مختصر کہانیاں

#hamidnaved اچھرہ، لاہور کے قریب ایک اسلامی قصبہ…

#hamidnaved

اچھرہ، لاہور کے قریب ایک اسلامی قصبہ ہے
(جس زمانے کا یہ واقعہ ہے اس وقت اچھرہ کی آبادی لاہور سے بالکل الگ تھی اور بیچ میں لمبے فاصلے تک کھیت تھے) کئی سال گذرے، اس قصبہ کی جامع مسجد میں نماز مغرب پڑھی جارہی تھی کہ ایک نہایت ہی دبلا پتلا مسافر آیا اور شامل ِنماز ہوگیا، اگرچہ یہ مسافر محض ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا ،تاہم اس کی صورت بااثر تھی ،نماز پڑھی گئی اورنمازی اپنے اپنے گھر چلے گئے ،تھوڑے وقت بعد ایک مقامی مسلمان کھانا لے کر داخل مسجد ہوا اور اس نووارد سے کہا:
"آپ بھوکے ہوں گے، میں کھانا لایا ہوں، براہ ِ کرم تناول فرمالیں، آپ کی بڑی عنایت ہوگی”۔
مسافر نے جواب دیا:
"لیکن معاف فرمائیے، مجھے کچھ پرہیز ہے”۔
"حضرت آپ کچھ فکر نہ کیجئے، یہ سادہ سی روٹی ہے، مرچ کم ہے اور گھی بھی بازاری نہیں ہے”۔ مقامی مسلمان نے جواب دیا
"بھائی میرا یہ مطلب نہیں ہے”۔ مسافر نے کہا
"پھر کیا مطلب ہے؟”۔ مقامی مسلمان نے پوچھا
مسافر چپ ہوگیا اور مقامی مسلمان اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا، چند منٹ بعد مسافر نے زبان کھولی اور کہا: "امید ہے آپ مجھے معاف فرمائیں گے، مجھے آپ سے کچھ بھی کہنے سننے کی ضرورت نہ تھی، لیکن آپ کھانا لے کر آگئے تو مجبوراً مجھے عرض کرنا ضروری ہوگیا ہے، آپ جانتے ہیں کہ شریعت ِاسلام میں طعام ِحلال، نمازِ پنجگانہ ہی کی طرح فرض ہے، ایک روایت میں ہے کہ اگر کسی مسلمان کا لقمہ حلال نہ ہو تو اللہ کی بارگاہ میں اس کے نہ فرض قبول ہوتے ہیں اور نہ نفل؛ چونکہ اس انگریز ی راج میں حلال وحرام کی تمیز اٹھ چکی ہے، اس واسطے میں جب تک پوری طرح جان پہچان نہیں کرلیتا، میں کسی بھائی کو بھی کبھی کھانے کی تکلیف نہیں دیتا”۔

"حضرت! آپ نے یہ کیا فرمایا’’، مقامی مسلمان نے کہنا شروع کیا: "معاذاللہ! میں حرام خور نہیں ہوں، یہ چوری کا مال نہیں ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا، میں یہاں منڈی میں آڑھتی ہوں اور بیوپار کرکے اپنی روزی کماتا ہوں، آپ اس کا وہم نہ کیجئے”۔

"تو پھر آپ کی تجارت کے کسی مرحلہ میں سود کا لینا دینا نہیں ہوتا ؟” مسافر نے پوچھا۔

"میں یہ تو نہیں کہہ سکتا، کئی مواقع پر ہم کو منڈی سے قرض لینا پڑتا ہے اور مقررہ شرح پر سود بھی دینا پڑتا ہے،اسی طرح تجارتی مال کے ہیرپھیر میں دوسرے سے بھی ہم سود وصول کرلیتے ہیں "۔مقامی مسلمان نے جواب دیا۔

"تو بہت اچھا ،میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو تکلیف ہوئی ،احکام ِ قرآن کے مطابق وہ تجارتی منافع جس میں سود کی آمیز ش ہو حلال نہیں کہلاسکتا ،ممکن ہے آپ تجارتی رسوم یا حکومتی اصرار کے ماتحت مجبور ہوں ،لیکن میں مجبور نہیں ہوں ،بیشک آپ کو تکلیف ہوئی اور آپ کی دل شکنی بھی ہوئی ہوگی مگر آپ کے اسلامی اخلاق سے امید کرتا ہوں آپ اس کے لئے مجھے معاف فرمادیں گے”۔

اس کے بعد مسافر نے مقامی مسلمان سے رخ پھیر لیا اور قبلے کی طرف منہ کرلیا،اور یادِ خدامیں مشغول ہوگیا ۔
مقامی مسلمان اس آخری جواب سے سخت مضطرب اور پریشان ہوا،اس نے نہایت ندامت سے برتن اٹھائے اور سر جھکا کر واپس چلا آیا اوربرتن گھر پہنچا کر ہمسایہ کے ہاں پہنچا اور اس سے کہا کہ مسجد میں ایک بزرگ مسافر آئے ہیں ،آپ اپنے ہاں سے کھانا لے کر جائیں اور کھلا آئیں ،یہ ہمسایہ مقامی ہسپتال میں ڈاکٹری کا کام کرتا تھا،ڈاکٹر صاحب نے کھانا اٹھایا اورمسجد میں جاپہنچے ،مسافر نے نہایت نرمی اورخوش خوئی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے تعارف اورجان پہچان کی فرمائش کی،ڈاکٹر صاحب ذرا باتونی بزرگ تھے ، انہوں نے کہانی سنانا شروع کی اور فرمایا:
"حضرت !مجھ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ،میری ایک سو روپیہ تنخواہ ہے،دوچار روپئے ہرروز اوپر سے بھی آجاتے ہیں ،بڑا لڑکا کچہری میں ملازم ہے،وہ ۷۵ روپئے تنخواہ پاتا ہے،اور دو چار روپئے روزانہ وہ بھی لے آتا ہے،زمین بھی ہے،جہاں سے سال کاغلہ آجاتا ہے وغیر ہ وغیرہ”۔

ڈاکٹر صاحب کی کہانی ختم ہوئی تو مسافر نے انہیں نہایت ہی محبت اور شیرینی سے سمجھایا کہ اسلام ِ مقدس کی رو سے رشوت ستانی کس قدر بڑا جرم ہے اور آخر میں اپنی معذوری ظاہر کرکے کھانا کھانے سے انکار کردیا،مسافر کی گفتگو اس قدر سنجیدہ اور باوقار تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے بھی ان کے سامنے اپنی گردن خم کردی اور بڑی ندامت کے ساتھ کھانا اٹھا کر گھر واپس چل دئے ،یہاں تاجر صاحب پہلے ہی ان کے منتظر تھے، یہ دونوں نہایت ہی درد وندامت کے ساتھ ایک دوسرے کو اپنی کہانی سنارہے تھے کہ دو چار اور نیک دل مسلمان وہاں جمع ہوگئے ،انھوں نے بھی یہ دونوں کہانیاں سنیں اورآناً فاناً یہ بات محلے میں عام ہو گئی ۔
ڈاکٹر صاحب اور تاجر صاحب نے مل کر عرض کیا کہ اب کسی زمیندار کے ہاں سے کھانا بھیجوانا چاہئے ، تاکہ اس پر سود یا رشوت کا الزام نہ آسکے ،چنانچہ اسی وقت ایک زمیندار کے ہاں سے کھانا بھجوایا گیا۔
مسافر نے ان سے پوچھا :”آپ کے پاس کوئی گروی زمین تو نہیں ہے؟’’
’’جب زمیندار صاحب نے اس کا اقرار کیا تو مسافر نے انہیں پھیر دیا اور کہا کہ جو شخص مسلمان ہو کر زمین گروی رکھتا ہے اس کی کمائی حرام سے خالی نہیں ہوسکتی،اس کے بعد ایک عالم صاحب کو بھیجا گیا، ان میں نقص پایا گیا کہ انھوں نے اپنی بہنوں اور لڑکیوں کو حکم ِ شریعت کے مطابق جائیداد میں حصہ نہیں دیا تھا، اس واسطے مسافر نے ان کا کھانا بھی رَد کردیا اور فرمایا کہ آپ بہنوں اور لڑکیوں کے حصۂ شرعی کے غاصب ہیں اورآپ کے ہر لقمے میں آدھے سے کم حرام شامل نہیں ہے ،نماز ِ مغرب سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور رات کے ۹/بج گئے ،متعدد مسلمان کھانا لے کرگئے مگر مسجد سے شرمندہ ونگوں سار ہوکر واپس آئے ۔
مسافرکُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّباً کی کسوٹی لئے مسجد میں بیٹھا تھا اور ہر ایک مسلمان کو جو کھانا لے کر جاتا تھا ،اسی قرآنی کسوٹی پر پرکھتا تھا اور شرمندہ کرکے باہر نکال دیتا تھا ،تمام آبادی میں شور برپا ہوگیا،جابجا یہی چرچا تھا،مسلمانوں کو بھوک اور نیند بھول گئی، گھروں میں ،بازاروں میں ،گلی کوچوں میں جہاں بھی چار آدمی بیٹھے تھے، یہی گفتگو اور ذکر تھا، جب کسی جگہ ایک مسلمان دوسرے کو کہتا تھا کہ:”تم کھانا لے جاؤ تو وہ اسی وقت کانوں پر ہاتھ رکھ دیتا تھا، کوئی کہتا تھا کہ میں راشی ہوں ،کوئی کہتا تھا کہ میں سود خوار ہوں ،کوئی کہتا تھا کہ میں کم تولتا ہوں ،کوئی کہتا تھا کہ میں نے لڑکیوں کو حصہ نہیں دیا ،کوئی کہتا تھا کہ میرے لڑکوں کی آمدنی میں حرام شامل ہے،مختصر یہ کہ دلوں کے عیوب آج زبانوں پر آگئے تھے اوران کا برملا اعلان ہورہا تھا،اگر چہ اچھرہ میں ہزارہا مسلمان آباد تھے ،مگر ایک شخص بھی اکل ِ حلال کا مدعی بن کر سامنے نہیں آتا تھا،بزرگان ِ قصبہ کی گردنیں خم تھیں ،بااحساس مسلمان زمین میں غرق ہوئے جاتے تھے کہ آج ہزارہا مسلمانوں میں ایک شخص بھی نہیں ملتا جو ایک ایسے مہمان کو جواکل ِ حلال کا طالب تھا،ایک ہی وقت کا کھانا کھلاسکے ،رات کے دس بج گئے ،مگر کسی گھر سے کھانا نہ گیا،اب سوال یہ درپیش تھاکہ کیا یہ مسافر اچھرہ سے بھوکا چلا جائے گا؟ کیا رسول ﷺ کے امتی حرام کھانے پر مصر رہیں گے ؟
جوں جوں وقت گذرتا جاتا تھا دلوں کا اضطراب بڑھتا جاتا تھا ،یہاں تک کہ رات کے گیارہ بج گئے’’۔
آخر مجمع کے اندر امید کی کرن جلوہ گر ہوئی،ایک شخص نے کہا میں ابھی لڑکیوں کاحصہ دیتا ہوں اوراس نے دے دیا،دوسرے نے کہا میں گروی زمین چھوڑتا ہوں اور اس نے چھوڑ دی، تیسرے شخص نے کہا میں آج کے بعد کبھی سود نہ لوں گا اوراس نے سود کا کاروبار ترک کردیا،مختصر یہ کہ آن کی آن میں اچھرہ کے بیشمار مسلمانوں پر توبہ واستغفار کے دروازے کھل گئے،کسی نے رشوت چھوڑدی ،کسی نے جھوٹی گواہی کا پیشہ چھوڑ دیا، کسی نے راگ رنگ سے توبہ کرلی،کسی نے یتیموں کا غصب شدہ مال واپس کردیا،اس کے بعد تائبین کی جماعت کھانا لے کر مسافر کے پاس آئی اور اُسے بتایا گیا کہ اچھرہ کے بیشمار مسلمان اب اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے ہیں ، انھوں نے اپنی غلطیوں کو محسوس کرلیا ہے اور اب عملی اصلاح وتوبہ کے بعد آپ کے پاس آئے ہیں اوریہ کھانا پیش کرتے ہیں ۔
مسافر نے جب یہ واردات سنی تو سجدے میں گر گیا، اس کے بعد دستر خوان بچھایا گیاجس میں سے مسافر نے چند لقمے کھائے اور اس کے بعد لوگوں کو رخصت کردیا۔
صبح کے وقت اچھرہ کے بیشمار مسلمان جوق درجوق مسجد میں آئے تاکہ باخد انسان کی زیارت کریں جس کے زہد ِبے ریاء نے اپنے صرف ایک ہی عمل سے اچھرہ کے آدھے مسلمانوں کو صحیح معنوں میں سچا مسلمان بنادیا تھا،مگر وہ حیرت زدہ رہ گئے جب انہیں بتایا گیا کہ کہ مسافر تہجد کے بعد مسجد سے نکلا تھااور واپس نہیں آیا۔ …..

یہ ایک واقعہ ہے جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اہل اللہ کس طرح خلق ِ خدا کی اصلاح کیاکرتے ہیں ؟

مسافر نے کوئی وعظ نہیں کیا ،کوئی چلہ نہیں کیا ،کوئی کتاب نہیں چھاپی ،کوئی درس وتدریس کا نصاب نہیں بنایا، وہ مغرب سے تہجد تک صرف چند گھنٹے اچھرہ کی جامع مسجد میں ٹھہرا ،مگر جب وہاں سے نکلا تو صد ہا مسلمانوں کی اصلاح ہوچکی تھی ،بیشمار یتیموں کو اپنا حق مل چکا تھا،بے شمار لڑکیوں کو اپنا شرعی حصہ مل چکا تھا،بہت سے مقروضوں نے اپنا قرضہ وصول کرلیا تھا،بہت سے رشوت خوار رشوت ستانی سے باز آچکے تھے ، بہت سے جواری جوا چھوڑ چکے تھے، یہ سب کہ سب لوگ تقریباً وہ تھے جن پر صدہا مرتبہ قرآن پڑھا گیا، جنہیں بیسیوں مرتبہ وعظ سنائے گئے اور جن سے متعدد مرتبہ پنچایتوں نے جمع ہو ہوکر اہلِ حق کے لئے حق کا مطالبہ کیا،مگر وہ ظلم وستم سے باز نہ آئے ، لیکن اب وہ ایک ہی رات میں اس طرح ازخود گناہوں سے تائب ہوگئے کہ گویا انھوں نے کبھی گناہ نہیں کیا تھا، پھر لطف یہ کہ یہ سارا کام نماز ِ مغرب سے شروع ہوا اور اسی رات گیارہ بجے ختم ہو گیا ۔…..
ایسے ہی باعمل اور باخدا انسان ہیں جن کی نگاہوں سے قوموں اورملکوں کی تقدیر یں بدل جاتی ہیں ، آؤ اپنے اندر اخلاص اور صداقت پیدا کرو ..

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/