منتخب غزلیں
ثمریاب ثمرؔ ادب ہی اُٹھ گیا جب زندگی سے ملے گا ک…

ثمریاب ثمرؔ
ادب ہی اُٹھ گیا جب زندگی سے
ملے گا کیا بَھلا پھر شاعری سے
انا نے سب کو اندھا کردِیا ہے
کوئی ملتا نہیں ہے عاجزی سے
یہ کیا ماحول ہے شہرِ وَفا کا!
نہیں ہے مُطمئن کوئی کسی سے
کوئی دریا اُٹھائے پِھر رہا ہے
کوئی جاں ہار بیٹھا تشنگی سے
کسی پر شہد کی نہریں نِچھاور
کوئی محرُوم ہے گُڑ کی ڈلی سے
یہ کِس نے توڑ دی قندیلِ اُلفت
یہ کِس کو دُشمنی تھی روشنی سے
ثمریاب ثمرؔ




