یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش) قسط نمبر 10 شیرافگن آ…

قسط نمبر 10
شیرافگن آفس سے لوٹا تھا.وہ سیڑھیاں طے کرتا ساتھ موبائل پر نمبر ڈائل کر رہا تھا.اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا.موبائل کان سے لگایا ہوا تھا.”ہاں ولی بتاؤ کیا بنااحمر جمالی کا؟”وہ بات کرتا ہوا بیڈ پر بیٹھا.”بس سمجھ لو اسکا قصہ ختم ہوا.کیس بہت اسٹرونگ ہے.لڑکی نے گواہی دے دی ہے.احمر جمالی کا باپ اسے باہر نکلوانےکے چکر چلا رہا ہے .پر ابھی تک ناکام ہی ہوا ہےاور آگے بھی ناکام ہی ہوگا.اب سب ٹھیک ہے.تم بس ریلیکس ہو جاؤ یار”ولید نے اسے ساری بات بتائی.جب سے احمر جمالی پکڑا گیا تھا.تب سے شیر افگن ، ولید سے اسکی خبر لیتا رہاتھا.
"ویل ڈن ولی اور شکریہ یار تم نے میری اتنی مدد کی.” شیرافگن اتنے دنوں میں اس سے بات کرتا پہلی بار مسکرایا تھا.”کم آن یار…شکریہ کو چھوڑو اور نکاح کی خوشی میں ڈنر کراؤ.”ولی نے ہلکے پھلکے انداز میں مسکرا کر کہا.وہ احمر جمالی کے چکر میں شیرافگن کے نکاح میں نہیں آ پایا تھا.”کیوں نہیں مجتبیٰ صاحب کو بھی بلا کر تینوں یار مل بیٹھیں گے.کیا کہتے ہو؟”شیر افگن نے سوالیہ انداز میں پوچھا.”گڈ آئیڈیا شیر صاحب، ڈن کرو پھر اس ملاقات کو.”ولید نے ہنس کر کہا تو شیرافگن بھی ہنس دیا.پھر ایک دو اور باتیں کر کے اسنے فون بند کر دیا.کوٹ اتار کر وہ واش روم گیا. فریش ہو کر نکلا تو اسکا موبائل بجنے لگا.اسنے موبائل اٹھایا۔ اسکرین پرنام دیکھ کر اسکے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی.اسنے کال پک کی.”ہیلو…آج اپنے دوست کی یاد کیسےآگئی؟”شیرافگن نے شرٹ کے اپری بٹن کھولتے ہوئے مسکرا کر کہا۔”کیونکہ آپکی دوست پاکستان آ رہی ہے.” ہانیہ نے ہنس کر جواب دیا.”واؤ دیٹس گریٹ…تو کیسے آنا ہورہا ہے؟ کسی کام کے سلسلے میں یا اپنے دوست سے ملنے کا دل کیا؟ "شیرافگن نے مسکرا کر پوچھا.” دونوں باتیں ہیں.میرے دوست کا نکاح ہواہے.تو مجھے مبارک دینے آنا چاہیےناں” ہانیہ نے محبت سے کہا.”اچھا پیاری دوست…پھر تمہارا انتظار رہے گا "شیرافگن نے دوستانہ لہجے میں کہا.”ابھی فائنل نہیں ہوا.جب ہوا تو بتاؤ گی شیر مار.”ہانیہ نے شرارت سے کہا.شیرافگن نے ہی اسے بتایا تھا کہ حیات میڈم اسے شیر مار کہہ کر بلا تی ہے. "لڑکی یہ تم مجھے شیر مار کیوں کہہ رہی ہو.یہ کسی اور کا حق ہے؟” شیرافگن نے جھٹ سے مسکرا کر کہا.تو ہانیہ کھلکھلا کر ہنسی.”اللّه اللّه میرا دوست تو بالکل بدل گیا ہے.ویسے ہماری حیات ہے ہی اتنی پیاری دیوانہ ہونا تو بنتا ہے.” ہانیہ نے ہنستے ہوئے کہا "اب میں اتنا بھی دیوانہ نہیں ہوا ہانی.”شیرافگن نے سر جھٹک کر بات اڑائی.”چلو جانے دو حیات کے شیر مار اب بنو مت تم اس پیاری لڑکی کے سامنے بن سکتے ہو.پر میں تمہیں اچھے سے جانتی ہوں.”ہانیہ نے شوخی سے کہا.شیرافگن کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرگئی.”جی جی ہانی آپ تو سب سے زیادہ مجھے جانتی ہیں.”شیرافگن نے شوخی سے کہا.تبھی اسنے ہلکے کھلے دروازے میں دیکھا جہاں حیات ہاتھ میں ٹرے لئےکھڑی تھی.”ہونہہ لگتا ہے کچھ زیادہ ہی جانتیں ہیں”اسکی بات سن کر حیات نے جل کر سوچا.اسکا دل تھا کہ یہاں سے ہی واپس چلی جائے پر شیر مار اسے دیکھ چکاتھا.”آجاؤ حیات”اسنے فون کان سے ہٹا کر اسے اشارہ کیا.وہ تیکھی نظروں سے اسے دیکھتی کمرے میں داخل ہوئی.جبکہ شیرافگن پھر فون کی طرف متوجہ ہوا.”اوکے ہانی تم سے پھر بات ہوگی” اسنے فون پر کہا.”ہاں ہاں اب آپکی پرنسیس آگئیں ہیں. اب دوست کا بھلا کیا کام”ہانیہ نے شرارت سے کہا. شیر افگن ایک دم سے ہنسا.حیات نے ٹرے ٹیبل پر رکھ کر ایک ناگوار نظر بیڈ پربیٹھے شیرافگن پر ڈالی. "بالکل یہی بات ہےچلو بائے.”شیرافگن نے جلدی سے فون بند کیا پھر حیات کی طرف متوجہ ہوا.جو پلٹ کر جانے لگی.”حیات "اسنے جلدی سےپکارا.حیات نے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا.”چاۓ بناکر یہیں دے دو.میری ہمت نہیں کہ اٹھ صوفے تک جاؤں.” شیرافگن نے جان بوجھ کر سستی سے کہا تا کہ محترمہ کو کچھ دیر اور اپنی نظروں کے سامنے تو دیکھےلے گا.ورنہ تو آجکل وہ اس سےبات ہی نہیں کر رہی تھی.
"ہنستےکی اور گھنٹہ گھنٹہ فون پر باتیں کرنے کی ہمت ہے.پر چاۓ لینے کی نہیں….ہونہہ مجھے کیا گھنٹہ کیا دو گھنٹے بات کریں میری بلا سے.”وہ جل کر سوچتے ہوئے چاۓ بنا کر اسکی طرف لے کر آئی.شیرافگن کی بات اسکے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی.”جی جی ہانی آپ تو سب سے زیادہ مجھے جانتی ہیں.”ایک بار پھر یہ بات حیات کے دماغ میں گونجی تو اسنے سر جھٹک کر کپ شیرافگن کو پکڑایا.پتہ نہیں پر کپ شیر افگن کے ہاتھ میں جانے کے بجاۓ اسکے اپر الٹا.پھر ٹھا سے زمین پرگرا .حیات نے حیرت سےکپ کو دیکھا.پھر ڈر کر نظریں اپر اٹھائیں.شیرافگن جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا.گرما گرم چاۓ اسکی شرٹ پر گری تھی.اپر کے بٹن کھلے ہونے کی وجہ سے افگن صاحب کا سینہ جل گیا تھا.حیات ایک دم ہوش میں آ کر اسکے قریب ہوئی پھر جلدی سے اپنے دوپٹے سے اسکی شرٹ صاف کرنے لگی. "آئم سوری…مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کیسے گر گئی. آئم سو سوری…”وہ جلدی جلدی سے بولتی چلی جا رہی تھی. اسے ڈر تھا ابھی شیرافگن نے اسے ڈانٹ دینا ہے. جبکہ شیرافگن نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی جھلی کو دیکھا. "ایٹس اوکے.”شیرافگن نے اسکی باتوں کے درمیان، شرٹ صاف کرتےاس کے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لے کر کہا.حیات کی زبان کو بریک لگی.اسنے سنہری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا.” جی!!!”حیات نے مدھم آواز میں کہا.”جی… ایٹس اوکے.ریلکس ہوجاؤ پرنسیس”حیات کی آنکھوں میں دیکھ کر وہ مدھم مسکراہٹ کے ساتھ بولا.اچانک حیات ہوش کی دنیا میں واپس آئی.اسنے شیرمار کو اپنے اتنے قریب دیکھا وہ بھی اپنے ہاتھ تھامے ہوئے. اسے زور دارجھٹکا لگا.اسنے اپنے ہاتھ چھوڑانے چاہے پر دوسری طرف فلحال ایسا کوئی ارادہ نظر نہیں آ رہا تھا.”چھوڑیں میرے ہاتھ”اسنے تیکھے لہجے میں کہا.پر شیرافگن نے مسکرا نفی میں سر ہلایا.”آپ مجھے تنگ کرنا چھوڑ دیں.ورنہ آپ مجھے جانتے ہیں.”حیات نے غصے سے اسے دیکھ کر کہا
"ہاں بہت اچھے سے جانتا ہوں.”شیرافگن نے شوخی سے کہا.حیات نے طنزیہ انداز میں اسے دیکھا.”اچھا…” آبرو اٹھا کر کہا گیا۔شیرافگن نے سر کو خم دیا.”تو پھر افگن بھا..”اسنے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی.شیرافگن جھٹکے سے اسکے ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہوا. "استغفار.. پاگل ہو کیا.کیا اول فول بول رہی ہو.تمہارا دماغ خراب ہے.”اسکی بات پر شیرافگن کا پارہ ہائی ہوا.حیات نے جل کر اسے دیکھا.”تو آپکو کہا تھا ناں ہاتھ چھوڑیں میرے ، آپ سیدھے سے ہی چھوڑ دیتے تو میں ایسا کیوں بولتی”اسنے منہ بنا کر کہا.”تمہارے بولنے سے گناہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا. منکوحہ ہو تم میری سمجھی.” شیرافگن کو تو غصہ ہی آ گیا.حیات نے ڈر کر اسے دیکھا شیرافگن کے ماتھے پر بل پڑ چکے تھے.پھر ایک پل کی دیر کئے بنا وہ باہر کی طرف بھاگی کہ اس سے پہلے کہ شیرافگن کا جلاد والا روپ سامنے آتا.اسنے بھاگ جانا ہی مناسب سمجھا.
"پاگل کہیں کی.”شیرافگن نے دانت پیس کر کہا پھر غصے سے شرٹ اتار کر پھینکی.وہ حیات پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا. دادو نے بھی اسے منع کیا تھا.پر وہ کیا کرتا حیات خود ہی پاگلوں والی باتیں کر جاتی کہ اسے غصہ آ جاتا تھا.غصے کو ٹھنڈا کرتا وہ واش روم کی طرف بڑھا.
انکے سیکنڈ لاسٹ سیمسٹر کے پیپر ہونے والے تھے.آجکل سب پڑھائی میں لگیں تھی.ابھی بھی وہ لوگ گراؤڈ میں بیٹھیں پڑھ رہیں تھیں.جب مینا، حیات کے قریب ہوئی.”سنا ہے کل شیر کے پنجرے سے بچ کر بھاگی ہو؟”مینا نے آہستہ سے ہنس کر پوچھا.” بتا دیا حریم کی بچی نے تمہیں…اوریہ کونسی خوشی میں ہنس رہی ہو؟”حیات نے تپ کر اسے دیکھا. حریم نے رات کو اسے کال کی تھی.اسنے ساری کہانی اسے بتا دی.حریم بڑا ہنسی تھی۔جسنے حیات کو غصہ دلایا تھا.اسلئے اسنے سوچا تھا باقی چڑیلوں کو نہیں بتاۓ گی.پر اب بات نکل چکی تھی.
"کیاباتیں ہو رہیں ہیں.” تابی کے پیٹ میں درد ہوا کہ ایسی کیا بات ہے؟جو سرگوشی میں ہورہی ہے.حیات نے حریم کو گھورا.حریم نے مسکرا کر اسے دیکھا.”اس حریم سے پوچھو یہ تم لوگوں کو بتاۓ گی.”حیات نے جل کر کہا۔حریم نے ہنس کر سر کو خم دیا.پھر مزے سے مصالحہ لگا کر سبکو بتانے لگی.حیات منہ بناتی بک میں سر دئے بیٹھی رہی.”ہاہاہا…”بات ختم ہوئی تو سب زور سے ہنسیں.”بند کرو اپنے منہ چڑیلو”حیات نے سب کو گھورا. "حیات تم افگن بھائی کے ہاتھوں سے پٹ جاتی.شکر کرو جلدی سے بھاگ گئی تھی.”تابی نے مزے سے تالی بجا کر کہا.”ویسے تم نے غلط کیا تھا لڑکی”مینا نے اسے دیکھ کر کہا.”بالکل ایسا کوئی بولتا ہے بھلا” سبین نے بھی سر ہلا کر کہا.سب اسے سمجھانے میں لگیں تھیں. "اچھا اچھا بس کرو پتہ ہے غلط کہا تھا.معاف کر دواب .کہو تو شیرمار سے بھی معافی مانگ لونگی” حیات نے جھنجھلا کر سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا.
"گڈ گھر جا کر معافی مانگ لینا افگن بھائی سے” حریم نے ہنس کر کہا.”ویسے ہی کہا ہے میں نے۔…۔معافی کیوں مانگوں بھلا۔انہوں نے بھی مجھے پریشان کیا تھا.”حیات نے منہ بنا کر کہا۔”اچھا مت مانگو پر آئندہ ایسا نہ کہنا.” سبین نے اسکا کندھا تھپکا.”ویسے ایک بات میں تمہیں سمجھا دوں حیات”تابی نے انگلی اٹھا کر بڑی سنجیدگی سے کہا.”ہاں بولیں دادی اماں”حیات نے شوخی سے اسے دیکھ کر کہا.”تم افگن بھائی کو آج سے شیرمار نہیں کہو گی بلکہ…”تابی رکی.اسکی بات پر حیات اسے گھورنے لگی.”بلکہ کیا….”حریم نے جلدی سے کہا.سب اسکی طرف متوجہ تھیں.”بلکہ تم انھیں آج سے ڈارلنگ، سویٹ ہارٹ ، جان یا ریسپیکٹڈ ہسبنڈ کہہ کر پکارو گی. سمجھ گئی.”تابی نے آبرو اٹھا کر مزے سےکہا
"سمجھ گئی.رکو ذرا اب تمہیں بھی سمجھاتی ہوں.” حیات چبا کر کہتی اٹھ کھڑی ہوئی.تابی چیخ مار کر اٹھ کر بھاگی.تابی آگے آگے تھی اور حیات اسکے پیچھے. باقی تینوں وہیں بیٹھیں زور زور سے ہنسنے لگیں.کچھ دیر کے بعد دونوں پھولی سانسوں کے ساتھ واپس آئیں. حیات نے تابی کے گلے میں بازو ڈالا ہوا تھا. جیسے ابھی اسکا گلہ دبا دے گی.”ہاں تو جان ، سویٹ ہارٹ اب تم سنو میں تو ساری زندگی انھیں شیر مار ہی کہوں گی. سمجھی”حیات نے زور دے کر کہا.سب ہنسنے لگیں.
"اچھاچھوڑو مجھے چڑیل کہیں کی.” تابی نے جل کہا. حیات نے ہنس کر اسے چھوڑ دیا.
"تمہیں تو افگن بھائی ہی سیدھا کریں گے.” تابی ، حیات سے دور ہو کر شرارت سے ہنس کر بولی.حیات آنکھیں نکال کر اسکی طرف بڑھی.تابی نے پھر سے دوڑ شروع کر دی.حیات اسکے پیچھے بھاگی جبکہ وہ تینوں ہنسنے لگیں.جب بھی وہ سب پڑھنے کے لئے بیٹھتیں تھیں.تب کوئی نہ کوئی بات نکل آتی پھر وہ لوگ پڑھائی چھوڑ کر باتوں میں لگ جاتیں.اب بھی ایسا ہی ہو رہا تھا۔
شیرافگن ، مجتبیٰ اور ولید نے ساتھ ڈنر کیا. اتنے دنوں بعد تینوں آج فری ہوئے تھے.تو انہوں نے ڈنر کا پلان بنا لیا.دیر تک تینوں ایک ساتھ رہے.خوشگوار ماحول میں گپیں لگاتے رہے تھے.ولید نے احمرجمالی کا بتایاکہ اسے جیل ہو چکی ہے.شیر افگن اس بات سے بہت خوش ہوا تھا کہ اب سب ٹھیک ہو چکا ہے.
دوسری طرف ان چڑیلوں کے پیپرز ہو رہے تھے.کل انکا سیکنڈ لاسٹ پیپر تھا.حیات کمرے میں بیٹھی تیاری میں مگن تھی.ساتھ فون پر سب چڑیلوں سے باتیں بھی چل رہیں تھیں کہ کتنا پڑھا جا چکا ہے.اسی طرح انکی باتیں اور تیاری دیر رات تک چلتی رہی.
صبح حیات جلدی ہی تیار ہو چکی تھی.وہ ناشتے کے لئے نیچے آئی.تبھی اسکے موبائل پر ایمان کی کال آئی.جب سے پپیرز سٹارٹ ہوئے تھے.ایمان اسے صبح کال کر کے گڈ لک ضرور کہتی تھی.اسنے ایمان سے بات کی پھر ناشتہ کرکے یونی کے لئے نکلی.جب وہ یونی پہنچی تو سب بکس پکڑے بیٹھیں تھیں۔کچھ دیر میں انکا پیپر سٹارٹ ہوا۔ پیپر دے کر نکلیں تو سب خوش تھیں۔ انکا پیپر بہت اچھا ہواتھا۔
"اہ شکر اب بس ایک مصیبت اور پھر آرام فرمائیں گے”مینا نے ہاتھ دعا کی صورت اٹھا کر منہ پر پھیرے۔
"بالکل یار…پیپرز میں ٹینشن بڑی ہوتی ہے۔ شکر ہم فری ہونگے۔”حیات نے بک بیگ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
"یارتم لوگوں کو احمرجمالی کا پتہ چلا۔”تابی نے سب کو دیکھ کر کہا۔”کیوں کیا ہوا۔”حریم نے جلدی سے پوچھا۔ اسے ڈر تھا.کہیں وہ واپس یونی تو نہیں آرہا۔
"جیل ہو گئی ہے اسے۔”تابی نے بتایا۔ حیات نے ناگواری سے سر جھٹکا۔”بہت اچھا ہو گیا۔” حیات نے چبا کر کہا
"بالکل اب کوئی ڈر نہیں۔ ورنہ میرے دل میں ڈر تھا۔ کہیں وہ اس دن کا بدلہ لینے نہ پہنچ جائے۔”حریم نے ریلیکس ہو کر کہا۔ حیات نے بھی خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا۔اس نے بھی کسی کو بتایا نہ تھا۔ پر ڈر اسے بھی تھا کہ احمر جمالی کوئی قدم ضرور اٹھائے گا۔ پر شکر ایسا کچھ نہیں ہوا۔”شکر یار احمر جمالی کا کام تمام یوا۔اب کوئی ڈر نہیں۔”سبین نے چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔”اور یہ سب ہمارے جیجو نے کیا ہے۔ واہ بھائی واہ۔”مینا جو کب سے خاموش بیٹھی تھی۔ پرجوش ہو کر بولی۔”افف ہاں ناں افگن بھائی نے کمال کر دیا۔”تابی نے ہنس کر کہا۔وہ چاروں اب شیرافگن کے گن گانے میں لگیں تھیں۔ حیات خاموش بیٹھی تھی۔ مینا نے اسے ٹہکا دیا۔ "تمہیں کچھ نہیں کہنا؟”مینا نے اسے دیکھ کر کہا۔”ہاں تم سب ٹھیک کہہ رہی ہو سب انہوں نے ہی کیا ہے اور بہت اچھا کیا۔”حیات نے سر ہلا کر کہا۔ان سب نےایک دوسرے کو اشارے کئے۔”اہممم۔۔۔۔انہوں”تابی نے کھانس کر شرارت سے کہا۔سب ہنسنے لگیں۔
"ہاں تو پھر اور کیا کہوں۔”حیات نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔”وہی جو اس دن میں نے کہا تھا۔”تابی نے آنکھ دبا کر کہا۔”تم ہو ہی کمینی۔۔”حیات نے اسے دیکھ کر جیسے الفاظ چبائے تھے۔”مت تنگ کرو میری پیاری دوست کو”حریم نے حیات کا سر اپنے کندھے سے لگایا۔
"دیکھو حریم یہ چڑیلیں مجھے تنگ کرتیں ہیں۔”حیات نے منہ بسور کر انکی شکایت لگائی۔تابی اور مینا ہنس کر اسے اور چڑا رہیں تھیں۔”اچھا رہنے دو انھیں۔۔۔تم شیرافگن کہہ لیا کرو ناں۔”سبین نے اسے دیکھ کر کہا
"توبہ کتنا عجیب لگے گا انکا نام لینا۔”حیات نے منہ بنایا۔
"شیر مار اور جلاد تو تم انکے منہ پر کہنے سے رہی۔ یہی کہنا پڑے گا۔”مینا نے ہنس کر کہا۔
"اور ڈارلنگ ، سویٹ ہارٹ بھی کہنے سے رہی۔”تابی نے آنکھ دبا کر کہا۔حیات نے اسے گھورا۔”افگن کہہ لو یار اس میں اتنا کیا سوچنا۔”حریم نے اسکی لٹ ہلکے سے کھینچ کر کہا۔”ہاں یہی ٹھیک ہے۔”حیات نے سر ہلایا۔
"بس ساتھ بھائی نہ لگانا۔”حریم نے مسکرا کر کہا تو ان سب کے ساتھ حیات بھی ہنسنے لگی۔اسے شیرافگن کا نام لینا عجیب لگ رہاتھا۔اتنے سالوں سے وہ اسے بھائی بولتی آرہی تھی اور اب یوں اچانک انکا رشتہ بدلہ تھا کہ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی۔ پر اب اگر اسے بلانا ہوتا تو ظاہر سی بات ہے۔ نام لے کر ہی پکارنا ہو گا۔
آج انکا لاسٹ پیپر بھی ہوچکا تھا۔ سب بہت خوش گراؤڈ کی طرف آئیں تھیں۔کافی دیر وہ سب باتیں کرتی رہیں۔پھر چھٹی ہوئی تو سب ایک ساتھ یونی سے باہر نکل کر پارلنگ ایریا کی طرف آئیں۔سب حیات سے مل کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گئیں۔حیات کب سے وہاں کھڑی تھی پر کریم بابا ابھی تک اسے لینے نہیں پہنچے تھے۔یونی آہستہ آہستہ خالی ہو رہی تھی.حیات پریشان ہونے لگی۔اسنے جلدی سے بیگ سے موبائل نکالا تاکہ گھر میں کال کر کے بتا سکے پر اسکا موبائل آوف پڑا تھا۔”اوہ نو۔۔۔ اسے بھی آج ہی بند ہونا تھا۔اب کیا کروں۔بابا کیوں نہیں آئے ابھی تک۔”وہ پریشانی سے بڑبڑائی۔ لاسٹ پیپر کے چکر میں وہ پڑھائی کرتےہوئے ہی سو گئی تھی۔ موبائل کو چارچ پر لگا ہی نہ سکی۔خود کو کوستی ہوئی وہ پارکنگ سے ہٹ کر باہر کی طرف آئی تاکہ روڈ پر دیکھ سکے کہ کار آئی یا نہیں۔ پر دور دور تک اسکی کار کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔”ہائے اللّہ اب میں کیا کرو۔”وہ بے حد پریشان تھی۔وہ کبھی ایسی سٹویشن میں نہیں پھنسی تھی اور اب اچانک ایسا ہو گیاتھا۔وہ روڈ کے ایک طرف کھڑی گاڑیوں پر نظر دوڑا رہی تھی۔جب دائیں طرف سے آتی ایک گاڑی اچانک اسکے سامنے رکی۔وہ ایک دم سے ڈر سی گئی۔پتہ نہیں کون تھا۔وہ آج سے پہلے یوں اکیلی نہیں ہوئی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب کیا کرے۔وہ سوچوں میں گم تھی۔ جب گاڑی کا دروازہ کھول کر کوئی باہر نکلا۔ سامنے والے کو دیکھ کر حیات ایک دم بت سی بن گئی۔وہ بھاگ جانا چاہتی تھی پراسکی ٹانگوں میں جان نہ رہی۔وہ حیات کی طرف بڑھ رہا تھا اور حیات آنکھیں پھارے ڈر سے اسے دیکھ رہی تھی۔
شیرافگن آفس میں تھا۔جب الماس بیگم نے اسے کال کی.”جی چھوٹی امی”افگن نے کال پک کر کے کہا۔
"بیٹا وہ کریم بابا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔انھیں ہسپتال لے گئے ہیں۔ آپ حیات کو یونیورسٹی سے لے آئیں۔اسکا فون بند جارہا ہے۔ مجھے اسکی فکر ہورہی ہے۔”الماس بیگم نے پریشانی سے اسے بتایا۔شیرافگن جلدی سےاٹھ کھڑا ہوا۔”آپ پریشان نہ ہو چھوٹی امی میں ابھی جاتا ہوں۔”اسنےالماس بیگم کو تسلی دی۔پھر کار کی چابی اٹھا کر روم سے باہر نکلا۔ شیرآفگن آفس سے نکل کر جلدی سے کار میں بیٹھا اور زن سے کار آگے بڑھا دی۔ اسے حیات کی فکر ہو رہی تھی۔ وہ لڑکی کبھی اکیلی گھر سے باہر نہیں گئی تھی۔اپر سے محترمہ کا فون بھی بند تھا۔ اسنے حیات کا نمبر ڈائل کیا۔پر نمبر ہنوز بند آر ہا تھا۔”یہ لڑکی بھی ناں”اسے غصہ آنے لگا۔اسنے غصے سے موبائل ساتھ والی سیٹ پر پھینکا۔ تب ہی اسکا موبائل بجا۔اسنے جلدی سے موبائل ہاتھ میں لے کر
کال پک کی۔”ہیلو۔۔”اسکے ہیلو کے جواب میں ولی جلدی سے بولا۔”شیرافگن ایک بری خبر ہے یار۔”ولید کی افسردہ آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔
"کیا ہوا ولی۔ ۔ ۔جلدی بتاؤ”شیرافگن نے بے تابی سے کہا۔ ناجانے کیوں پر اسکا دل گھبرا رہا تھا۔
"احمر جمالی کو کل رات ہی اسکے باپ نے جیل سے نکلوا لیاتھا۔بڑے آفیسرز اسکے ساتھ ملے تھے۔ خفیہ طور پر سب ہوا ہے۔ مجھے بھی ابھی ہی خبر ملی ہے۔ائم سوری یار میں کچھ نہ کر سکا۔”ولید غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں اسے بتا رہا تھا۔ اسکی بات سن کر شیرافگن کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اسے حیات کی فکر کھائے جا رہی تھی۔”اوکے ولی۔”اسنے اتنا کہہ کر کال کاٹ دی۔ پھر گاڑی فل اسپیڈ پر ڈال دی۔ گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی تھی۔ وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔ وہ سوچنا نہیں چاہ رہا تھا۔ پر بہت سی سوچیں اسے گھیرے ہوئیں تھیں۔ اسکا دل ڈوب رہا تھا۔جب اسکی گاڑی یونی روڈ پر پہنچی۔ تو وہاں ٹریفک جیم تھا۔
"شیٹ۔۔۔”شیرافگن نے جھنجھلا کر اسٹیرنگ ویل پر زور سے ہاتھ مارا۔ٹریفک آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ شیرافگن بے چینی سے ارد گرد نظریں دوڑا رہا تھا۔جب اسنے سامنے دیکھا تو کافی فاصلے پر اسکی پرنسیس کھڑی تھی۔اسے دیکھ کر شیرافگن کی اٹکی سانسیں بحال ہوئیں۔پر جب اسنے غور سے دیکھا تو اسکے ساتھ کوئی کھڑا تھا۔دور سے ایسے ہی لگ رہا تھا۔ دونوں میں کوئی بات چل رہی ہے۔ شیرافگن نے جب لڑکےپر غور کیا تو اسکی سانیں رکیں۔وہ احمر جمالی تھا۔ جو حیات کی طرف بڑھ رہا تھا۔”او۔۔۔۔نو۔۔۔”شیرافگن ہوش میں آیا۔وہ ٹریفک کی وجہ سے کار آگے نہ بڑھا سکا۔ تو جلدی سے کار سے باہر نکلا۔وہ حیات سے کافی فاصلے پر تھا۔ پر وہ اسکا ڈر اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔احمرجمالی کے ہاتھ میں کچھ تھا۔وہ حیات کے قریب جا رہاتھا۔شیرافگن کی جان نکلی جارہی تھی۔اس نے جلدی سے انکی طرف دوڑ لگائی۔اسے ڈر تھا کہ اگر وہ ایک پل بھی لیٹ ہوا تو حیات کو ہمیشہ کے لئے کھو دے گا اور ایسا وہ کسی قیمت پر نہیں ہونے دے گا۔ کبھی نہیں!!
جاری ہے


