#hamidnaved دوسری جنگ عظیم سے ذرا سا آگے یا پیچھ…

دوسری جنگ عظیم سے ذرا سا آگے یا پیچھے ایک وقوع پذیر ہوا
ایک شخص سر پر ہیٹ رکھ کر ہارس رائیڈنگ کالباس پہن کر گھوڑے پر بیٹھ کر پہاڑی علاقے کی ایک سڑک پرجا رہا تھا کہ راستے میں سڑک پر ایک درخت گرا ہو اتھا۔اس درخت نے سڑک کا راستہ روک رکھا تھا۔
گھوڑے پر سوار شخص گرے ہوئے درخت کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا کہ 3 لوگ اس کو ہٹانے کی ناکام سی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ درخت کو زور سے سڑک کے کنارے کی طرف دھکیل رہے ہیں لیکن درخت بھاری ہے اور اسے دھکیلنے والے لوگ کم ہیں اس نے دیکھا کہ ان تین جوان لوگوں کا ایک سینئر ذرا سا فاصلے پر کھڑا ہے اور یہ وہاں چھڑی لہرا لہرا کر انہیں مزید زور لگانے کی ہدایات دے رہا ہے۔
اس گھڑ سوار شخص نے سوچا کہ اگر یہ سینئر بھی ان جوانوں کے ساتھ لگ جائے اور درخت کو ہٹانے کیلئے زور لگانا شروع کر دے تو درخت چند لمحوں میں سڑک سے کھسک جائے گا۔ وہ شخص گھوڑے سے اترا اور سینئر کے پاس گیا اور اس سے مخاطب ہو کر بولا جناب آپ بھی اگر ان جونواں کے ساتھ شامل ہو جائیں تو میرا خیال ہے درخت سڑک سے کھسک سکتا ہے۔
سینیئر نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور بولا کیا بکواس کر رہے ہو میں ان کے ساتھ کیسے شامل ہو سکتا ہوں میں ان کا سینئر ہوں ان کا چیف ہوں میں جونیئر بن کر اپنے ماتحتوں کے ساتھ کام کیسے کر سکتا ہوں۔ تم نکلو یہاں سے ۔
اس آنے والے گھڑ سوار نے یہ جوازسنا اور مسکرایا
پھر درخت کے قریب پہنچا اور جوانوں کے ساتھ مل کر درخت کو دھکا دینا شروع کر دیا۔ درخت کھسکا اور دو تین منٹ میں کھائی گر گیا سڑک بالکل صاف اور کلیئر ہو گئی۔اس شخص نے ہاتھ جھاڑے اور دوبارہ گھوڑے پر بیٹھا
سینئر کے قریب آیا اپنی جیب سے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکالا سینئر افسر کو دیا اور کہا میرا نام وینسٹن چرچل ہے۔ میں اس ملک کا وزیراعظم ہوں۔اگر مستقبل میں تمہارے علاقے میں کبھی کوئی درخت گر گیا تو تم مجھے فون کر دینا۔مجھے اپنے جونیئرز‘ اپنے ماتحوں کے ساتھ کام کر کے بڑا مزہ آتا ہے۔


