منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) مست پھرتی ہے ہَـوا گَرد اُڑا…

( غیــر مطبــوعــہ )
مست پھرتی ہے ہَـوا گَرد اُڑانے والی
جیسے اب کے کوئی بارش نہیں آنے والی
یار ! مشکل تھا کہاں، بازی الٹ سکتی تھی
ایک بھی چال چلے ہم نہ زمانے والی
یہ بھی کیا ہے کہ سبھی شہر کو جائیں رستے
راہ کیوں کوئی نہیں گانو کو جانے والی
برق بارش میں گرجنے لگی اِس زور کے ساتھ
آرزو ســہم گئی دل میں ۔۔۔۔ نہانے والی
یاد رہتا ہی نہیں تذکــرۂِ وصــل یہاں
اپنی تنہائی ہے وہ رنگ جمانے والی
دیکھ ‘ اے ! آج تری آس پہ کل سے بچھڑے
تو بھی اب بات نہ کر جان چھڑانے والی
ہائے افسوس کہ ہم زاد کو مِل پاتی نہیں
ایک پٹری کہ ہے بچِھڑوں کو مِلانے والی
دیکھیے ۔۔۔ کتنی سہولت سے اُسے بھول گئے
بات جو تھی نہ کسی طَور بُھلانے والی
صاحبِ فہــم کو ہوتا ہے اشارہ کافی
کُھل کے ہوتی نہیں ہر بات بتانے والی
( حبیبؔ احمــــــد )

