منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) زرد پیڑوں سے کوئی شاخ ہ…

( غیــر مطبــوعــہ )
زرد پیڑوں سے کوئی شاخ ہری جھانکتی ہے
جیسےآنکھوں سے تری بات کوئی جھانکتی ہے
خود کو تو نقش نگاری کا خدا کہتا ہے؟
تیری تصویر سے رنگوں کی کمی جھانکتی ہے
میرے لہجے میں ترا رنگ عیاں ہوتا ہے
جیسے سیلن زدہ کمروں سے نمی جھانکتی ہے
ایک وَحشت مِرے کمرے میں بسی ہے ایسے
کہ اداسی مجھے پردے سے چھپی جھانکتی ہے
میں اِسی واسطے نکّڑ پہ کھڑا رہتا ہوں
ایک لڑکی ہے’ جو کھڑکی میں کھڑی جھانکتی ہے
ایک گڑیا ہے جو شوکیز سے دیکھے باہر
ایک بچّی ہے کہ شیشے سے لگی جھانکتی ہے
کیا قیامت نہیں دیکھی یہاں لوگوں نے مگر
پھر بھی باتوں سے عجب زندہ دِلی جھانکتی ہے
( شـــاہ زیبؔ خـــان )

