منتخب غزلیں

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب…

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

میرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی

مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے

مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر

یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے

میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں

مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے

وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو

ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے

شکیل بدایونی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/