منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) چَھنک زنجیر کی آنے لگی ہے مج…

( غیــر مطبــوعــہ )
چَھنک زنجیر کی آنے لگی ہے
مجھے پرواز سِکھلانے لگی ہے
دیے کی لَو میں ہے جو کشمکش سی
رمُــوزِ ہَســت سمجھانے لگی ہے
یہ کیسا حَــبس ہے شہرِ یقیں میں
ہَوا بھی اب تو گھبرانے لگی ہے
یہ مایُوسی جو زنداں میں ہے پھیلی
مجھے ہِجرت پہ اُکسانے لگی ہے
ہے متّی کون سی کُوزہ گَری میں
کہ دیمک سانس کو کھانے لگی ہے
( ســـــیّد مقبـــولؔ حُســیـں )

