منتخب غزلیں

( غیــر مطبـــوعـــہ ) چاند نکلا تو سَــمُندر کی…

( غیــر مطبـــوعـــہ )

چاند نکلا تو سَــمُندر کی ہَوا تیز ہُوئی
درد کچھ اور بڑھا ‘ رات جنوں خیز ہُوئی

پھر مِرے دل میں اداسی کا دیا جلنے لگا
پھر تری یاد کو تنہائی کی مہمیز ہُوئی

جیسے بے وجہہ کسی بات پہ دل بھر آئے
چشمِ پُرخوں اِسی انداز سے لب ریز ہوئی

درمیاں آ گئـــی آشـــفتہ مزاجـــی اپنی
دل فگاروں سے ملاقات کم آمیز ہوئی

نارسائی کی تھکن اور وہ تنہائی کی رات
اک بیاباں کی مسافت تھی ‘ بَلا خیز ہوئی

شہرِ گل رنگ میں زخموں کا سلگتا موسِـــم
آسماں سرخ’ فَضـــا اور بھی گل ریز ہوئی

لشکری دن کو بھی نکلے تھے کمیں گاہوں سے
ہاں ۔۔۔ مگر جنگ بہت شام کو خوں ریز ہوئی

مِل گئے خاک میں جب چاند ستاروں سے لوگ
تب کہیں جا کے یہ مٹّی مِری زرخیز ہوئی

( عــــابدؔ رضــــا )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/