منتخب غزلیں

روپ اپنا یہ بدلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا : امبرین عاشیؔ

روپ اپنا یہ بدلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا

زخم اشکوں میں بھی ڈھلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا

ناگ بن کر مری بینائی نگل جائیں گے

خواب آنکھوں میں جو پلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا

عشق ہے کیا یہ مجھے کس لئے سمجھاتے ہو

جسم و جاں آگ میں جلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا

لفظ میٹھے جو سماعت کو بھلے لگتے ہیں

لفظ وہ زہر میں ڈھلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا

چاند کھیلن کو جو مانگیں ہیں وہ ضدی بچے

کب کھلونوں سے بہلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا

جن کا احساس کچل دیتی ہے دنیا عاشیؔ

پھول کلیاں وہ مسلتے ہیں، سمجھتی ہوں نا

 

امبرین عاشیؔ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/