیں۔۔۔۔” میں نے اسے گھورا
” اچھا۔۔۔ ! میں سمجھ گیا۔۔۔ تمہیں مردوں میں دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔۔” اس نے سرگوشی کی
” بالکل نہیں ہے۔۔۔۔ سارے مرد پتا نہیں کیا سمجھتے ہیں اپنے آپ کو۔۔۔۔۔” مجھے غصہ آنے لگا
"اوہ۔۔۔ مردوں کو چھوڑو یہ سوچو کہ تمہارے جیسی لڑکیوں کو لوگ کیا سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔” وہ میری طرف دیکھ کے بولا
"میرے جیسی لڑکی سے کیا مراد ہے تمہاری۔۔۔۔۔؟” میں نے بھنائی
"ارے ۔۔۔ وہی۔۔۔ جنھیں مردوں میں نہیں۔۔۔ بلکہ عورتوں میں دلچسپی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ا نھیں۔۔۔۔ لس۔۔۔۔۔۔۔۔ ب۔۔” ایک شرارتی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پہ پھیل گئی
"واٹ۔۔۔۔۔ ! تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا۔۔۔۔۔؟ کچھ بھی بکے جارہے ۔۔۔۔ میں جار رہی ہوں۔۔۔ بھاڑ میں گیا یہ سب۔۔۔۔۔” میں شدید غصے میں پیچھے مڑی
"اے ۔۔۔ اے۔۔۔۔ سوری۔۔۔ سوری ۔۔۔ میں بس مذاق کررہا تھا۔۔۔۔ معاف کردو۔۔۔” اس نے میرا ہاتھ پکڑا
ہمارے دائیں بائیں موجود سبھی جوڑے ہماری طرف دیکھنے لگے۔۔۔۔
"نو۔۔۔۔ نو ۔۔ وے۔۔۔ میں ایک منٹ نہیں رکوں گی یہاں پہ۔۔۔۔۔” میں تپ گئی
"اف او۔۔۔۔۔ بولا نہ معاف کردو۔۔۔ دیکھو سبھی ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔۔۔ بلاوجہ رائیتہ پھیل جائے گا۔۔۔۔” اس نے مجھے روکا
"ٹھیک ہے۔۔۔ پر میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔ ” میں اسکی آنکھوں میں دیکھ کے بولی
"ہر شرط منظور ہے۔۔۔ بس کوئی پنگا نہ کرنا۔۔۔۔۔” وہ معصومانہ انداز میں بولا
"شرط یہ ہے کہ جتنی دیر ہم مجبوری کے اس بندھن میں بندھے ہیں تم مجھ سے کوئی بات نہیں کرو گے ۔۔۔۔” میں تیوری چڑھا کے بولی
"اوکے ڈن۔۔۔۔۔ ” وہ بولا
"کتنا لڑتے ہیں دونوں۔۔۔۔۔ یہ تو کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی بھاگ جائیں گے۔۔۔۔ ہی ہی ہی۔۔۔۔” میرے ساتھ کھڑی لڑکی اپنے شوہر کے کان میں پھسپھسانے لگی۔۔۔ وہ بھی اسکی بات سن کےکھی کھی کرنے لگا۔۔ میں اور زیادہ تپ گئی
کھیل کے میزبان نے سٹیج پہ آکے مائیک پکڑا اور تفصیلات بتانے لگا
"سب سے پہلے تو میں آپ سبھی جوڑوں کو امپوریم مال میں ویلکم کرتا ہوں۔۔۔ میرے سامنے جتنے بھی جوڑے ہیں ان سب کی ہیپی لائف کے لیے ڈھیر ساری بیسٹ وشز۔۔۔۔ اب آتے ہیں کھیل پہ۔۔۔ اس کھیل کے چار راؤنڈ ہوں گے۔۔۔ سب سے پہلا راؤنڈ ریس لگانے کا ہوگا۔۔۔۔ ہر جوڑے کا ایک ایک پاؤں ایکدوسرے سے باندھ دیا جائے گا۔۔۔ بزربجتے ہی سب نے دوڑنا ہے۔۔۔ جو جوڑا پہلے ریڈ لائین کراس کرے گا۔۔۔ وہ یہ راؤنڈ جیت جائے گا۔۔۔۔ سب سے آخر ی جوڑے کو کھیل سے باہر کر دیا جائے گا۔
اس کھیل کے دوسرے راؤنڈ میں دولہے کو پھولوں کی ایک ٹوکری دی جائے گی۔۔۔ مقررہ فاصلے پہ کھڑی دلہن کی طرف دولہا پھول پھینکے گا۔۔۔ جس دلہن نے زیادہ سے زیادہ پھول کیچ کیے وہ جوڑا اس راؤنڈ کو جیت جائے گا۔۔۔ سب سے پیچھے رہ جانے والا جوڑا اس کھیل سے باہر ہو جائے گا
تیسرے راؤنڈ میں ہر دلہن کے پاس کھیر سے بھرا ایک ڈبہ ہوگا۔۔۔ دلہن اپنے ہاتھوں سے دولہا کو کھیر کھلائے گی۔۔۔ جس جوڑے نے کھیر جلدی ختم کی وہ اس راؤنڈ کو جیت لے گا۔۔۔ اس راؤنڈ کے اختتام پر بھی پیچھے رہ جانے والا جوڑا کھیل سے باہر ہو جائے گا۔
کھیل کا آخری راؤنڈ دولہا دلہن کے لیے بہت اہم ہے۔۔ کیوں کہ اس راؤنڈ میں دلہن سے دولہا کی ذاتی زندگی کے بارے میں پانچ سوال پوچھے جائیں گے۔۔۔ دلہن ان سوالوں کا جواب دولہا کی غیر موجودگی میں دے گی۔۔ اسکے بعد دولہا سے وہی سوال پوچھے جائیں گے۔۔ جس جوڑے کے زیادہ سے زیادہ جواب میچ ہوئے وہ اس پورے کھیل کا ونر قرار پائے گا۔۔۔۔ آپ لوگوں کے پاس دس منٹ ہیں ایکدوسرے سے مشورہ کرنے کے لیے۔۔۔۔۔ اسکے بعد جیسے ہی بزر بجے گا آپ سب نے پہلے راؤنڈ کے لیے ریڈی ہو جانا ہے۔۔۔ دوسرا بزربجنے پہ کھیل شروع ہوجائے گا”
"اف۔۔۔۔ ہم تو کبھی نہیں جیت پائیں گے۔۔۔۔” میں ہمت ہار گئی۔۔۔
"پہلے سے ہارنے کی بات مت کرو۔۔۔۔ ہوسکتا ہے جیت جائیں۔۔۔۔ ” احمر نے تسلی دی
میں اسکی طرف دیکھ کے مسکرائی
"تم بھاگنے میں کیسی ہو۔۔۔؟ آئی مین کبھی کسی ریس میں حصہ لیا ہے” وہ پوچھنے لگا
"نہیں۔۔۔۔ کبھی کسی ریس میں حصہ نہیں لیا۔۔۔۔ ہاں پر ایک بار ایک کتا میرے پیچھے پڑ گیا تھا۔۔۔ تب میں بہت بھاگی تھی۔۔۔۔ اتنا تیزی سے بھاگی تھی ۔۔۔ وہ مجھ تک پہنچ ہی نہیں پایا۔۔۔۔یوں سمجھو میں نے کتے کو ہرا دیا ۔۔۔۔ تب سب نے یہی مشورہ دیا تھا کہ میں وویمن ریس ٹیم جوائن کر لوں۔۔۔۔” میں اپنی ریس کا اکلوتا واقعہ اسے سنانے لگی
"واٹ۔۔۔۔۔ کتے کے ساتھ ریس لگائی۔۔۔۔۔ ” اس نے اپنا قہقہہ دبا لیا۔۔۔۔
میں خفگی سے اسے گھورنے لگی۔۔
"اور کیچ کرلو گی۔۔۔۔۔؟” وہ اپنی ہنسی روکتے ہوئے بولا
"میں نے کبھی پھول تو کیچ نہیں کیے۔۔۔ لیکن اپنی کلاس میں پنسل ،پین کیچ کرنے میں ماہر تھی۔۔۔ تم یقین نہیں کرو گے۔۔ ناہید کی اور میری شرط لگتی تھی۔۔۔ وہ دس ڈسکس چھوڑ کے پنسل پھینکتی۔۔۔ میں جھٹ سے کیچ کرلیتی تھی۔۔۔۔ بے فکر ہو جاؤ میں پھول بھی کیچ کر لوں گی۔۔۔۔” اپنی زندگی کا ایک اور قصہ میں نے اسکے گوش گزار کیا
"خدایا۔۔۔۔! میرے اوپر رحم کرنا۔۔۔” اس نے اپنے آپ سے سرگوشی کی
میں اسے گھورنے لگی۔۔۔
"ارے ۔۔۔ جیتنے کی دعا کر رہا ہوں۔۔۔۔” وہ ہڑ بڑا کے بولا
"تم کھیر کھا لو گے۔۔۔۔۔؟ ” میں نے پوچھا
"کھیر والا راؤنڈ تو سمجھو ہم ہی جیتیں گے۔۔۔۔۔ بس تم ہاتھ جلدی جلدی چلانا۔۔۔۔ ” وہ انگلی کھڑی کر کے بولا
"یہ غلط ہے ویسے۔۔۔ میں کیوں ۔۔ کھلاؤں گی۔۔۔۔ ” میں خفا ہوئی
"پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ اب اس میں اپنی انا مت لے آؤ۔۔۔ بس یہ سوچو ہمیں جیتنا ہے۔۔۔ کسی بھی حال میں۔۔۔۔” وہ سمجھاتے ہوئے بولا
میں نے سر ہلایا۔۔۔
"آخری راؤنڈ ۔۔۔ ہم کبھی نہیں جیت سکتے۔۔۔۔” میں نے اسکی طرف دیکھا
"کیوں۔۔۔ کیوں نہیں جیت سکتے۔۔۔۔؟” وہ بولا
"میں تمہارے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔۔۔ پتا نہیں وہ کیا سوال پوچھیں۔۔۔۔۔ ” میں نے ایک گہری سانس لی
"دیکھو۔۔۔ ! تمہیں جو بھی لگے۔۔۔ بس دل سے اسکا جواب دینا۔۔۔۔ نصیب میں ہوا تو جیت جائیں گے۔۔۔” اس نے تسلی دی
اتنے میں بزر بجا۔۔۔۔
سب جوڑے تیار ہوگئے۔۔۔ چند لوگ ہماری طرف بڑھے اور ایک ایک کرکے سب جوڑوں کا ایک ایک پاؤں ایکدوسرے سے باندھ دیا۔۔۔
دوسرا بزر بجنے پہ ہم دونوں نے بھاگنے کی کوشش کی۔۔۔پر دوسرےہی قدم پہ میں دھڑام سے نیچے گری۔۔۔ اس سے پہلے میں فلور سے ٹکراتی اس نے میرا بازو مظبوطی سے پکڑا۔۔۔۔ میں نے سر ہلا کے اشارہ کیا کہ مجھے سے نہیں ہو پائے گا۔۔۔۔ سارے جوڑے آگے سے آگے نکلتے جارہے تھے۔۔۔
"تم کرسکتی ہو۔۔۔۔ ہمت کرو تھوڑی سی۔۔۔۔۔بس یہ سوچووہی کتا تمہارے پیچھے پڑا ہے اور تم اس سے بھاگ رہی ہو۔۔۔۔ آس پاس کے لوگوں پہ دھیان مت دو۔۔۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔!” اس نے میرا ہاتھ مظبوطی سے تھاما
"بات بھاگنے کی نہیں تمہارے پاؤں کے ساتھ پاؤں ملا کے چلنا مشکل ہے۔۔۔۔ نہیں کر پاؤں گی۔۔۔” میں نے جواب دیا
"تم میرے پاؤں سے پاؤں مت ملاؤ۔۔ تم دوڑو جیسے دوڑ سکتی ہو۔۔۔ میں تمہارے پاؤں سے پاؤں ملا کےچلوں گا۔۔۔ بس میرا ہاتھ مت چھوڑنا۔۔۔۔۔” وہ میری آنکھوں میں دیکھ کے بولا
میں نے پھر سے ہمت کی اور کھڑی ہوگئی۔۔۔۔اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا اور میں نے دوڑ لگائی۔۔۔۔ اپنے آس پاس کے سبھی لوگوں کو بھول کر میری نظر بس اس ریڈ لائن پہ تھیں۔۔۔۔ اور احمر کی نظریں مجھ پہ تھیں۔۔۔۔۔ تماشائیوں کے شور میں بھی مدیحہ کی آواز واضح میرے کان میں پڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔’ ارسہ احمر’۔۔۔۔ ‘ارسہ احمر’۔۔۔۔۔ ہمارے قدم سب کو پیچھے چھوڑتے منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔۔ بالآخر میں نے وہ لکیر پار کی ۔۔۔ تالیوں کی گونج نے ہماری جیت کا اعلان کیا۔۔۔۔
"مسٹر ااینڈ مسز احمر نے یہ راؤنڈ جیت لیا۔۔۔۔ !” لاؤڈ سپیکر میں اناؤنسمنٹ ہوئی،۔۔۔
میں نے خوشی سے بچوں کی طرح چھللانگیں لگانا شروع کردیں۔۔۔ احمر ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھتا رہا۔۔۔۔
اس راؤنڈ کے بعد کافی جوڑے کھیل سے نکل گئے۔۔۔ جو باقی بچے انکے بیچ اگلا مقابلہ ہونا تھا۔۔۔۔
ایک ایک کرکے ہر جوڑے میں سے دولہا اور دلہن کو ایکدوسرے کے آمنے سامنے کچھ فاصلے پہ کھڑا کردیا گیا۔۔۔۔ دولہا دلہن کی طرف پھول پھینکتا اور دلہن وہ پھول کیچ کرتی۔۔۔ کئی جوڑے بالکل ناکام رہے اور کئی جوڑے کچھ حد کامیاب رہے۔۔۔۔
ہماری بھی باری آگئی۔۔۔۔
"ہر کسی کو بھول کے صرف مجھ پہ دھیان رکھنا۔۔۔۔۔ ” احمر نے میری آنکھوں میں دیکھ کے کہا
میں بنا کوئی جواب دیے سامنے جا کے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
اس نے ایک ایک کرکے پھول میری طرف پھینکنا شروع کیے ۔۔۔ میں کیچ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔ جب تک دھیان اس پہ تھا میں نے بڑی مہارت سے سارے پھول کیچ کیے۔۔۔ پر جب جب دھیان ہٹا۔۔۔ پھول ہاتھ میں نہیں آیا۔۔۔۔
اس راؤنڈ کے اختتام پہ سبھی دلہنوں کے پھول گنے گئے۔۔۔۔۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ ایک دم سے اناؤنسمنٹ ہوئی۔۔۔ ایک بار پھر ہم جیت گئے۔۔۔۔ احمر نے مجھے مبارک باد ۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواباً مبارک باد دی۔۔۔۔
تیسرا راؤنڈ کھیر کھلانے والا تھا۔۔۔۔
اس بار جوڑے بہت کم رہ گئے۔۔۔۔ دولہا دلہن کو آمنے سامنے بٹھا دیا گیا۔۔۔۔ بزرر بجتے ہی۔۔۔ میں نے جلدی سے کھیر کا چمچ احمر کے منہ میں ڈالا۔۔۔۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کھانے میں اتنا تیز ہے۔۔۔۔۔ میرے ہاتھ اسکے کھانے کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے۔۔۔۔ اچانک ہی میرے ہاتھ سے چمچ گر گیا۔۔۔۔ میں چمچ اٹھانے کے لیے نیچے جھکی۔۔۔۔ احمر نے مجھے روک دیا۔۔۔
"یو ز یور فنگر۔۔۔۔۔” وہ جھٹ سے بولا
"واٹ۔۔۔۔ فنگر۔۔۔۔۔ ؟ نو۔۔۔۔” میں نے سر ہلایا
"کم آن یار۔۔۔ ہم ہار جائیں گے۔۔۔ ہری اپ۔۔۔۔” وہ دھاڑا
میں نے ادھر ادھر دیکھا ، چارو ناچار اپنی انگلی سے اسے کھیر کھلانے لگی۔۔۔۔ کھیر کم رہ گئی تھی۔۔
کچھ جوڑوں نے بیچ میں چھوڑ دیا۔۔۔ پر میں حیران تھی میرے والا تو کھانے کی مشین نکلا۔۔۔
بزرر بجا۔۔۔ اور ہمارے ساتھ ساتھ دو اور جوڑے بھی اس راؤنڈ کو جیت گئے۔۔۔
اب آخری مقابلہ جیتنے والے تین جوڑوں کے بیچ میں تھا۔۔۔۔
آخری راؤنڈ میں تینوں مردوں کو وہاں سے دور لے جایا گیا۔۔۔۔ اور تینوں خواتین سٹیج پہ براجمان تھیں۔۔۔
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ اس بار تو ہار پکی ہے۔۔۔۔ مدیحہ کی آوازیں کان میں پڑ رہی تھیں۔۔۔ وہ ہمت بڑھانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔ پر میں پہلے ہی ہار مان چکی تھی۔۔۔
پہلی دلہن سے پانچ سوال کیے گئے۔۔۔ پھر دوسری کی بار آئی۔۔۔ اس نے بھی جواب دیے۔۔۔۔ میں اپنے آپ میں کھوئی تھی۔۔ میزبان نے مجھے دو بار آواز دی۔۔۔
"ارسہ احمر۔۔۔ اب آپکی باری ہے۔۔۔۔ ” میں اسکی آواز پہ چونکی
مائیک میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔۔۔ پورے ہال میں خاموشی تھی۔۔۔
"کیا آپ تیار ہیں۔۔۔۔ ؟” میزبان نے پوچھا۔۔۔
میں نے سر ہلایا۔۔۔۔
"آپ سے پہلا سوال یہ ہے کہ مسٹر احمر۔۔۔ سب سے زیادہ کس انسان سے پیار کرتے ہیں۔۔۔۔؟”
اف یہی سوال ملا تھا۔۔۔۔ اب مجھے کیا پتا کس سے پیار کرتا ہے۔۔۔ کرتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔ میں سوچ میں پڑ گئی۔۔
"آپکے پاس وقت کم ہے۔۔۔۔۔ !” میزبان کی آواز پھر سے گونجی۔۔۔
کس سے کرتا ہوگا۔۔۔۔؟ ماں سے۔۔۔ ہاں شائد ماں سے کرتا ہوگا۔۔۔۔۔ ایکدم سے میرے دماغ میں پَری گھومنے لگی۔۔۔ شائد وہ اپنی بھانجی سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہوگا۔۔۔۔
"پَری ۔۔۔۔ پَری سے ۔۔۔ وہ سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔۔۔” میں نے دل پہ ہاتھ رکھ کے جواب دیا
"پَری کون ہیں۔۔۔۔؟” میزبان نے پوچھا
"انکی بھانجی۔۔۔” میں نے جواب دیا
"آر یو شور۔۔۔۔۔؟” اس نے پوچھا
میں نے سر ہلایا۔۔۔
"آپ کے لیے دوسرا سوال یہ ہے کہ مسٹر احمر سب سے زیادہ نفرت کس سے کرتے ہیں۔۔؟”
سب سے پہلے میرے دماغ میں اپنا ہی نام آیا۔۔۔ ہو نا ہو۔۔۔ مجھ سے ہی وہ سب سے زیادہ نفرت کرتا ہوگا۔۔
"مجھ۔۔۔۔۔۔ ” میں کہتے کہتے رک گئی۔۔۔
پاگل لڑکی اپنا نام دیا تو کھیل سے ہی فارغ ہو جاؤ گی۔۔۔ جھوٹی شادی والا پول کھل جائے گا۔۔۔ میں نے خود کو کوسا
"کسی سے نہیں۔۔۔۔ وہ کسی سے نفرت نہیں کرتے۔۔۔۔” زیادہ سے زیادہ جواب ہی غلط ہوگا۔۔۔ کم سے کم جھوٹ تو نہیں پکڑا جائے گا
"کوئی ایسا واقعہ۔۔۔ جس کی چھاپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انکی زندگی پہ رہے گی۔۔۔۔ ؟” اگلہ سوال یہ تھا
اف۔۔۔ اب مجھے کیا پتا۔۔۔۔ میں تو دو دن سے جانتی ہوں اسے۔۔۔۔ مجھ سے جھوٹی شادی والا کھیل۔۔۔ ہاں شائد یہ والا واقعہ وہ کبھی نہیں بھولے گا۔۔۔ ارسہ تم کتنی پاگل ہو۔۔۔۔ اس مال سے نکلتے ہی وہ سب کچھ بھول جائے گا۔۔۔۔۔ میں اپنے آپ سے مشورے کرنے لگی۔۔۔
"میڈم۔۔۔ ! آپکے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔۔” میزبان نے وارننگ دی
یار۔۔۔ کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ اوہ یس۔۔۔۔
"روڈ ایکسیڈنٹ میں انکے بابا، بہن اور بہنوئی کی موت کو شائد وہ کبھی نہیں بھول پائیں گے۔۔۔ اور اس واقعہ کی گہری چھاپ ہمیشہ انکی زندگی پہ رہے گی۔۔۔۔” میرے اس جواب پہ سبھی کے سر جھک گئے۔۔۔۔ پورے ہال میں ایک اداسی سی چھا گئی
"آپکے شوہر کی زندگی کی سب سے اہم چیز کونسی ہے۔۔۔۔؟ ” یہ چوتھا سوال تھا۔۔
شائد اسکی فیملی ہے اسکے لیے سب کچھ ہوگی۔۔۔
"انکی فیملی سے بڑھ کے انکے لیے کچھ نہیں ہے۔۔۔۔” میں نے دوٹوک جواب دیا
"آپکا آخری سوال یہ ہے۔۔۔ آپ لوگ جب پہلی بار ملے تو مسٹر احمر نے کس رنگ کا لباس پہنا تھا؟”
یہ میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔۔۔ میری ہنسی نکل گئی
"سفید شرٹ ، میرون ٹائی اور بلیک پینٹ کوٹ۔۔۔۔۔” میں نے جواب دیا
سب نے تالیاں بجائیں ، میں نے مائیک میزبان کے حوالے کردیا
تینوں مردوں کو واپس بلایا گیا۔۔۔ ہمارے صحیح اور غلط جوابوں کا سارا درومدار اب ان پہ تھا۔۔۔
اس بار مجھے ہارنے کا بالکل ڈر نہیں تھا۔۔۔ پہلی بار میں نے اسکے بارے میں اتنی گہرائی میں جا کے سوچا تھا۔ میں نہیں جانتی ہم یہ کھیل جیتیں گے یا نہیں۔۔۔ پر اتنا ضرور ہے۔۔ میں احمر کو جاننے لگی تھی۔۔۔
میرے پاس سے گزرتے اس نے آنکھ کے اشارے سے ہنٹ مانگا۔۔۔۔ میں اپنے دل پہ ہاتھ رکھا اور مسکرا کے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
"ہر جواب دل سے دینا۔۔۔۔۔ ”
بقیہ اگلے حصے میں
زویا حسنہم راہ (زویا حسن)
قسط نمبر 8
"سر۔۔ ہمارے پاس نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایک زبردست آفر ہے۔۔۔۔ اس کے لیے آپکو کچھ جوڑوں کے ساتھ ایک انعامی مقابلے میں حصہ لیناہوگا۔۔۔ اگر آپ جیت گئے۔۔۔ تو۔۔۔”
میں نے اسکی بات بیچ میں کاٹی
"او ہیلو۔۔۔ ! ہم تمہیں کہا ں سے شادی شدہ نظر آرہے ہیں ” میں نے اسے گھیرا
"سوری میم۔۔۔۔۔ ! مجھے غلط فہمی ہوئی۔۔۔۔۔” وہ شرمندہ ہوئی
"ارے ۔۔۔ آپکو بالکل غلط فہمی نہیں ہوئی۔۔۔۔ یہ نیولی میرڈ کپل ہے۔۔۔۔۔۔ ” مدیحہ ہمارے پاس آکے بولی
میری اور احمر کی حیران کن نظریں اسکی طرف اٹھ گئیں
"مدیحہ۔۔۔۔ ! تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔؟” میں نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا
"ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں آپ۔۔۔۔۔؟” مدیحہ نے مجھے نظرانداز کیا اور سیلز گرل سے پوچھنے لگی
"ایکچولی میم۔۔۔ ! ہم نئے شادی شدہ جوڑوں کے درمیان ایک مقابلہ کرا رہے ہیں۔۔۔ جس میں انھیں کچھ گیمز کھیلنی ہوں گی۔۔ جیتنے والے جوڑے کو ڈھیروں انعامات ملیں گے اور مال کی کسی بھی شاپ سے شاپنگ کرنے پہ پچاس فیصد تک کی رعائیت بھی ملے گے۔۔ جیتنے والے جوڑے کو ہماری طرف ‘کینڈل لائٹ ڈنر ‘ کی بھی آفر ہے۔۔۔۔ اگر یہ لوگ اس مقابلے میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو انھیں ایک فارم بھرنا پڑے گا” وہ ساری تفصیلات بتانے لگی
"آپ فارم مجھے دے دیں میں ان سے فِل کراتی ہوں۔۔۔۔” مدیحہ نے اسے کہا
میں نے مدیحہ کے بازو سے پکڑا اور گھسیٹتی ہوئی وہاں سے لے گئی۔۔۔
"تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔۔؟ کر کیا رہی ہو تم ۔۔۔؟” میں نے اس پہ چڑھائی کی
"رکو نہ تم۔۔۔ ایک تو ہر وقت لڑنے مرنے کے لیے تیار رہیتی ہو۔۔۔۔” وہ واپس سیلز گرل کی طرف پلٹی
"مدیحہ۔۔۔۔ ! کیا کررہی ہو یار یہ۔۔۔۔۔” احمر نے بھی اسے گھورا
"تم دونوں بس چپ رہو۔۔۔۔۔” اس نے انگلی کا اشارہ کیا
احمر کا دوست بس مسکراتے ہوئے ہم لوگوں کا تماشہ دیکھ رہا تھا
"میم۔۔۔ ! آپ انکی کیا لگتی ہیں۔۔۔” سیلز گرل نے مدیحہ سے پوچھا
"میں۔۔۔۔ دلہن کی بہن اور دولہے کی سالی ہوں۔۔۔۔۔” وہ شرارتی نظروں سے ہم دونوں کے چہرے دیکھنے لگی
"اوہ۔۔۔ ! اچھا۔۔ لیکن یہ لوگ راضی نہیں ہیں اس کھیل میں حصہ لینے کے لیے۔۔۔۔۔؟” وہ بولی
"راضی نہیں ہیں تو ہو جائیں گے۔۔۔ یہ آپ مجھ پہ چھوڑ دیں۔۔۔۔۔ بس مجھے فارم دیں میں ابھی ان سے فِل کراتی ہوں۔۔۔” مدیحہ نے اسے گھیرا۔۔۔
اس نے ایک فارم مدیحہ کے حوالے کیا۔۔۔
"اس فار م کو فِل کرکے وہ سامنے والے کاؤنٹر پہ جمع کرا دیں مزید تفصیلات آپکو وہیں سے ملیں گی۔۔۔” یہ کہہ کہ وہ کسی اور سے بات کرنے لگی۔۔۔
مدیحہ ہمیں سائیڈ پہ لے گئی۔۔۔
” چلو بھئی۔۔۔ جلدی جلدی فارم فِل کرو۔۔۔۔۔” وہ حکمانہ انداز میں بولی
میں نے اسکے ہاتھ سے فارم چھینا۔۔۔
"تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔ کہاں پھنسا رہی ہو مجھے۔۔۔۔۔؟” میں چلائی
"ایکسکیوز می۔۔۔ ! تم نہیں پھنس رہی میں پھنس رہا ہوں۔۔۔۔۔ ” احمر نے میرے اوپر چڑھائی کی
"اے مسٹر۔۔۔ میں تم سے بات نہیں کررہی۔۔۔۔ تم اس معاملے سے دور ہی رہو۔۔۔” میں نے چڑ کے جواب دیا
"واہ۔۔۔ ایک تو مجھے زور زبردستی کا دولہا بنایا جارہا ہے۔۔۔ اور میں کوئی بات بھی نہ کروں۔۔۔۔” وہ ہاتھ لہرا کے بولا
"سٹاپ اٹ گائیز۔۔۔۔۔! کیا بچوں کی طرح لڑ رہے ہو۔۔۔۔” مدیحہ چلائی
"دیکھیں مس مدیحہ۔۔ میں اس سر پھری لڑکی کا ہزبنڈ نہیں بن سکتا۔۔۔۔۔” احمر مدیحہ سے بولا
"اف او۔۔۔۔۔۔ ! گائیز میری بات دھیان سے سنو۔۔۔۔ یہ صرف ایک کھیل ہے۔۔۔ بس۔۔۔ تم دونوں سچ مچ کے میاں بیوی نہیں بن رہے ہو۔۔۔ چپ کر کے اس میں حصہ لو۔۔۔ موج مستی کرو جیت گئے تو انعام ملیں گے اور ہار گئے تو کوئی بات نہیں۔۔۔ پر ایک بار چانس تو لو۔۔۔۔۔ کاش تم لوگوں کی جگہ مجھے یہ آفر آئی ہوتی تو میں آنکھیں بند کر کے کسی کی بھی بیوی بن جاتی۔۔۔۔۔” مدیحہ بولی
"آر یو سٹوپڈ۔۔۔۔ ! تم اس کھڑوس کے پلے باندھ رہی ہو مجھے۔۔۔ موج مستی کے لیے۔۔۔ نو وے۔۔۔۔” میں خفگی سے بولی
"کھڑوس کس کو کہا۔۔۔۔؟” احمر مجھے گھورنے لگا۔۔
"تمہیں کہا۔۔۔۔ تم سے بڑا کھڑوس اس مال میں اور کوئی نہیں ملے گا۔۔۔۔” میں نے اسے جواب دیا
"واٹ۔۔۔۔۔ اور تم۔۔۔ تم کیا ہو۔۔۔۔ سڑی مرچی۔۔۔۔؟ منہ کھولتی ہو تو آگ نکالتی ہو۔۔۔۔۔۔” اس نے بحث شروع کردی
"اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔ یار تم لوگوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔۔ میاں بیوی کی صرف ایکٹنگ کرنی ہے۔۔۔۔۔ ” مدیحہ ہم دونوں کو کھا جانیوالی نظروں سے دیکھ رہی تھی
میری اور احمر کی زبان تو بند ہوگئی لیکن آنکھوں کے اشارے صاف بتا رہے تھے کہ ابھی ایکدوسرے کا سر پھاڑ دیں گے
"ایکسکیوز می۔۔۔۔ ! بھائی صاحب آپ شادی کا کھانا کھانے آئے ہیں۔۔۔۔۔ آپ سمجھا نہیں سکتے انھیں۔۔۔؟” مدیحہ احمر کے دوست کی طرف مڑی جو بیوقوفوں کی طرح کبھی اسکا چہرہ تکنے لگتا کبھی اسکا۔۔۔
"مان جا نا یار۔۔۔۔ ! موج مستی ہی تو ہے۔۔۔۔۔” وہ احمر سے مخاطب ہوا
مدیحہ میرے پیچھے پڑ گئی اور احمر کا دوست اسے سمجھانے لگا۔۔۔۔ ایک طویل بحث و مباحثے کے بعد ہم دونوں نے حامی بھر لی
مدیحہ جلدی سے فارم فِل کرنے لگی۔۔۔
ہزبنڈ نیم۔۔۔۔ احمر رحمان
وائیف نیم۔۔۔ ارسہ احمد
مدیحہ کے پوچھنے پہ ہم دونوں نے اپنے اپنے نام بتائے۔۔۔
"تم لوگ پاگل ہوگئے ہو۔۔۔۔۔؟ ہزبنڈ وائیف کے نام ایسے ہوتے ہیں۔۔۔؟ ”
ہم دونو ں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
"ہزبنڈ نیم۔۔۔ احمر رحمان، وائیف نیم۔۔۔ ارسہ احمر۔۔۔” وہ لکھنے لگی
میں بامشکل اپنے غصے پہ کنٹرول کررہی تھی۔۔
"ڈیٹ آف میرج بتاؤ۔۔۔۔ ؟” مدیحہ ہم دونوں کی طرف دیکھ کے بولی
ہماری خونخوار نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے سر جھکا لیا
"کچھ بھی لکھ دو۔۔۔ لیکن یاد رکھنا ایک آدھ مہینے کا فرق ہو۔۔۔ نیا شادی شدہ جوڑا دیکھانا ہے۔۔۔۔” احمر کا دوست بولا
"ہاں ٹھیک ہے۔۔۔ پچیس دسمبر لکھ دیتی ہوں۔۔۔ تاریخ یاد رہے گی۔۔۔۔” مدیحہ بولی
احمر اور میں اک دوسرے کو گھورنے میں لگے تھے اور وہ دونوں ہماری فرضی شادی کو حقیقت بنا نے کی کوشش کررہے تھے
"لوّ میرج ۔۔۔ یا ارینج۔۔۔۔؟” مدیحہ بولی
"ارینج۔۔۔ سو فیصد ارینج۔۔۔ ایسی لڑکی سے لوّ میرج کون پاگل کرے گا۔۔۔۔” احمر جھٹ سے بولا
"ایسی لڑکی۔۔۔۔۔ ؟ اور تم کیسے ہو۔۔۔۔ سڑو۔۔۔ کھڑوس۔۔۔ سائیکو۔۔۔۔ سیریل کِلر لگتے ہو۔۔۔۔ تم سے بھی لوّ
میرج کوئی پاگل کرے گی۔۔۔۔۔” میں نے جواب دیا
"یار ۔۔۔ ! تم دونوں تھوڑی دیر چپ نہیں رہ سکتے۔۔۔۔ ” مدیحہ چلائی
"لوّ میرج لکھو یار۔۔۔۔۔ ! ارینج میرج کا ایمپیکٹ اچھا نہیں جائے گا۔۔۔” احمر کا دوست بولا
"ہاں صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔۔ !” مدیحہ نے لکھنا شروع کردیا
"تم خوامخواہ اتنی محنت کررہی ہو۔۔۔ پہلے ہی راؤنڈ میں ہمیں باہر کردیں گے۔۔۔۔” میں بولی
"منہ سے کچھ اچھا پھوٹتے ہیں۔۔۔۔۔” مدیحہ چڑ گئی
"لو۔۔۔ بھئی۔۔۔ جھوٹی شادی کا ڈرامہ کروا کے اچھے برے کا سبق پڑھا رہی ہے۔۔۔” میں نے طنز کیا
خدا خدا کرکے فارم فِل ہوا اور ہم چاروں بلڈنگ کے اندر پہنچے ۔۔۔ کاؤنٹر پہ فارم جمع کرایا۔۔۔ وہاں پہ موجود سٹاف نے فارم کی جانچ پڑتال کی ۔۔ تھوڑی دیر بعد ہمیں کارڈ ایشو کیے گئے۔۔۔ مدیحہ اور احمر کے دوست نے ہم دونوں کو بیسٹ وشز دیں۔۔۔ بلآخر ہمیں اس قطار میں کھڑا کر دیا گیا جہاں پہلے سے جوڑے موجود تھے۔۔۔۔ تماشائیوں کے لیے ایک باؤنڈری بنا دی گئی۔۔۔
"میں یہ سب مجبوری میں کررہی ہوں۔۔۔۔ سمجھے۔۔۔۔!” میں نے سرگوشی کی
"اوہ۔۔۔ سیریسلی۔۔۔۔۔ ؟ میں تو سمجھا تھا کہ تم میری دلہن بننے کے لیے مَر رہی ہو۔۔۔۔۔” وہ طنزیہ انداز میں بولا
"پاگل نہیں ہوں میں۔۔۔۔ تم اگر دنیا میں آخری مرد بھی بچے تو بھی میں تم سے شادی کا سوچوں گی نہیں۔۔۔۔” میں نے اسے گھورا
” اچھا۔۔۔ ! میں سمجھ گیا۔۔۔ تمہیں مردوں میں دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔۔” اس نے سرگوشی کی
” بالکل نہیں ہے۔۔۔۔ سارے مرد پتا نہیں کیا سمجھتے ہیں اپنے آپ کو۔۔۔۔۔” مجھے غصہ آنے لگا
"اوہ۔۔۔ مردوں کو چھوڑو یہ سوچو کہ تمہارے جیسی لڑکیوں کو لوگ کیا سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔” وہ میری طرف دیکھ کے بولا
"میرے جیسی لڑکی سے کیا مراد ہے تمہاری۔۔۔۔۔؟” میں نے بھنائی
"ارے ۔۔۔ وہی۔۔۔ جنھیں مردوں میں نہیں۔۔۔ بلکہ عورتوں میں دلچسپی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ا نھیں۔۔۔۔ لس۔۔۔۔۔۔۔۔ ب۔۔” ایک شرارتی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پہ پھیل گئی
"واٹ۔۔۔۔۔ ! تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا۔۔۔۔۔؟ کچھ بھی بکے جارہے ۔۔۔۔ میں جار رہی ہوں۔۔۔ بھاڑ میں گیا یہ سب۔۔۔۔۔” میں شدید غصے میں پیچھے مڑی
"اے ۔۔۔ اے۔۔۔۔ سوری۔۔۔ سوری ۔۔۔ میں بس مذاق کررہا تھا۔۔۔۔ معاف کردو۔۔۔” اس نے میرا ہاتھ پکڑا
ہمارے دائیں بائیں موجود سبھی جوڑے ہماری طرف دیکھنے لگے۔۔۔۔
"نو۔۔۔۔ نو ۔۔ وے۔۔۔ میں ایک منٹ نہیں رکوں گی یہاں پہ۔۔۔۔۔” میں تپ گئی
"اف او۔۔۔۔۔ بولا نہ معاف کردو۔۔۔ دیکھو سبھی ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔۔۔ بلاوجہ رائیتہ پھیل جائے گا۔۔۔۔” اس نے مجھے روکا
"ٹھیک ہے۔۔۔ پر میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔ ” میں اسکی آنکھوں میں دیکھ کے بولی
"ہر شرط منظور ہے۔۔۔ بس کوئی پنگا نہ کرنا۔۔۔۔۔” وہ معصومانہ انداز میں بولا
"شرط یہ ہے کہ جتنی دیر ہم مجبوری کے اس بندھن میں بندھے ہیں تم مجھ سے کوئی بات نہیں کرو گے ۔۔۔۔” میں تیوری چڑھا کے بولی
"اوکے ڈن۔۔۔۔۔ ” وہ بولا
"کتنا لڑتے ہیں دونوں۔۔۔۔۔ یہ تو کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی بھاگ جائیں گے۔۔۔۔ ہی ہی ہی۔۔۔۔” میرے ساتھ کھڑی لڑکی اپنے شوہر کے کان میں پھسپھسانے لگی۔۔۔ وہ بھی اسکی بات سن کےکھی کھی کرنے لگا۔۔ میں اور زیادہ تپ گئی
کھیل کے میزبان نے سٹیج پہ آکے مائیک پکڑا اور تفصیلات بتانے لگا
"سب سے پہلے تو میں آپ سبھی جوڑوں کو امپوریم مال میں ویلکم کرتا ہوں۔۔۔ میرے سامنے جتنے بھی جوڑے ہیں ان سب کی ہیپی لائف کے لیے ڈھیر ساری بیسٹ وشز۔۔۔۔ اب آتے ہیں کھیل پہ۔۔۔ اس کھیل کے چار راؤنڈ ہوں گے۔۔۔ سب سے پہلا راؤنڈ ریس لگانے کا ہوگا۔۔۔۔ ہر جوڑے کا ایک ایک پاؤں ایکدوسرے سے باندھ دیا جائے گا۔۔۔ بزربجتے ہی سب نے دوڑنا ہے۔۔۔ جو جوڑا پہلے ریڈ لائین کراس کرے گا۔۔۔ وہ یہ راؤنڈ جیت جائے گا۔۔۔۔ سب سے آخر ی جوڑے کو کھیل سے باہر کر دیا جائے گا۔
اس کھیل کے دوسرے راؤنڈ میں دولہے کو پھولوں کی ایک ٹوکری دی جائے گی۔۔۔ مقررہ فاصلے پہ کھڑی دلہن کی طرف دولہا پھول پھینکے گا۔۔۔ جس دلہن نے زیادہ سے زیادہ پھول کیچ کیے وہ جوڑا اس راؤنڈ کو جیت جائے گا۔۔۔ سب سے پیچھے رہ جانے والا جوڑا اس کھیل سے باہر ہو جائے گا
تیسرے راؤنڈ میں ہر دلہن کے پاس کھیر سے بھرا ایک ڈبہ ہوگا۔۔۔ دلہن اپنے ہاتھوں سے دولہا کو کھیر کھلائے گی۔۔۔ جس جوڑے نے کھیر جلدی ختم کی وہ اس راؤنڈ کو جیت لے گا۔۔۔ اس راؤنڈ کے اختتام پر بھی پیچھے رہ جانے والا جوڑا کھیل سے باہر ہو جائے گا۔
کھیل کا آخری راؤنڈ دولہا دلہن کے لیے بہت اہم ہے۔۔ کیوں کہ اس راؤنڈ میں دلہن سے دولہا کی ذاتی زندگی کے بارے میں پانچ سوال پوچھے جائیں گے۔۔۔ دلہن ان سوالوں کا جواب دولہا کی غیر موجودگی میں دے گی۔۔ اسکے بعد دولہا سے وہی سوال پوچھے جائیں گے۔۔ جس جوڑے کے زیادہ سے زیادہ جواب میچ ہوئے وہ اس پورے کھیل کا ونر قرار پائے گا۔۔۔۔ آپ لوگوں کے پاس دس منٹ ہیں ایکدوسرے سے مشورہ کرنے کے لیے۔۔۔۔۔ اسکے بعد جیسے ہی بزر بجے گا آپ سب نے پہلے راؤنڈ کے لیے ریڈی ہو جانا ہے۔۔۔ دوسرا بزربجنے پہ کھیل شروع ہوجائے گا”
"اف۔۔۔۔ ہم تو کبھی نہیں جیت پائیں گے۔۔۔۔” میں ہمت ہار گئی۔۔۔
"پہلے سے ہارنے کی بات مت کرو۔۔۔۔ ہوسکتا ہے جیت جائیں۔۔۔۔ ” احمر نے تسلی دی
میں اسکی طرف دیکھ کے مسکرائی
"تم بھاگنے میں کیسی ہو۔۔۔؟ آئی مین کبھی کسی ریس میں حصہ لیا ہے” وہ پوچھنے لگا
"نہیں۔۔۔۔ کبھی کسی ریس میں حصہ نہیں لیا۔۔۔۔ ہاں پر ایک بار ایک کتا میرے پیچھے پڑ گیا تھا۔۔۔ تب میں بہت بھاگی تھی۔۔۔۔ اتنا تیزی سے بھاگی تھی ۔۔۔ وہ مجھ تک پہنچ ہی نہیں پایا۔۔۔۔یوں سمجھو میں نے کتے کو ہرا دیا ۔۔۔۔ تب سب نے یہی مشورہ دیا تھا کہ میں وویمن ریس ٹیم جوائن کر لوں۔۔۔۔” میں اپنی ریس کا اکلوتا واقعہ اسے سنانے لگی
"واٹ۔۔۔۔۔ کتے کے ساتھ ریس لگائی۔۔۔۔۔ ” اس نے اپنا قہقہہ دبا لیا۔۔۔۔
میں خفگی سے اسے گھورنے لگی۔۔
"اور کیچ کرلو گی۔۔۔۔۔؟” وہ اپنی ہنسی روکتے ہوئے بولا
"میں نے کبھی پھول تو کیچ نہیں کیے۔۔۔ لیکن اپنی کلاس میں پنسل ،پین کیچ کرنے میں ماہر تھی۔۔۔ تم یقین نہیں کرو گے۔۔ ناہید کی اور میری شرط لگتی تھی۔۔۔ وہ دس ڈسکس چھوڑ کے پنسل پھینکتی۔۔۔ میں جھٹ سے کیچ کرلیتی تھی۔۔۔۔ بے فکر ہو جاؤ میں پھول بھی کیچ کر لوں گی۔۔۔۔” اپنی زندگی کا ایک اور قصہ میں نے اسکے گوش گزار کیا
"خدایا۔۔۔۔! میرے اوپر رحم کرنا۔۔۔” اس نے اپنے آپ سے سرگوشی کی
میں اسے گھورنے لگی۔۔۔
"ارے ۔۔۔ جیتنے کی دعا کر رہا ہوں۔۔۔۔” وہ ہڑ بڑا کے بولا
"تم کھیر کھا لو گے۔۔۔۔۔؟ ” میں نے پوچھا
"کھیر والا راؤنڈ تو سمجھو ہم ہی جیتیں گے۔۔۔۔۔ بس تم ہاتھ جلدی جلدی چلانا۔۔۔۔ ” وہ انگلی کھڑی کر کے بولا
"یہ غلط ہے ویسے۔۔۔ میں کیوں ۔۔ کھلاؤں گی۔۔۔۔ ” میں خفا ہوئی
"پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ اب اس میں اپنی انا مت لے آؤ۔۔۔ بس یہ سوچو ہمیں جیتنا ہے۔۔۔ کسی بھی حال میں۔۔۔۔” وہ سمجھاتے ہوئے بولا
میں نے سر ہلایا۔۔۔
"آخری راؤنڈ ۔۔۔ ہم کبھی نہیں جیت سکتے۔۔۔۔” میں نے اسکی طرف دیکھا
"کیوں۔۔۔ کیوں نہیں جیت سکتے۔۔۔۔؟” وہ بولا
"میں تمہارے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔۔۔ پتا نہیں وہ کیا سوال پوچھیں۔۔۔۔۔ ” میں نے ایک گہری سانس لی
"دیکھو۔۔۔ ! تمہیں جو بھی لگے۔۔۔ بس دل سے اسکا جواب دینا۔۔۔۔ نصیب میں ہوا تو جیت جائیں گے۔۔۔” اس نے تسلی دی
اتنے میں بزر بجا۔۔۔۔
سب جوڑے تیار ہوگئے۔۔۔ چند لوگ ہماری طرف بڑھے اور ایک ایک کرکے سب جوڑوں کا ایک ایک پاؤں ایکدوسرے سے باندھ دیا۔۔۔
دوسرا بزر بجنے پہ ہم دونوں نے بھاگنے کی کوشش کی۔۔۔پر دوسرےہی قدم پہ میں دھڑام سے نیچے گری۔۔۔ اس سے پہلے میں فلور سے ٹکراتی اس نے میرا بازو مظبوطی سے پکڑا۔۔۔۔ میں نے سر ہلا کے اشارہ کیا کہ مجھے سے نہیں ہو پائے گا۔۔۔۔ سارے جوڑے آگے سے آگے نکلتے جارہے تھے۔۔۔
"تم کرسکتی ہو۔۔۔۔ ہمت کرو تھوڑی سی۔۔۔۔۔بس یہ سوچووہی کتا تمہارے پیچھے پڑا ہے اور تم اس سے بھاگ رہی ہو۔۔۔۔ آس پاس کے لوگوں پہ دھیان مت دو۔۔۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔!” اس نے میرا ہاتھ مظبوطی سے تھاما
"بات بھاگنے کی نہیں تمہارے پاؤں کے ساتھ پاؤں ملا کے چلنا مشکل ہے۔۔۔۔ نہیں کر پاؤں گی۔۔۔” میں نے جواب دیا
"تم میرے پاؤں سے پاؤں مت ملاؤ۔۔ تم دوڑو جیسے دوڑ سکتی ہو۔۔۔ میں تمہارے پاؤں سے پاؤں ملا کےچلوں گا۔۔۔ بس میرا ہاتھ مت چھوڑنا۔۔۔۔۔” وہ میری آنکھوں میں دیکھ کے بولا
میں نے پھر سے ہمت کی اور کھڑی ہوگئی۔۔۔۔اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا اور میں نے دوڑ لگائی۔۔۔۔ اپنے آس پاس کے سبھی لوگوں کو بھول کر میری نظر بس اس ریڈ لائن پہ تھیں۔۔۔۔ اور احمر کی نظریں مجھ پہ تھیں۔۔۔۔۔ تماشائیوں کے شور میں بھی مدیحہ کی آواز واضح میرے کان میں پڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔’ ارسہ احمر’۔۔۔۔ ‘ارسہ احمر’۔۔۔۔۔ ہمارے قدم سب کو پیچھے چھوڑتے منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔۔ بالآخر میں نے وہ لکیر پار کی ۔۔۔ تالیوں کی گونج نے ہماری جیت کا اعلان کیا۔۔۔۔
"مسٹر ااینڈ مسز احمر نے یہ راؤنڈ جیت لیا۔۔۔۔ !” لاؤڈ سپیکر میں اناؤنسمنٹ ہوئی،۔۔۔
میں نے خوشی سے بچوں کی طرح چھللانگیں لگانا شروع کردیں۔۔۔ احمر ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھتا رہا۔۔۔۔
اس راؤنڈ کے بعد کافی جوڑے کھیل سے نکل گئے۔۔۔ جو باقی بچے انکے بیچ اگلا مقابلہ ہونا تھا۔۔۔۔
ایک ایک کرکے ہر جوڑے میں سے دولہا اور دلہن کو ایکدوسرے کے آمنے سامنے کچھ فاصلے پہ کھڑا کردیا گیا۔۔۔۔ دولہا دلہن کی طرف پھول پھینکتا اور دلہن وہ پھول کیچ کرتی۔۔۔ کئی جوڑے بالکل ناکام رہے اور کئی جوڑے کچھ حد کامیاب رہے۔۔۔۔
ہماری بھی باری آگئی۔۔۔۔
"ہر کسی کو بھول کے صرف مجھ پہ دھیان رکھنا۔۔۔۔۔ ” احمر نے میری آنکھوں میں دیکھ کے کہا
میں بنا کوئی جواب دیے سامنے جا کے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
اس نے ایک ایک کرکے پھول میری طرف پھینکنا شروع کیے ۔۔۔ میں کیچ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔ جب تک دھیان اس پہ تھا میں نے بڑی مہارت سے سارے پھول کیچ کیے۔۔۔ پر جب جب دھیان ہٹا۔۔۔ پھول ہاتھ میں نہیں آیا۔۔۔۔
اس راؤنڈ کے اختتام پہ سبھی دلہنوں کے پھول گنے گئے۔۔۔۔۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ ایک دم سے اناؤنسمنٹ ہوئی۔۔۔ ایک بار پھر ہم جیت گئے۔۔۔۔ احمر نے مجھے مبارک باد ۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواباً مبارک باد دی۔۔۔۔
تیسرا راؤنڈ کھیر کھلانے والا تھا۔۔۔۔
اس بار جوڑے بہت کم رہ گئے۔۔۔۔ دولہا دلہن کو آمنے سامنے بٹھا دیا گیا۔۔۔۔ بزرر بجتے ہی۔۔۔ میں نے جلدی سے کھیر کا چمچ احمر کے منہ میں ڈالا۔۔۔۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کھانے میں اتنا تیز ہے۔۔۔۔۔ میرے ہاتھ اسکے کھانے کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے۔۔۔۔ اچانک ہی میرے ہاتھ سے چمچ گر گیا۔۔۔۔ میں چمچ اٹھانے کے لیے نیچے جھکی۔۔۔۔ احمر نے مجھے روک دیا۔۔۔
"یو ز یور فنگر۔۔۔۔۔” وہ جھٹ سے بولا
"واٹ۔۔۔۔ فنگر۔۔۔۔۔ ؟ نو۔۔۔۔” میں نے سر ہلایا
"کم آن یار۔۔۔ ہم ہار جائیں گے۔۔۔ ہری اپ۔۔۔۔” وہ دھاڑا
میں نے ادھر ادھر دیکھا ، چارو ناچار اپنی انگلی سے اسے کھیر کھلانے لگی۔۔۔۔ کھیر کم رہ گئی تھی۔۔
کچھ جوڑوں نے بیچ میں چھوڑ دیا۔۔۔ پر میں حیران تھی میرے والا تو کھانے کی مشین نکلا۔۔۔
بزرر بجا۔۔۔ اور ہمارے ساتھ ساتھ دو اور جوڑے بھی اس راؤنڈ کو جیت گئے۔۔۔
اب آخری مقابلہ جیتنے والے تین جوڑوں کے بیچ میں تھا۔۔۔۔
آخری راؤنڈ میں تینوں مردوں کو وہاں سے دور لے جایا گیا۔۔۔۔ اور تینوں خواتین سٹیج پہ براجمان تھیں۔۔۔
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ اس بار تو ہار پکی ہے۔۔۔۔ مدیحہ کی آوازیں کان میں پڑ رہی تھیں۔۔۔ وہ ہمت بڑھانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔ پر میں پہلے ہی ہار مان چکی تھی۔۔۔
پہلی دلہن سے پانچ سوال کیے گئے۔۔۔ پھر دوسری کی بار آئی۔۔۔ اس نے بھی جواب دیے۔۔۔۔ میں اپنے آپ میں کھوئی تھی۔۔ میزبان نے مجھے دو بار آواز دی۔۔۔
"ارسہ احمر۔۔۔ اب آپکی باری ہے۔۔۔۔ ” میں اسکی آواز پہ چونکی
مائیک میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔۔۔ پورے ہال میں خاموشی تھی۔۔۔
"کیا آپ تیار ہیں۔۔۔۔ ؟” میزبان نے پوچھا۔۔۔
میں نے سر ہلایا۔۔۔۔
"آپ سے پہلا سوال یہ ہے کہ مسٹر احمر۔۔۔ سب سے زیادہ کس انسان سے پیار کرتے ہیں۔۔۔۔؟”
اف یہی سوال ملا تھا۔۔۔۔ اب مجھے کیا پتا کس سے پیار کرتا ہے۔۔۔ کرتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔ میں سوچ میں پڑ گئی۔۔
"آپکے پاس وقت کم ہے۔۔۔۔۔ !” میزبان کی آواز پھر سے گونجی۔۔۔
کس سے کرتا ہوگا۔۔۔۔؟ ماں سے۔۔۔ ہاں شائد ماں سے کرتا ہوگا۔۔۔۔۔ ایکدم سے میرے دماغ میں پَری گھومنے لگی۔۔۔ شائد وہ اپنی بھانجی سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہوگا۔۔۔۔
"پَری ۔۔۔۔ پَری سے ۔۔۔ وہ سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔۔۔” میں نے دل پہ ہاتھ رکھ کے جواب دیا
"پَری کون ہیں۔۔۔۔؟” میزبان نے پوچھا
"انکی بھانجی۔۔۔” میں نے جواب دیا
"آر یو شور۔۔۔۔۔؟” اس نے پوچھا
میں نے سر ہلایا۔۔۔
"آپ کے لیے دوسرا سوال یہ ہے کہ مسٹر احمر سب سے زیادہ نفرت کس سے کرتے ہیں۔۔؟”
سب سے پہلے میرے دماغ میں اپنا ہی نام آیا۔۔۔ ہو نا ہو۔۔۔ مجھ سے ہی وہ سب سے زیادہ نفرت کرتا ہوگا۔۔
"مجھ۔۔۔۔۔۔ ” میں کہتے کہتے رک گئی۔۔۔
پاگل لڑکی اپنا نام دیا تو کھیل سے ہی فارغ ہو جاؤ گی۔۔۔ جھوٹی شادی والا پول کھل جائے گا۔۔۔ میں نے خود کو کوسا
"کسی سے نہیں۔۔۔۔ وہ کسی سے نفرت نہیں کرتے۔۔۔۔” زیادہ سے زیادہ جواب ہی غلط ہوگا۔۔۔ کم سے کم جھوٹ تو نہیں پکڑا جائے گا
"کوئی ایسا واقعہ۔۔۔ جس کی چھاپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انکی زندگی پہ رہے گی۔۔۔۔ ؟” اگلہ سوال یہ تھا
اف۔۔۔ اب مجھے کیا پتا۔۔۔۔ میں تو دو دن سے جانتی ہوں اسے۔۔۔۔ مجھ سے جھوٹی شادی والا کھیل۔۔۔ ہاں شائد یہ والا واقعہ وہ کبھی نہیں بھولے گا۔۔۔ ارسہ تم کتنی پاگل ہو۔۔۔۔ اس مال سے نکلتے ہی وہ سب کچھ بھول جائے گا۔۔۔۔۔ میں اپنے آپ سے مشورے کرنے لگی۔۔۔
"میڈم۔۔۔ ! آپکے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔۔” میزبان نے وارننگ دی
یار۔۔۔ کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ اوہ یس۔۔۔۔
"روڈ ایکسیڈنٹ میں انکے بابا، بہن اور بہنوئی کی موت کو شائد وہ کبھی نہیں بھول پائیں گے۔۔۔ اور اس واقعہ کی گہری چھاپ ہمیشہ انکی زندگی پہ رہے گی۔۔۔۔” میرے اس جواب پہ سبھی کے سر جھک گئے۔۔۔۔ پورے ہال میں ایک اداسی سی چھا گئی
"آپکے شوہر کی زندگی کی سب سے اہم چیز کونسی ہے۔۔۔۔؟ ” یہ چوتھا سوال تھا۔۔
شائد اسکی فیملی ہے اسکے لیے سب کچھ ہوگی۔۔۔
"انکی فیملی سے بڑھ کے انکے لیے کچھ نہیں ہے۔۔۔۔” میں نے دوٹوک جواب دیا
"آپکا آخری سوال یہ ہے۔۔۔ آپ لوگ جب پہلی بار ملے تو مسٹر احمر نے کس رنگ کا لباس پہنا تھا؟”
یہ میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔۔۔ میری ہنسی نکل گئی
"سفید شرٹ ، میرون ٹائی اور بلیک پینٹ کوٹ۔۔۔۔۔” میں نے جواب دیا
سب نے تالیاں بجائیں ، میں نے مائیک میزبان کے حوالے کردیا
تینوں مردوں کو واپس بلایا گیا۔۔۔ ہمارے صحیح اور غلط جوابوں کا سارا درومدار اب ان پہ تھا۔۔۔
اس بار مجھے ہارنے کا بالکل ڈر نہیں تھا۔۔۔ پہلی بار میں نے اسکے بارے میں اتنی گہرائی میں جا کے سوچا تھا۔ میں نہیں جانتی ہم یہ کھیل جیتیں گے یا نہیں۔۔۔ پر اتنا ضرور ہے۔۔ میں احمر کو جاننے لگی تھی۔۔۔
میرے پاس سے گزرتے اس نے آنکھ کے اشارے سے ہنٹ مانگا۔۔۔۔ میں اپنے دل پہ ہاتھ رکھا اور مسکرا کے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
"ہر جواب دل سے دینا۔۔۔۔۔ ”
بقیہ اگلے حصے میں


