منتخب غزلیں

شہریار جہاں میں ہونے کو اے دوست! یُوں تو سب ہوگا …

شہریار

جہاں میں ہونے کو اے دوست! یُوں تو سب ہوگا
تِرے لبوں پہ مِرے لب ہوں، ایسا کب ہوگا

اِسی اُمید پہ کب سے دھڑک رہا ہے دِل
تِرے حضُور کسی روز یہ طلب ہوگا

مکاں تو ہوں گے، مکینوں سے سب مگر خالی
یہاں بھی دیکھو تماشا یہ ایک شب ہوگا

کوئی نہیں ہے جو بتلائے میرے لوگوں کو
ہَوا کے رُخ کے بدلنے سے کیا غضب ہوگا

نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسا، حاکمِ شہر !
جو حادثہ، نہیں پہلے ہُوا وہ اب ہوگا

شہریار
(نیند کی کرچیں)


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/