( غیــر مطــبوعــہ ) ذرا سا شائبہ ہُوں جس کا رُو …

ذرا سا شائبہ ہُوں جس کا رُو جھلکتا ہے
کبھو جھلکتا نہیں ہے ‘ کبھُو جھلکتا ہے
جو حل بھی ہوں تو بجھارت کے ٹکڑے پورے نہ ہوں
دراڑ سے کوئی اَسرارِ مُو جھلکتا ہے
سپرد کر کے بھی آواز بچ رہے میری
فناے کُل میں بھی تکرارِ ہُو جھلکتا ہے
جو ایک سُو چلا جائے ابد میں مل جائے
جو ایک سُو نہ رہے’ چارسو جھلکتا ہے
مَیں سُر کی لہروں پہ گاتا ہُوا چلا جاؤں
ملاپ لے کا پسِ آبجو جھلکتا ہے
مجھے تو اب نہیں فرصت بھی دیکھنے کی مجھے
چراغِ آئنہ خانہ میں تُو جھلکتا ہے
ہَوا دریچوں سے جُھک جھک کے دیکھتی ہے اُسے
وہ جا چکا ہے’ مگر کو بہ کو جھلکتا ہے
مَیں اپنے آپ سے جس جنگ پر گیا ہُوا ہوں
مِرے رویّوں سے میرا عدو جھلکتا ہے
اُسی کے ٹکڑوں نے جوڑا ہے درمیانی فساد
قیامِ امن میں جو سرخ رو جھلکتا ہے
عدم سے ہونے کو موجود میں ہے سلسلہ سا
کچھ آئنے سے کہاں ہو بَہ ہُو جھلکتا ہے
مَیں دونوں ہاتھوں سے کھینچوں بھی تارِ سیمابی
جمودِ داخلی سے ضبطِ خُو جھلکتا ہے
گزرنے والوں کو ہم یاد بھی نہیں رکھتے
گزرنے والوں کا غم دوبَہ دو جھلکتا ہے
مَیں باد و باراں سے ہر پل جُڑا ہُوا ہوں’ نویــدؔ !
جو بات بات سے ابرِ نمو جھلکتا ہے
( اَفضـــال نویـــدؔ )

