مختصر کہانیاں

#hamidnaved حاصل از عمیرہ احمد قسط نمبر 2 تم ہر …

#hamidnaved
حاصل از عمیرہ احمد
قسط نمبر 2

تم ہر چیز حاصل کر لو گے میرے بچے ہر چیز- مگر کچھ انتظار کرنا ہو گا تمہیں اور اس وقت کے دوران تم جتنے ثابت قدم رہو گے تمہاری آئندہ زندگی اتنی ہی اچھی ہو گی-”
"فادر میں کروں گا-” اس نے اضطراب سے فادر جوشوا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تھا- انھوں نے ہاتھ سے اس کے ہاتھ کو نرمی سے تھپکا تھا-
"فادر! میں جانتا ہوں- میں روز آپ کے پاس آ کر آپ سے کرنا چاہتا ہوں- آپ سے بہت کچھ جاننا چاہتا ہوں-” اس نے ان سے اجازت لینا چاہی تھی-
"شیور تم ہر روز میرے پاس آ جایا کرو-”
اور اس دن کے بعد سے وہ ہر روز ان کے پاس جا رہا تھا- ایک ڈیڑھ گھنٹہ وہ ان کے پاس بیٹھا رہتا، پھر اٹھ کر آ جاتا-
مگر اس ایک ڈیڑھ گھنٹہ میں اس کے اندر بہت کچھ بدل جاتا تھا- اسے اپنے ہر سوال کا جواب وہاں مل جاتا تھا- اس کا ڈپریشن اور فرسٹریشن مکمل طور پر تو ختم نہیں ہوا تھا لیکن کم ضرور ہو گیا تھا-
فادر جوشوا نے اسے کچھ دوسرے پادریوں اور سسٹرز سے بھی ملوایا تھا اور ان سب سے مل کر اسے یوں لگتا تھا جیسے اس کا ہاتھ پکڑنے اس کی مدد کرنے کے لیے بہت سے لوگ موجود تھے اور ہر ایک پہلے سے زیادہ مخلص تھا- اسے اپنی نئی دنیا بہت اچھی لگ رہی تھی-
چند ہفتوں میں وہ بڑی حد تک بدل چکا تھا- ابھی اس نے باقاعدہ طور پر مذہب تبدیل نہیں کیا تھا- ابھی فادر جوشوا کی دی ہوئی کتابیں اور پمفلٹس پڑھتا رہتا تھا- چند ہفتوں کے اندر مذہب تبدیل کرنے کا اس کا فیصلہ مستحکم ہو گیا تھا- جو تھوڑی بہت جھجھک تھی وہ بھی اب ختم ہو گئی تھی- ایک ڈیڑھ ہفتے تک باقاعدہ طور پر وہ اپنا مذہب تبدیل کرنے والا تھا-
31 دسمبر کی رات کو Thanks giving prayer کے لیے وہ کیتھڈرل آیا تھا- وہ کئی دنوں سے باقاعدہ چرچ جا کر سروس اٹینڈ کر رہا تھا مگر کیتھڈرل وہ پہلی بار آیا تھا- سروس ابھی شروع نہیں تھی- لوگوں کا رش اندر آ جا رہا تھا- پوری کیتھولک کمیونٹی وہاں اکھٹی ہوئی تھی کم از کم جو شہر میں تھے- غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی- کیتھڈرل کے لانز میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی جو سروس اٹینڈ کرنے کا بجائے خوش گپیوں میں مصروف تھی کیونکہ سال کا آخری دن تھا اور نیو ائیر کی تقریبات پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں-
وہ طائرانہ نظروں سے سب لوگوں کا جائزہ لیتے ہوئے چرچ میں داخل ہو گیا تھا- بنچوں کی قطاروں پر نظر ڈالتے ہوئے اس نے اپنے لیے کوئی خالی جگہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی- اگلی قطاروں میں کچھ جگہ اسے نظر آ ہی گئی تھی- وہ ایک بینچ پر جا کر خاموشی سے بیٹھ گیا- دعا کی کتاب نکال کر اس نے ہاتھ میں لے لی تھی- کچھ دیر تک وہ اسے دیکھتا رہا پھر اس نے کتاب بند کر دی- ایک عجیب سے اداسی اس کے وجود پر چھا رہی تھی، اسے اپنا آپ اس ماحول کا حصہ نہیں لگ رہا تھا- وہ سب پیدائشی عیسائی تھے اور وہ پیدائشی مسلمان تھا- ان میں سے ہر ایک اسے خود سے سپیریئر لگ رہا تھا- وہ بہت سے کمپلیکسز کا شکار تھا مگر اس طرح احساس کمتری اسے پہلی بار ہو رہا تھا- سروس کی تیاری جاری تھی- اس پر ایک عجیب سی تھکن سوار تھی، بینچ کی پشت سے ٹیک لگا کر اس نے آنکھیں بند کر لیں-تب ہی اسے احساس ہوا تھا اس کے بائیں جانب کوئی آ کر بیٹھا تھا- اس نے آنکھیں نہیں کھولی تھیں- جانتا تھا آھستہ آھستہ تمام بینچیں لوگوں سے بھر جائیں گی-
"بہت اچھا لگ رہا ہے یہاں؟” اس نے اپنے قریب ایک مدھم پر سکون مگر اجنبی آواز سنی تھی- اس نے اب بھی آنکھیں نہیں کھولی تھیں-
"شاید یہ جملہ کسی اور سے کہا گیا ہے-” اس نے سوچا تھا-
"آج کی شام میری زندگی کی سب سے اچھی شام ہے حدید!” آواز وہی تھی مگر اس بار اس کا نام بھی لیا گیا تھا- اس نے برق رفتاری سے آنکھیں کھول کر اپنے بائیں جانب دیکھا تھا- اس کے بہت قریب سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک لڑکی بالکل اسی کی طرح بینچ کی پشت سے ٹیک لگائے اور آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی-
سیاہ چادر اس کے سر کو ڈھانپے ہوئے تھی- سیاہ چادر کی اوٹ میں سے نظر آنے والے چہرے پر عجیب طرح کا سکون اور ٹھہراؤ تھا- مگر اس کیفیت کے بغیر بھی وہ بے حد خوبصورت نظر آتی-
اس نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا تھا اور پھر الجھن کا شکار ہو گیا تھا- وہ لڑکی اب آنکھیں بند کیے ٹیک لگائے خاموش تھی اور وہ سوچ رہا تھا کیا واقعی وہ اس سے مخاطب ہوئی تھی یا اسے غلط فہمی ہو گئی تھی- وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا- اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ پوچھتا دفعتاً اس نے آنکھیں کھول دی تھیں مگر اس کی طرف دیکھنے کی بجائے وہ سامنے لگے ہوئے ہولی کراس کو دیکھ رہی تھی-
"اس دن میں نے سوچا تھا میں دوبارہ کبھی تمہیں دیکھ نہیں پاؤں گی اور دوبارہ نہ دیکھتی تو–”
وہ سامنے دیکھتے ہوئے اسطرح بولی تھی جیسے کوئی سرگوشی کر رہی ہو- حدید اب واقعی الجھن کا شکار ہو گیا تھا-
"دیکھیں میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے- میرا خیال ہے ہم پہلے کبھی نہیں ملے اور نہ ہی مجھے سمجھ میں آ رہا ہے کہ آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا؟ کیا آپ اپنا انٹروڈکشن کروائیں گی-”
اس بار پہلی دفعہ اس نے اپنی نظرین ہولی کراس سے ہٹاتے ہوئے اس پر مرکوز کر دی تھیں- حدید نے زندگی میں بہت سی آنکھیں دیکھی تھیں- ایسی آنکھیں جو پہلی نظر میں ہی بندے کو ہپناٹائز کر لیتی ہیں، ایسی آنکھیں جنھیں آپ بار بار دیکھنا چاہتے ہیں، ایسی آنکھیں جو سب کچھ کہہ دیتی ہیں، جو کوئی راز بھی نہیں رہنے دیتیں، ایسی آنکھیں جنھیں دیکھ کر یہ خیال آتا ہے کہ شاید دنیا انہی آنکھوں کو دکھانے کے لیے بنائی گئی ہے- ہنسنے والی آنکھیں دل میں اتر جانے والی نظرین- سحرزدہ کر دینے والی نگاہیں-
مگر اس نے کبھی بھی اتنی اداس آنکھیں نہیں دیکھی تھیں- جب وہ آنکھیں بند کے بیٹھی تھی تو وہ سوچ رہا تھا کہ اس کی پلکیں بہت خوبصورت ہیں- جب اس نے آنکھیں کھولی تھیں تو اس نے دیکھا تھا کہ آنکھوں کا رنگ بھی بہت خوبصورت تھا- ڈارک بلیک مگر اب اس کی نظر نہ دراز پلکوں پر تھی نہ آنکھوں کے رنگ پر بلکہ صرف اداسی پر تھی جو آنکھوں میں تھی- وہ کچھ پزل ہو گیا تھا-
"آپ نے مجھے اس لئے نہیں پہچانا کیونکہ آپ نے مجھے کبھی دیکھا ہے نہ مجھ سے ملے ہیں- مگر میں آپ کو اس لیے پہچانتی ہوں کیونکہ آپ کو دیکھ بھی چکی ہوں اور آپ سے مل بھی چکی ہوں حدید-”
کرسٹینا نے ایک گہری سانس لی تھی- "اس دن میں نے آپ کو پارک میں دیکھا تھا- آپ سسٹر الزبتھ پاس آئے تھے-”
اس نے حدید کو یاد دہانی کروائی تھی- حدید نے غور سے اسے دیکھا مگر پہچان نہیں پایا، اس دن ویسے بھی وہ جس کیفیت میں تھا شاید کسی کو بھی نہ پہچان پاتا اور سسٹرز کے جس گروپ کے پاس وہ گیا تھا، وہ خاصا لمبا چوڑا تھا- اب ان میں یہ لڑکی بھی شامل تھی یا نہیں وہ نہیں جانتا تھا مگر اس نے سر ہلا دیا-
"ہاں، ہو سکتا ہے آپ وہاں ہوں- بہرحال میں نے آپ کو نہیں دیکھا-”
سروس شروع ہو چکی تھی- اس نے بشپ کو چبوترے پہ جاتے دیکھا تھا-
"کیا آپ کچھ دیر کے لیے میرے ساتھ باہر چل سکتے ہیں؟” حدید نے ایک مدھم سرگوشی سنی تھی-
"مگر میں یہاں پر سروس اٹینڈ کرنے آیا ہوں-” اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے اس سے کہا تھا-
"پلیز-” اس بار اس کی آواز التجائیہ تھی- وہ کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتا رہا اور پھر خاموشی سے کھڑا ہو گیا- Nave کی بجائے وہ aisle سے ہو کر باہر آ گئے تھے-
باہر بھی لوگوں کا ایک ہجوم تھا- یوں لگ رہا تھا جیسے آوازوں اور قہقہوں کا ایک طوفان آیا ہوا تھا-
"میرے ساتھ آؤ-” باہر آتے ہی اس نے کرسٹینا کو کہتے سنا تھا- وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا- وہ اسے کیتھڈرل کے عقبی حصہ میں لے آئی تھی- اس طرف نسبتاً خاموشی تھی- وہ وہاں موجود ایک بینچ پر بیٹھ گئی- حدید اسے دیکھتا ہوا اسی بینچ پر بیٹھ گیا- بینچ کے قریب لیمپ پوسٹ کی روشنی نے ان دونوں کو بہت نمایاں کر دیا تھا-
"تم کرسچن کیوں ہونا چاہتے ہو؟” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے پوچھا تھا-
"تم مسلمان کیوں ہونا چاہتی ہو؟” سوال کا جواب سوال سے دیا گیا تھا-
"کیونکہ یہ سچا مذہب ہے-”
"میں بھی Christianity (عیسائیت) کے بارے میں یہی سوچتا ہوں-”
"تم غلط سوچتے ہو، اسلام کے علاوہ کوئی مذہب سچا نہیں ہے-”
"کیا میں بھی یہ کہوں کہ تم غلط سوچتی ہو، Christianity (عیسائیت) کے علاوہ کوئی ریلیجن (مذہب) سچا نہیں ہے-” حدید کی ثابت قدمی اس سے کم نہیں تھی-
وہ کچھ بےبسی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی تھی-
"تمہیں اپنے مذہب سے اتنی نفرت کیوں ہے؟”
"اگر یہی سوال میں تم سے پوچھوں تو —– تمہیں اپنے مذہب سے اتنی نفرت کیوں ہے؟” حدید نے ایک بار پھر اس کے سوال کا جواب سوال سے دیا تھا-
"مجھے اپنے مذہب سے نفرت نہیں ہے-” کرسٹینا نے ہلکی آواز میں کہا تھا-
"پھر بھی تم اپنا مذہب چھوڑ دینا چاہتی ہو؟”
وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی تھی-
"اس لیے چھوڑ دینا چاہتی ہوں کیونکہ میں نے سچائی پا لی ہے-”
"کون سی سچائی، کیسی سچائی؟ مجھے تو آج تک اپنے مذہب میں کوئی سچائی نظر نہیں آئی- مجھے اگر کہیں سچائی نظر آئی ہے تو تمھارے مذہب میں-” وہ جیسے یک دم پھٹ پڑا تھا-
"بعض دفعہ جو چیز آپ کو نظر آتی ہے وہ فریب ہوتا ہے نظر کا دھوکہ اور جب تک یہ بات پتا چلتی ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے- اتنی دیر کہ نہ آپ آگے جا سکتے ہیں نہ پیچھے- میں چاہتی ہوں حدید! تمھارے ساتھ یہ نہ ہو-”
حدید نے اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھے تھے مگر اس کی آواز میں لرزش تھی- وہ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھنے لگا تھا-
"آخر یہ میری اتنی ہمدرد کیوں بن رہی ہے؟”اس نے تلخی سے سوچا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/