منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ ) دیکھے ہُوؤں کا دیکھنا ، دیکھنا اَو…

( غیر مطبوعہ )

دیکھے ہُوؤں کا دیکھنا ، دیکھنا اَور ہو چکا
حیرتیں اور ہو چکیں ، آئنہ اور ہو چکا

شب کے گزشت و رَفت کی ، دن میں کہیں خبر چلی
اور سا تھا جو ماجرا ، ماجرا اور ہو چکا

آدمی نے بھی کب سنا ، آدمی کا کہا کہ جب
سارے کا سارا واقعہ ، واقعہ اور ہو چکا

بات بگاڑنے کی مشق ، کرتے تھے ، سو وہ کر چکے
رات گزارنے کا تھا ، تجرُبہ ، اور ہو چکا

سیر و سفر اِدھر اُدھر ، جرم و سزا تھے بیش تر
پہلا قدم وہی رہا ، دوسرا اور ہو چکا

تو کہ وصالِ جاوداں ، ہے تو رہینِ ِاین و آں
ہجر کا نام بھی یہاں ، ہونا تھا ، اور ہو چکا

صحن میں دھوپ چھاؤں کا ، اب نہیں کام ایک سا
دھوپ کا اور ہو چکا ، چھاؤں کا اور ہو چکا

( شاہین عبّاس )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/