یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 9 زین صب…

قسط نمبر 9
زین صبح میں اٹھ کر تیار ہو کر باہر آیا تو ناشتہ ٹیبل پے سجا ہوا تھا آج کاشف نے اسپیشل ناشتہ بنایا تھا ہر چیز ناشتے کی ٹیبل پے موجود تھی زین ٹیبل کی ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا آج اتنا اسپیشل بریک فاسٹ خیریت ….
آپکی دوست آئی ہیں نہ…
وہ میری دوست نہیں ہے میرے ڈیڈ کے دوست کی بیٹی ہے زیادہ قریبی دوستی نہیں ہے بس ہلکی پھلکی سلام دعا …
لیکن پھر بھی مہمان تو ہیں ہی نہ…..
ہاں بھائی ہاں اب تم آئینہ نامہ بند کرو اور میری کافی مجھے لا کر دو یونیورسٹی کیلئے لیٹ ہو جاؤں گا میں ….
جی میں نے کافی پہلے سے لا کر اس لئے نہیں رکھی تھی ورنہ وہ ٹھنڈی ہو جاتی اور آپ گرم پیتے ہیں….
ہوں اب تو لے آؤ…زین نے جلے کٹے لہجے میں کہا تو وہ جی جی کہتا ہوا کچن میں چلا گیا چند منٹ بعد واپس آیا تو ہاتھ میں زین کی کافی کا کپ تھا جو اسنے ٹیبل پر رکھ دیا زین جلدی جلدی کافی کے لمبے لمبے گھونٹ بھرنے لگا…
آئینہ اٹھی یا نہیں…
نہیں ابھی تو نہیں اٹھیں اٹھانا ہے کیا؟.
نہیں رہنے دو اسے سونے دو اور سنو میرے یونیورسٹی جانے کے بعد اگر وہ اٹھے اور تمھیں کہے کے جا رہی ہے تو اسے جانے دینا روکنا مت…زین کے کہنے پے اسنے اثبات میں سر ہلایا اور زین پھر سے کافی پینے لگا کافی پینے کے بعد وہ اٹھا …
کاشف یار میرا موبائل لا دو کمرے میں ڈریسنگ پے رکھا ہے میں لینا بھول گیا…
ابھی لایا کاشف موبائل لینے چلا گیا واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں موبائل کے ساتھ ساتھ والٹ بھی تھا وہ دونوں اس نے زین کو دے دئے..
اوہ میں والٹ بھی لے کر جانا بھول گیا تھا ….
جی…..
تھنکس یار ورنہ آج میں یونیورسٹی میں کنگلا گھوم رہا تھا …
اب نہیں گھومیں گے…
تھنکس ونس اگین…
My pleasure آپ جائیں ورنہ لیٹ ہو جائیں گے …..
اوہ ہاں بائے….یہ کہ کر وہ باہر نکل گیا. .
ايكسكيوز می کیا میں آپ سے کچھ دیر بات کر سکتی ہوں….زین یونیورسٹی کے ایک لڑکے مارک سے بات کر رہا تھا تب وہ ان کے پاس آئی…
مجھسے مارک نے خوش ہوتے ہوئے کہا…
نہیں آپ سے نہیں ان سے …اس نے زین کی طرف اشارہ کیا….اسکی بات پے زین زور سے ہنسا مارک تم جاؤ میں تھوڑی دیر میں تم سے بات کرتا ہوں…
شيور .وہ منہ بنا کر وہاں سے چلا گیا زین مسکرا دیا پھر اس لڑکی کی طرف پلٹا اسکا نام ایلیسا تھا. جی آپ مجھسے کچھ بات کرنا چاہ رہی تھیں..
یہاں نہیں کر سکتی کینٹین میں چلو ..
ہوں ..زین اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگا چلتے چلتے وہ لوگ کینٹین میں پہنچے دنیا جہاں کی ہر ڈش اس کینٹین میں موجود تھی کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد زین نے دو کافی منگوائیں….
اب کہو کیا بات ہے ..زین نے بات شروع کی…
مجھے تمہاری ہیلپ چاہیے…
کیسی ہیلپ..زین نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا.
مجھے ایک لیپ ٹاپ چوری کروانا ہے…..
سوری لیکن میں چوری نہیں کرتا آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ..یہ کہ کر زین اٹھنے لگا.
ایک منٹ پہلے میری پوری بات سن لیں پھر آپ بیشک منع کر دیجئے گا….زین بیٹھ گیا سنائیں پوری بات…..
جس کا لیپ ٹاپ میں آپکو چوری کرنے کا کہ رہی ہوں اس آدمی کے پاس میرے خلاف چند ثبوت ہیں بہت ہی اہم ثبوت وہ اگر پولیس کے ہاتھ لگ گئے تو میں دس پندرہ سال کیلئے اندر ہو جاؤں گی….
کس طرح کے ثبوت ہیں اسکے پاس تمہارے خلاف کچھ تفصیل سے بتاؤ …زین بھی اس معاملے میں دلچسپی لینے لگا اسے یہ سب ایک ایڈونچر لگ رہا تھا …..
میں نے اپنی بھائی کے گھر چوری کی تھی اس وقت کی ویڈیوز اور کچھ تصاویر ہیں اسکے پاس اور وہ چوری بھی اتنی بڑی ہے کے بس نہ ہی پوچھو …
پوچھوں گا تو میں ضرور کتنے پیسے اڑائے تھے تم نے اپنے بھائی کے ..زین نے ہنس کر کہا…..
75 ہزار ڈالرز (تقریباً 75 لاکھ )..زین کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں تم نے اپنے بھائی کی اتنی بڑی رقم چوری کی ایسی کیا ضرورت آ پڑی تھی…
میں یہ تمھیں نہیں بتا سکتی ٹھیک ہے پھر میں بھی تمہارا لیپ ٹاپ تمھیں واپس لا کر نہیں دے سکتا ..
اس نے بے چارگی سے اسے دیکھا …
میں جوۓ میں کچھ رقم ہار گئی تھی ایک لاکھ ڈالر پچیس ہزار ڈالر تو میرے پاس تھے ہی 75 ہزار ڈالر میں نے اپنے بھائی کے لے لئے ..
لے نہیں لئے چوری کئے.زین نے طنز کیا …
ہاں ہاں وہی….
ویسے عجیب بات ہے جوا تم نے کھیلا ہاری بھی تم اور پیسے بیچارے تمہارے بھائی کے گئے وہ بھی 75 ہزار ڈالرز….زین نے ہنس کر کہا….
انکے لئے یہ کوئی بڑی رقم نہیں ہے وہ نیو یارک کے آٹھویں بڑے بلڈر ہیں انکے لئے یہ رقم کوئی معنی نہیں رکھتی….
اچھا پھر تم نے اپنے بھائی سے یہ رقم کیوں نہیں مانگی اگر وہ اتنا بڑا بلڈر ہے تو تمھیں پیسے دے دیتا …
وہ پیسے تو دے دیتے لیکن وجہ بھی پوچھتے اور جب انہیں وجہ پتا چلتی تو وہ پیسے واپس بھی لے لیتے صرف اتنا ہی نہیں وہ میرا گھر سے باہر نکلنا بھ بند کر دیتے …
اوہ اتنے تنگ نظر ہیں وہ…
تنگ نظر نہیں ہیں وہ معاشرے میں انکا نام ہے جب لوگوں کو یہ پتا چلتا کے اتنے بڑے بلڈر کی بہن جوا کھیلتی ہے تو سوچو انکی کتنی بدنامی ہوتی …..
ہاں یہ تو ہے ایک بات پوچھوں..
پوچھو تم جب سے ایک بات ایک بات کا کہ رہے ہو اور پتا نہیں اب تک کتنی باتیں پوچھ چکے ہو….
خیر یہ آخری ہے ..
ہاں ہاں کہو…
پورے یونیورسٹی میں اس کام کیلئے تمھیں صرف میں ہی کیوں ملا ….
کرنے کو تو بہت سے یہ کام کر سکتے تھے لیکن وہ یا تو مجھسے اس کام کے بدلے میں اچھی خاصی رقم مانگ لیتے یا پھر میرے بھائی کو جا کر سب بات بتا دیتے یہی وجہ ہے کے میں نے یونیورسٹی میں اب تک اس بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں کی تم شکل و صورت سے مجھے شریف لگے اس لئے میں نے سوچا کے تم سے ہی یہ کام کروا لوں…..
اچھا میں تمھیں شریف لگا تو تو خود بتاؤ شریف بندا چوری کس طرح کر سکتا ہے….
شاید تم نے میرے جملے پر غور نہیں کیا میں نے کہا ہے کے تم شکل و صورت سے مجھے شریف لگے میں نے یہ نہیں کہا کے تم شریف ہو دیکھنے میں اور لگنے میں بہت فرق ہوتا ہے ..
ہوں اور تم یہ جو کہ رہی ہو کے اگر تم کسی اور کو اس کام کا بولتیں تتو وہ اچھا خاصا معاوضہ تم سے لے لیتا تو سنو معاوضے کے معاملے میں بھی کم نہیں ہوں جتنی بولوں گا اتنی ہی رقم تم مجھے دو گی .
بولو کتنی….
25 ہزار ڈالر…
واٹ نہیں نہیں اتنے نہیں بس پندرہ ہزار ڈالر ٹھیک ہیں..
سنو میں کوئی پروفیشنل چور نہیں ہوں جو اس کام میں کامیاب ہو جاؤں ہو سکتا ہے میں چوری کرتے ہوئے پکڑا جاؤں پھر باہر آنے کیلئے کچھ پیسے بھی تو چاہیے ہوں گے نہ اس وقت تم تو مجھے بچانے سے رہیں….
ٹھیک ہے 20 ہزار ڈالر…
تم کسی اور سے یہ کام کروا سکتی ہو.زین اٹھ کر جانے لگا ….
اچھا اچھا میں 25 ہزار ڈالر دے دیتی ہوں لیکن اگر تم پکڑے گئے تو میرا نام نہیں لو گے ٹھیک ہے…
ٹھیک مجھے اس آدمی کا ایڈریس دو جس کے پاس تمہاری چوری والی ویڈیو ہے اور اس کے بارے میں جتنی بھی انفارمیشن ہو وہ مجھے دو اور شام تک 15 ہزار ڈالر اڈوانس رقم میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جانی چاہیے ….
ٹھیک ہے تمہارا اڈوانس تمہارے اکاؤنٹ میں پہنچ جائے گا اور یہ میرا کارڈ ہے اس میں میرا موبائل نمبر لکھا ہے میں اسکے متعلق تمام انفارمیشنز تمھیں ٹیکسٹ کر دوں گی….
اوکے زین نے اسکے ہاتھ سے کارڈ لے لیا اور اپنا کارڈ جیب سے نکال کر اسے دے دیا..
یہ میرا.
اتنے میں ویٹر بل لینے آ گیا …
یہ لو …زین نے پیسے اسکی طرف بڑھائے..
میرے نہیں دینا اسنے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا.
کیوں؟
میں اپنے پیسے خود دے سکتی ہوں..اسنے اپنے پیسے ویٹر کو دے دئے ..
جب اپنے دے رہی ہو تو میرے بھی دے دو …زین نے ہنس کر کہا …
اپنی کافی تم نے پی ہے یا میں نے پیسے بھی تم خود ہی دو تمھیں 25 ہزار ڈالر دے رہی ہوں دو ڈالر کافی کے نہیں دے سکتے یہ کہ کر وہ تیزی سے اٹھی اور آگے بڑھ گئی زین اسکی شکل دیکھ کر رہ گیا اپنا بل اس نے ویٹر کو دیا …
عجیب ہے یہ لڑکی بھی جہاں مجھے 25 ہزار ڈالر دے رہی ہے وہاں میری کافی کے دو ڈالر نہیں دے سکتی اسٹرينج بلکے اسٹرینج کم اور کنجوس زیادہ …
زین نے ايليسا کو کال کی جو اس نے فورا اٹینڈ کر لی….
کال کیوں کر رہے ہو ايليسا نے غصّے سے کہا تم سے انفارمیشن لینی ہے نہ …
تو وہ تو میں تمھیں ٹیکسٹ کر دیتی ہوں نہ…
ٹھیک ہے جلدی کرو میں ویٹ کر رہا ہوں اور ہاں پیسے میرے اکاؤنٹ میں پہنچ گئے ہیں.
ہاں جب میں نے بھیجے ہیں تو پہنچیں گے ہی نہ..اسکے بعد وہیں سے کال کٹ گئی …
کچھ منٹ بعد ہی اسنے میسج پے ایک گھر کا ایڈریس بھیجا اور ایک لڑکے کی تصویر بھی بھیج دی وہ زین کی ہی عمر کا ایک خوبصورت لڑکا تھا چھوٹے چھوٹے بال کٹے ہوئے تھے اس کے اور شکل و صورت سے ہی وہ فریبی لگ رہا تھا زین نے اسکی تصویر اپنے موبائل میں سیو کر لی اور ایلیسا کے بھیجے ہوئے ایڈریس پے گیا وہ ایک چھوٹا سا بینگلو تھا جسکے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا باغيچا اور پورچ بھی بنا تھا اس گھر سے کچھ بھی چرانا آسان کام تھا زین اس بینگلو کا جائزہ لینے کے بعد واپس گھر آیا اور ایلیسا کو کال کی….
ہیلو کہو کال کیوں کی؟.اسنے کال اٹینڈ کرتے ہی سوال کیا …
مجھے پوچھنا تھا کے جس لڑکے کے پاس تمہاری ویڈیو ہے اسکے گھر میں کتنے لوگ رہتے ہیں…
کوئی نہیں وہ اکیلا ہی ہے فرانس سے پڑھائی کیلئے آیا ہوا ہے…
اوہ پھر تو لیپ ٹاپ چوری کرنا آسان ہو جائے گا …
ہاں بہت آسان…
جب بہت آسان ہے تو تم خود کیوں نہیں کر لیتیں ..زین نے ہنس کر کہا….
چلو اب کام پر دھیان دو مجھے جلد از جلد وہ لیپ ٹاپ چاہیے….
اوکے میم .زین. نے ہنس کر کہا اور کال کاٹ دی
رات کے اس اندھیرے میں جہاں وہ بینگلو بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا زین دبے پاؤں اس بینگلو کے پچھلے حصّے میں آیا ایک کمرے کی کھڑکی کھلی تھی وہ اس ہی کمرے میں داخل ہو گیا کمرے میں اندھیرا تھا لیکن پھر بھی اسے تھوڑا بہت تو نظر آ ہی رہا تھا اس کمرے میں کئی کتابیں بکھری پڑی تھیں وہ شاید اسٹڈی کے لئے استمعال ہوتا تھا زین دھیرے دھیرے آگے بڑھ اور اس کمرے کا دروازہ کھولا وہ کھل گیا زین نے سکون کا سانس لیا کے وہ باہر سے بند نہیں تھا .
زین دروازہ کھول کر باہر آیا وہ لاؤنج تھا لاؤنج سے سیڑھیاں اوپر والے فلور کی طرف جاتی تھیں زین جلدی جلدی لیکن آواز پیدا کئے بغیر اوپر چڑھنے لگا سیڑھیاں ختم ہوئیں تو اس نے دیکھا وہاں چار کمرے بنے تھے اسنے آھستہ آھستہ پہلے کمرے کا دروازہ کھولا زین کی خوش قسمتی کے وہی کمرہ بیڈ روم تھا چارلی (اس لڑکے کا نام زین جس کا لیپ ٹاپ چرانے آیا تھا ) دوسری طرف منہ کئے گہری نیند میں سو رہا تھا گہری نیند کا اندازہ زین نے اس کے خراٹوں سے لگایا پورا کمرہ اسکے خراٹوں کی آواز سے گونج رہا تھا لیپ ٹاپ اسکے پاس ہی رکھا تھا زین مسکراتا ہوا آگے بڑھا لیپ ٹاپ اٹھایا اور اپنے کندھے سے لٹکے بیگ میں وہ لیپ ٹاپ رکھے وہ باہر نکل آیا واپس نیچے آیا اور اس ہی اسٹڈی روم میں گیا وہ کھڑکی کھلی ہوئی تھی زین کھڑکی پھیلانگ کر باہر نکلا اور پیدل ہی مین روڈ کی طرف چل پڑا وہ کار میں نہیں آیا تھا روڈ سے اسنے ایک ٹیکسی کی اور گھر پہنچا اسکا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا کاشف کے کمرے کی بھی لائٹ بند تھی "تھنک گوڈ” زین کے منہ سے بے اختیار نکلا کیونکے اگر کاشف جاگ رہا ہوتا تو اس سے دس سوال پوچھتا زین خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا لیپ ٹاپ الماری میں رکھنے کے بعد اس نے ایلیسا کو ٹیکسٹ کیا ….
مشن کمپلیٹ ….
گڈ کہاں ملنا ہے پھر…ایليسا کا اس ہی وقت رپلائے آیا ….
تم اتنی رات تک جاگ رہی ہو …زین نے ٹیکسٹ کے ساتھ ایک حیرت بھرا اموجی بھی سینٹ کیا کیونکے رات کے تین بج رہے تھے …
میں اتنی رات تک ہی جاگتی ہوں تم کام کی بات کرو کہاں ملنا ہے تاکے یہ لیپ ٹاپ میں تم سے لوں…
یونیورسٹی میں ہی دے دوں گا نہ ….
یونیورسٹی میں نہیں ….
پھر کہاں …
یونیورسٹی کے پاس بنے کیفے ٹیریا میں ملتے ہیں…
ٹھیک ہے لیکن بل کا پہلے ہی بتا دو کے کون دے گا …
بل اپنا اپنا ….
اور میری بقیہ رقم کب مل رہی ہے مجھے ….
مجھے لیپ ٹاپ مل جائے پھر تمہارے دس ہزار ڈالر تمہارے اکاؤنٹ میں پہنچ جائیں گے …..
اوکے بائے …زین نے جمائی لیتے ہوئے ٹیکسٹ کیا موبائل پے الارم سیٹ کیا اور سونے کیلئے لیٹ گیا کاشف نے اسے شام میں بتا دیا تھا کے آئینہ اسکے یونیورسٹی جانے کے بعد ہی چلی گئی تھی زین نے ایک بار پھر تھنک گوڈ کہا کیونکے وہ اسے پسند نہیں کرتا تھا لیکن وہ اس سے دوستی کرنا چاہتی تھی اور زین نہیں کرنا چاہتا تھا اسے وہ اچھی نہیں لگتی تھی بحرحال زین نے اسکے بارے میں زیادہ نہیں سوچا رفتہ رفتہ اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں ڈرگز اپنا اثر دکھا رہے تھے لیپ ٹاپ چوری کرنے کے بعد اس نے گھر آتے ہی سب سے پہلے ڈرگز لی تھیں بہت جلد وہ خوابوں کی دنیا میں پہنچ گیا…
زین کیفے ٹیریا میں ایلیسا کا منتظر تھا اسے آئے ابھی دو منٹ ہی گزرے تھے وہ بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا کچھ ہی دیر میں ایلیسا وہاں آ گئی وہ ریڈ ٹی-شرٹ اور وائٹ جینز میں ملبوس تھی امریکی لوگ اکثر یہی مغربی طرز کا لباس پہنا کرتے تھے مسلمان عورتوں کو تو اسلام نے پردے کا حکم دیا تھا پر افسوس لوگ اس ہی مغربی دنیا کے رنگ میں ڈھلتے جا رہے تھے اور اپنے مذہب کو بھولتے جا رہے تھے اور اسلام کی قائم کردہ تمام حدودیں بڑی تیزی سے پار کرتے جا رہے تھے افسوس صد افسوس….
ایلیسا زین کے سامنے والی کرسی پر بیٹھی تو زین نے وہ لیپ ٹاپ اسکی طرف بڑھایا ….
تھنکس …ایليسا نے خوش دلی سے مسکرا کر کہا.
تھنکس نہیں میرے پیسے…
ہاں ہاں تمہارے پیسے میں گھر پہنچتے ہی تمہارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دوں گی….
ہوں ..زین نے کہا اور ویٹر کو دو کافی لانے کو کہا….
تم اپنی ویڈیو ڈیلیٹ کرکے یہ لیپ ٹاپ کہیں پھینک دینا ہو سکتا ہے اس میں کوئی چپ لگی ہو جسے ٹریس کرتے کرتے پولیس تم تک پہنچ جائے …
ہاں میں وہ ویڈیو ڈیلیٹ کر کے یہ لیپ ٹاپ سمندر میں پھینک آؤں گی…
گڈ ویسے یہ ویڈیو اس نے بنائی کیسے ….
مجھے نہیں پتا …
ہو سکتا ہے کے اس میں تمہارے گھر کے ہی کسی فرد کا ہاتھ ہو….
میرے گھر میں صرف میں اور بھائی ہی رہتے ہیں….
ملازم وغیرہ بھی تو ہوں گے نہ….
ہاں ملازم ہیں…
بس پھر یہ ان میں سے ہی کسی کا کام ہو سکتا ہے….
ہاں ہو سکتا ہے خیر مجھے کیا لیپ ٹاپ مجھے مل گیا ہے ویڈیو ڈیلیٹ کر دوں گی میرے خلاف کوئی ثبوت بچے گا ہی نہیں ..یہ کہ کر وہ لیپ ٹاپ کھولنے لگی ڈیلیٹ کر دوں گی نہیں ڈیلیٹ کر دیتی ہوں دس منٹ تک وہ لیپ ٹاپ پے سر جھکائے کام کرتی رہی ویٹر کافی رکھ کر چلا گیا تھا لیکن اس نے سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا زین بھی بس اسے کام کرتا دیکھ رہا تھا دس منٹ بعد اسنے سر اٹھایا اور مسکرائی.
ویڈیو ڈیلیٹڈ ….
گڈ اب میرے پیسے یاد سے ٹرانس…….
ہاں ہاں کروا دوں گی اب مجھے کافی پینے دو ایلیسا نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور کافی کے لمبے لمبے گھونٹ بھرنے لگی زین بھی مسکرا کر کافی پینے لگا…..
زین کیفے ٹیریا سے نکلنے کے بعد گھر نہیں گیا بلکے بینک پہنچا اور اسکے اکاؤنٹ میں ایلیسا نے جو 25 ہزار ڈالر ٹرانسفر کرواۓ تھے وہ اس نے واپس اس ہی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دئے بینک سے باہر آ کر وہ اپنی کار میں بیٹھا اور ایک مارکیٹ پہنچا وہاں سے اس نے ایک میگزن لیا اور اپنے اپارٹمنٹ کی جانب سفر کرنے لگا گھر پہنچنے کے بعد اس نے اپنی کار پورچ میں کھڑی کی اور اپارٹمنٹ میں جانے کی بجاۓ لان میں لگی پلاسٹک کی میز کے گرد لگی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا میگزین اسنے ٹیبل پے پٹخا اور آنکھیں بند کرکے کچھ دیر سکوں کا سانس لیا پھر وہ میگزین کھولا اسے پڑھتے ہوئے مشکل سے دس منٹ ہی گزرے تھے کے اسکا جیب میں رکھا موبائل وائیبريٹ ہوا اسنے جیب سے موبائل نکالا ایلیسا کا ٹیکسٹ تھا
تم نے پیسے میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیوں کے …
زین نے میگزین واپس ٹیبل پر رکھا اور دونوں ہاتھوں میں موبائل پکڑ کے تیزی سے ٹائپ کرنے لگا اس کی ٹائپنگ سپیڈ بہت تیز تھی موبائل میں بھی اور کمپیوٹر میں ابھی بھی اس کے ہاتھ بڑی تیزی سے چل رہے تھے اسکے تیزی سے چلتے ہاتھ رکے اور اس نے سینٹ کے آپشن پے ٹچ کیا …
اس پیسے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں یہ تم ہی رکھو…..
کیا مطلب تمھیں زیادہ پیسے چاہییں میں ان سے زیادہ تمھیں نہیں دے سکتی زین دوسری طرف سے پریشانی بھرے انداز میں ٹیکسٹ کیا گیا تھا..
مجھے نہ زیادہ چاہییں نہ کم مجھے ان پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ایلیسا میرے ڈیڈ مجھے میری ضروریات سے کئی گنا زیادہ پیسے دیتے ہیں اس لئے مجھے تمہارے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے….
پھر لیپ ٹاپ کے بدلے تم مجھسے کیا لو گے ؟.
کچھ نہیں لوں گا ..
تم نے اتنی محنت سے یہ چوری کی ہے بدلے میں کچھ لینا تو تمہارا حق ہے….
مجھے نہیں چاہیے کوئی حق یہ سب تو میرے لئے ایک ایڈونچر تھا آدھی رات میں کسی کے گھر میں کھڑکی کے ذریعے داخل ہونا اسکے کمرے میں جانا وہاں سے لیپ ٹاپ چوری کرنا یہ سب میرے لئے ایک ایڈونچر تھا بس ایک ایڈونچر …
اوہ گوڈ آئی ڈونٹ بیلیو دس تم نے صرف اپنے ایڈونچر کی خاطر یہ چوری کی انبيليوايبل یار رئیلى اٹس ویری اسٹرینج….
زین نے جواب میں ایک اسمائیلى اسے سینٹ کیا …
پھر کل مل رہے ہو نہ یونیورسٹی میں ..
ہاں بلکل مل رہا ہوں …
اوکے بائے …
بائے.زین نے موبائل ٹیبل پے رکھ رکھ دیا چاند اب ابھرنے لگا تھا سورج رفتہ رفتہ غروب ہو رہا تھا اور چاند کے آنے کیلئے جگہ چھوڑ رہا تھا مغرب ہونے والی تھی زین کے گھر کا لان بھی ڈوبتے سورج کی سرخ روشنی میں ڈوبتا چلا جا رہا تھا زین نے اپنا میگزین اور موبائل اٹھایا اور اپارٹمنٹ کے اندر چلا گیا.
زین ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا رات کا کھانا کھا رہا تھا کاشف کچھ سودا لینے کیلئے باہر گیا ہوا تھا زین کھانا ختم کرنے ہی والا تھا کے کاشف آیا اسکے ساتھ حماد بخاری بھی تھے ….
ڈیڈ آپ .زین حیرت سے ہاتھ جھاڑتا کھڑا ہوا …ایک منٹ آپ بیٹھیں میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں ….
زین واش بیسن کی طرف چلا گیا حماد بخاری سنگل صوفہ پر بیٹھ گئے کاشف انکے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا چند منٹ بعد ہی زین ہاتھ دھو کر حماد کے برابر والے صوفے پر بیٹھ گیا …
جی ڈیڈ کہیں اتنا ارجنٹ کیوں آئے اور اگر آ ہی رہے تھے تو مجھے بتا دیتے وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا …
ہاں کچھ ارجنٹ کام تھا میں نے کاشف کو بتا دیا تھا کے آج میں آ رہا ہوں لیکن میں نے اسے تمھیں بتانے سے منع کیا تھا تاکے اچانک آ کر تمھیں سرپرائز دیا جائے…..
اوہ اچھا خیر اب آپ وہ ارجنٹ کام بتائیں …زین نے بےزارى سے کہا (پتا نہیں کونسا ارجنٹ کام ہے جو اتنی رات میں میرا دماغ خراب کرنے آ گئے)….
زین مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے …
ہاں کر لیں میں یہیں بیٹھا ہوں ….
سر میں سونے جاؤں ….کاشف کی آنکھیں نیند سے بھری تھیں …
ٹھیک ہے تم جاؤ اور سونے سے پہلے میرے لئے ایک کمرہ سیٹ کر دو میں صبح ناشتے کے بعد یہاں سے جاؤں گا …
ٹھیک ہے کاشف جلدی سے اٹھا اور لاؤنج سے باہر چلا گیا…..
اور بیٹا آج کل تم میرا نام روشن کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہو …حماد بخاری نے طنز مارا …
آپکا نام روشن کرنا ، جدوجہد میں کچھ سمجھا نہیں ڈیڈ…..
ابھی سمجھاتا ہوں….وہ سرد سپاٹ لہجے میں بولے زین اکتائے ہوئے انداز میں انہیں دیکھ رہا تھا ….
چارلی کا لیپ ٹاپ تم نے بلکل پروفیشنل چور کے طریقے سے چرایا ….انکے لہجے کی سرد مہرى مزید بڑھ گئی …زین کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اسنے خود کو سنبھالا….
کون چارلی ڈیڈ؟ زین نے اپنی گھبراہٹ کو چہرے پے نہیں آنے دیا …
واٹ آ گریٹ ایکٹنگ مجھے نہیں پتا تھا میرا بیٹا ایکٹر بھی ہے ….
ڈیڈ آپ کیا کہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا …
تمہارے یونیورسٹی میں پڑھتی ہے نہ ایلیسا اسکے کہنے پر تم نے چارلی کا لیپ ٹاپ چرایا اور اس لیپ ٹاپ کے بدلے میں تم نے اسے 25 ہزار ڈالر معاوضہ بھی لیا .
کس نے کہا ڈیڈ آپکو ایسا ….
تمھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کے مجھسے یہ سب کس نے کہا ہے میں یہاں تم سے سوالات کرنے آیا ہوں تمہارے سوالوں کے جواب دینے کیلئے نہیں آیا اب جو میں تم سے پوچھوں گا تم صرف اس ہی کا جواب دو گے اپنے پاس سے ایک سوال بھی نہیں کرو گے اور اگر تم نے ایک لفظ بھی جھوٹ کہا نہ تو میں تم سے بہت برے طریقے سے پیش آؤں گا ….حماد بخاری کا چہرہ غصّے سے سرخ ہو رہا تھا ایک لمحے کو زین بھی ڈر گیا لیکن اگلے ہی لمحے اسکا یہ ڈر ہوا ہو گیا …..
ٹھیک ہے آپ پوچھیں جو پوچھنا ہے میں جھوٹ نہیں بولوں گا ….زین اب سنجیدہ لگ رہا تھا ..
ایلیسا نے تم سے چارلی کا لیپ ٹاپ چرانے کو کہا تھا نہ …
ہاں کہا تھا….
اور تم نے چرایا بھی تھا…
ہاں…
ایسا کیا تھا بھلا اس لیپ ٹاپ میں جو تمھیں وہ چارلی سے چرا کر ایلیسا کو دینا پڑا…
ڈیڈ ایلیسا نے اپنے بھائی کے پیسے چرائے تھے پھر اسکے بعد کی ساری تفصیل اسنے سچ سچ حماد بخاری کو بتا دی…..
تم نے ایک چور کی مدد کی وہ بھی چوری کر کے اب تم خود بھی چوری کر چکے ہو تم بھی ایک چور بن چکے ہو زین حماد بخاری کا بیٹا اب ایک چور بن چکا ہے…وہ تلخی سے کہ رہے تھے …
(جاری ہے)


