منتخب غزلیں

شیریار بتاؤں کِس طرح احباب کو آنکھیں جو ایسی ہیں …

شیریار

بتاؤں کِس طرح احباب کو آنکھیں جو ایسی ہیں
کہ کل پلکوں سے ٹُوٹی نیند کی کرچیں سمیٹی ہیں

سفر مَیں نے سمندر کا کِیا کاغذ کی کشتی میں
تماشائی نِگاہیں اِس لیے بیزار اِتنی ہیں

خُدا میرے! عطا کرمجھ کو گویائی، کہ کہہ پاؤں
زمِیں پر رات دِن جو باتیں ہوتی مَیں نے دیکھی ہے

تُو اپنے فیصلے سے وقت! اب آگاہ کر مجھ کو
گھڑی کی سوئیاں کب سے اِس اِک نقطے پہ ٹھہری ہیں ہیں

جتن تیرا، کہ پہونچایا ہے مجھ کو موت کے منہ تک
مِری آنکھیں، کہ اِس کو زِیست کا زِینہ سمجھتی ہیں

شہریارؔ
(نیند کی کرچیں )​


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/