مختصر کہانیاں

#جنت_کی_کنجی #از_ناصر_حُسین #قسط_نمبر_08 #آخر…

????????????☘????????❤
#جنت_کی_کنجی
#از_ناصر_حُسین
#قسط_نمبر_08
#آخری_قسط
????????????????????????❤
••••••••••••••••••••••••••••••••
شیشے کا تاج محل ٹوٹ گیا. ..میری محبت کا تاج محل ٹوٹ گیا سب کچھ بکهر کر ریزہ ریزہ ہو گیا …
زندگی یوں کهبی ایسا بھی کچھ کر سکتی ہے میرے ساتھ یہ سوچا نہ تھا. .منزل پہ پہنچ کر وہ ہم سفر یوں دغا دے گا یہ نہیں سوچا تها. …. ..
پتا نہیں خواب ٹوٹ کر اتنا درد کیوں دیتے ہیں ان کے بکهرے ٹکڑے چنتے پور پور زخمی ہو جاتا ہے. ..اور یہ زخم دل پہ نشان چهوڑ جاتے ہیں ایسے نشان جو کهبی نہیں مٹ سکتے …وقت کا کیا ہے وہ تو گزر ہی جائے گا لیکن نشان باقی رہ جاتے ہیں. …..
لیکن جو ہوتا ہے اچهے کے لیے ہی ہوتا ہے اگر وہ رات میری زندگی میں نہ آتا تو میں شاید کهبی سچ جان ہی نہ پاتی یوں ہی غفلت میں اپنی زندگی گزار دیتی. ….
میری پوری زندگی ایک جهوٹ کے سہارے گزر جاتی اور آنکهوں کے سامنے ہمیشہ دهند رہ جاتا. ..ایسی دهند جس میں مجهے اپنا عکس بھی نظر نہیں آتا…….
لیکن اب میں سب دیکھ سکتی ہوں اب سب واضح ہے…اس وقت میں اپنی مما کے گهر ہوں مجهے یہاں آئے ہوئے دوسرا دن ہے. ..میں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہوں سمیر سکندر کے گهر سے رسوا ہو کر نکلنے کے بعد اب کیا بچا تها. .میں خود کو بہت ذہین اور ہوشیار سمجهتی تهی لیکن میری ذہانت کے دعوے دهرے کے دهرے رہ گئے. ..دنیا مجھ سے زیادہ چالاک ہے اور مجھ سے ہزار گنا زیادہ شاطر. . ..اور میں. .میں کیا تهی ایک احمق بے وقوف. ……..
دو دن پہلے کی رات والا واقعہ کوئی معمولی اور غیر اہم نہیں تها جو میں بهلا دیتی…ہر لفظ ہر شے میری آنکھوں کے سامنے ہے….اس شام جب سب لوگ شادی پہ جا رہے تهے تو نانی میرے کمرے میں آئیں. …..
گهر پہ کوئی نہیں ہے اس لیے تم گهر پہ رک جاو. ..انہوں نے کہا تها میں نے سر اثبات میں ہلا دیا. .مجهے اس وقت کیا معلوم تھا ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے وہ اس حد تک مجھ سے نفرت کرتی ہیں. ..مجهے لگا تها وہ میری نانی ہیں اپنا خون اپنا ہوتا ہے رشتوں میں کڑواہٹیں آ ہی جاتی ہیں لیکن خونی رشتے کهبی ختم نہیں ہوتے لیکن میں غلط تهی. …..
رشتوں کا دھاگہ ایک بار اگر ٹوٹ جائے تو پھر کهبی نہیں جڑ سکتا……
سب لوگ شادی پہ چلے گئے میں گهر میں اکیلی تهی. .وقت گزاری کے لیے کچن میں چلی آئی اور اپنے لیے رات کا کهانا بنانے لگی…کهانے میں ابھی کافی وقت تها اور مجهے کوئی خاص بهوک بھی نہیں تهی لیکن وقت گزاری کے لیے اس سے بہتر طریقہ مجهے نہیں مل سکا….میں کافی دیر کچن میں رہی.بریانی کو ہلکی آنچ پہ رکھ کر میں باہر نکلی اور تبهی میری نظر صوفے پہ پڑی..میں ٹهٹک کر رک گئی. ..ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ٹی وی کے چینل بدلتی وہ تابش خالہ تهیں….مجهے حیرت ہوئی یہ تو شادی پہ گئی تهیں سب کے ساتھ پهر یہاں کیسے …؟
” خالہ آپ شادی پہ گئیں نہیں …”.؟..میں سوال کیے بنا نہیں رہ سکی…
” ناں بهئی چهوٹی رانی. ..میرے سر میں درد تها ایسے میں شادی پہ تو جانے سے رہی…”
.انہوں نے لاپرواہی سے کہا میں نے ان کے لہجے پہ غور نہیں کیا اور اگر کرتی تو بہت کچھ جان جاتی یہ وہ سب نہیں ہوتا جو ہوا ہے…لیکن جو ہونا ہوتا ہے وہ تو ہو کر ہی رہتا ہے کسی کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں بدلتا…مگر اتنا ضرور ہوتا میں داغ دار ہونے سے بچ جاتی…..میں بهی وہیں صوفے پہ بیٹھ گئی. ….
آدهے گهنٹے تک میں وہیں ٹی وی دیکهتی رہی. .پهر اچانک گهر کا دروازہ کھول کر ایک اٹهارہ انیس سال کا لڑکا اندر داخل ہوا میں اسے دیکھ کر حیران رہ گئی. ..اس کے ہاتهوں میں کچھ کتابیں تهیں …
ویسے گهر میں زیادہ انجان لوگ آتے نہیں تهے کهبی کهبی کوئی دور کے رشتے آ ہی جاتے تھے میں اسے نہیں پہچان پا رہی تهی لیکن خالہ اسے دیکھ کر مسکرا تے ہوئے ملیں…وہ بھی اتنی ہی گرم جوشی سے ملا….
” سیماب یہ ہیں اپنے سمیر کی گهر والی سونی… اور چهوٹی رانی یہ ہیں ہمارے پرانے پڑوسی سیماب”.. …خالہ نے ہمارا تعارف کروایا. .وہ لڑکا خوش دلی سے سلام کرنے لگا میں نے سلام کا جواب دیا….
اور وہ لڑکا وہیں خالہ کے برابر صوفے پہ بیٹھ گیا ..
” سناو بهئی کیسے کیسے راستہ بهول گئے آج.”…خالہ نے پوچها …..
” بس خالہ کیا کہیں یہ پڑهائی نے تو جینا حرام کر دیا ہے. ..ابهی اگلے ہفتے پیپرز ہیں مجهے کچھ سمجھ نہیں آ رہا. ..”.وہ اداسی سے بولا..میں اسے دیکھ کر مسکرا دی مجهے اپنی پڑهائی کے دن یاد آئے…….
"لے تو اس میں اتنی فکر کی کیا بات ہے ہماری چهوٹی رانی بہت پڑهی لکهی ہے. ..سب سمجها دے گی تمہیں فشٹ (فرسٹ) آو گے….”..خالہ طنز کر رہی تهیں یا غرور میں کچھ نہیں سمجھ سکی لیکن وہ ان دونوں میں سے کچھ نہیں تها وہ کچھ اور تها جو میں سمجھ نہیں پا رہی تهی. …
” جی تبهی تو آیا ہوں…امی نے سونی باجی کے بارے میں بتایا تها…”. …وہ میری طرف دیکهتے ہوئے بولا…
"ہاں ہاں. .کیوں نہیں ہماری چهوٹی رانی کی پڑهائی کب کام آئے گی. ” .خالہ نے تفاخر سے کہا…..
” جی ضرور. .”..میں نے بھی تائید کی وہ کتابیں کهولنے لگا …..
” ارے یہاں نہیں. ….یہاں تو میں ٹی وی دیکھ رہی ہوں تم لوگ ڈسڑب ہو گے… ایسا کرو اوپر کمرے میں جا کر آرام سے پڑهائی کرو..”…خالہ نے اعتراض کیا میں نے حیرت سے انہیں دیکها. …ایسے میں کیوں کسی انجان کے ساتھ کمرے میں جانے لگی …….
"لیکن خالہ. ..”.میں نے انہیں منع کرنے کی کوشش کی لیکن میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ بول پڑیں”. لیکن ویکن کیا….تمارے چهوٹے بهائی جیسا ہے بهائیوں سے کیسی شرم …..جاو جاو شاباش. ویسے بھی میں بھی تو ہوں ناں یہاں.”….سیماب نے کتابیں اٹهائیں. ..میں مزید کچھ نہیں بول سکی اور سیماب کو لے کر کمرے میں آ گئی ..وہ با ادب شریف لڑکا تھا مجھ سے کچھ فاصلے پہ بیٹھ گیا میں نے اس میں اپنے چهوٹے بهائی کی جهلک دیکهی….. اور سچے دل سے اسے بیالوجی سمجهانے لگی . .لیکن میں غلط تهی جسے میں چهوٹا بهائی سمجھ رہی تھی وہ آنے والے اگلے لمحوں میں میرے لیے قیامت کهڑا کر دینے والا تھا. ..کچھ ہی پلوں میں رشتوں کے مطلب بدلنے والے تهے….
پورے آدهے گهنٹے تک میں اسے مسلسل سمجهاتی رہی..تب جا کر وہ تهوڑا بہت سمجھ سکا…..
” تهینکس باجی…آپ کی وجہ سے میری ٹینشن دور ہو گئی ورنہ اس بیالوجی کو مجھ سے اتنی محبت ہے اس بار بھی اس کی سپلی لازماً آنی تهی……”
میں نے بے اختیار قہقہ لگایا یہ قہقہہ بھی اس سازش کا ایک حصہ تھا جس کا شکار میں کچھ پلوں میں ہونے والی تهی….
ہم دونوں ایک ساتھ سیڑهیاں اتر رہے تھے. ..میں ابھی تک مسکرا رہی تھی. .سب سے پہلے میں نے لاونج میں رکهے صوفے کی طرف دیکها خالہ وہاں نہیں تهیں ٹی وی بند تها…تب اچانک میری نظر باہر کے دروازے پر پڑی …سبهی گهر والے اندر داخل ہو رہے تهے مجهے حیرت ہوئی کیونکہ بقول ان کے یہ دیر سے لوٹیں گے پهر اتنی جلدی کیسے آ گئے…اور سب اتنے خاموش کیوں ہیں. اور سمیر مجهے ایسے کیوں دیکھ رہا ہے …میں اتنی حیران تهی کہ میری مسکراہٹ بھی غائب ہو گئی. .وہ بڑی عجیب نگاہوں سے مجهے دیکھ رہے تهے اور میں بس ان کی آنکهوں میں دیکهے جا رہی تهی کیا تها سب کی آنکھوں میں …..جو مجهے اندر تک جلا گیا..
” چهوٹی رانی. ..” تب میں نے تابش خالہ کی آواز سنی لیکن ان کی آواز میں حیرت تھی حد سے زیادہ. ..پهر مجهے احساس ہوا میں سیڑهیوں پہ اکیلی نہیں کهڑی کوئی اور بھی ہے میرے ساتھ ..دل نے یک دل تیز تیز دهڑکنا شروع کیا یہ اس بات کی طرف اشارہ تها کچھ غلط ہونے والا ہے کچھ بہت غلط. …….
” کون ہے یہ لڑکا.”….؟ میں نے سیماب کی طرف دیکها ..کیا کہہ رہی تهیں وہ اس لڑکے کو وہ نہیں جانتیں ابهی تهوڑی دیر پہلے کتنی گرم جوشی سے ملیں تهیں وہ اس لڑکے سے اور اب……کیا کرنا چاہ رہی تهیں وہ. ..؟ کوئی مذاق یا پھر ایک خطرناک سازش. ….
” تم کسی غیر مرد کے ساتھ اتنی رات کو او میرے اللہ "..
دل نے کام کرنا چهوڑ دیا…ہر طرف اندهیرا چهانے لگا. ..ہوا میں آکسیجن کم ہونے لگی یا میری سانسیں میرا ساتھ چهوڑ رہی تهیں.کیا ہو رہا تها میرے ساتھ. ….اور کیا ہونے والا تها. ….
اور پھر خالہ چیخ چیخ کر مجھ پہ الزام لگا رہی تهیں میں اس بے حیا عورت کا منہ بند کرنا چاہتی تهی کیا کہہ رہی تهی وہ….مگر میں تو برف بن گئی میں بڑی بڑی ڈگریاں لے کر آئی وہ لڑکی اور دو ان پڑھ جاہل عورتیں جنہوں نے انگریزی سکول کی شکل تک نہیں دیکهی وہ مجهے مات دیے کهڑی تهیں. ….میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تهی میرے ساتھ یہ سب ہونے والا ہے. .میرے دل میں ایک ڈر پیدا ہو گیا سب کچھ کهو جانے کا ڈر…تباہی کا ڈر….میں ٹوٹے پھوٹے ادهورے ادهورے الفاظ میں کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن میری آواز دب گئی…خالہ اور نانی کی آواز کے سامنے میری آواز دب گئی…میرا وجود سناٹے میں تها. …پهر ایک آخری امید ، لیے میں سیماب کے پاس آئی اور اس سے سچ بولنے کو کہا لیکن اس نے سچ نہیں بولا. …اس رات تو سایا بھی میرا ساتھ چهوڑ رہا تها تو وہ لڑکا کیوں میرا ساتھ دیتا …میں نے کهینچ کر اس کے منہ پہ تهپڑ مارا….میں نے اسے چهوٹا بهائی سمجها تها اور اس نے کیا لاج نبهائی ہے اس رشتے کی…اس نے تو بهائی بہن کے رشتے کو بدنام کر دیا. ..ہر رشتے پر سے میرا بهروسہ اٹھ رہا تها ایک آخری رشتہ تها سمیر کا….؟ میرا شوہر میری محبت. …….میں اس کے پاس گئی….
” سمیر یہ جهوٹ بول رہا ہے میرا یقین کریں. ". میں نے سمیر کا ہاتھ پکڑا اس کی آنکھوں میں بے اعتباری تهی وہ محبتوں کا دعویدار اپنی محبت پر سے بهروسہ کهو رہا تها….میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی تهی کیا کروں میرے پاس اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہیں تها.. ان دو عورتوں کی سازش ہی اتنی بهیانک تهی انہوں نے کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیا ..وہ واقعی میرے وجود کو بم سے اڑا رہے تهے ایک آخری رشتہ سمیر کا ایک آخری دروازہ . .میرا شوہر. ..جو میرے کردار کا گواہ تها وہ بھی آنکهوں میں بے یقینی لیے کهڑا تها…نانی کا دکهایا ہوا جهوٹ ہی اتنا سچا تها وہ کچھ اور دیکھ ہی نہیں پا رہا تها میری آنکھوں میں بھی نہیں. …….
” آپ کو مجھ پہ بهروسہ ہے ناں..”…میری آنکهوں میں ایک بے بسی تهی ایک التجا تهی مجھ پہ رحم کرو میری آنکھوں میں دیکهو…ان میں لکهی سچائی کی تحریر پڑهو…….لیکن نہیں اس نے کهینچ کر میرے گالوں پہ تهپڑ مارا. ..وہ تهپڑ گالوں پہ نہیں دل پہ پڑا…ایک واحد راستہ جس کا سوچ رہی تهی میں وہ بھی اندهیرے میں ڈوب گیا… ..
” نہیں ہے مجهے تم پہ بهروسہ ……
زمین تنگ ہونے لگی مجھ پہ……
نہیں ہے مجهے تم پہ بهروسہ. ….
آسمان گرا مجھ پہ. …….
نہیں ہے مجهے تم پہ بهروسہ”. ……
"تم جهوٹ کے ایک بلبلے پہ کهڑی ہو جس دن وہ بلبلا پهٹا سب ختم. خلاص .”
کچھ ٹوٹ رہا تها مگر کہاں…؟ میں بے یقینی سے اسے دیکهے جا رہی تهی وہ کہہ رہا تها اسے مجھ پہ بهروسہ نہیں. ..جو میری زندگی تها میرا سب کچھ تها وہ بھی مجھ پہ بهروسہ نہیں کرتا…تو اور کیا بچا تها. ..بس سب ختم. ..محبتوں کا محل ٹوٹ گیا شیشے کا تاج محل ٹوٹ گیا ….اس رات میں حقیقتاً آسمان کو خود پہ گرتا ہوا محسوس کر رہی تهی. …..
وہ میرا ہاتھ کهینچ کر مجهے اپنے گهر سے نکال رہا تھا. .جیسے قدموں سے جان نکالی جاتی ہے. …
وہ جا رہا تها مجهے چهوڑ کر مجھ سے دور…میرا سمیر میری محبت. …اور میں. ..میں اسے روک بھی نہیں سکی میں تو سن ہو چکی تهی وہ ایک تهپڑ ہی ہر سچ سے آگاہ کر گیا…ہر تصویر واضح کر گیا…
وہ رات محبتوں پر سے بهروسہ کهو دینے کی رات تهی . رشتوں پر سے بهروسہ کهو دینے کی رات تهی…
میں اندهیرے میں ان سیڑهیوں پر گری پڑی تهی . دهکا لگنے سے میرے ہونٹ سیڑهیوں کی چوکهٹ سے لگے اور ان سے خون رس رہا تها..پهر مجهے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی……..
” دیکھ چهوٹی رانی. …”…وہ نانی تهی…..
” ہم سے ٹکرانے کا نتیجہ دیکھ. …کہا تها تجهے باز آ جا لیکن نہیں. ..بہت شوق تها تجهے اڑنے کا پر کاٹ کر پهینک دیے ناں…”..؟ اب مجهے کچھ عجیب نہیں لگ رہا تها کچھ برا نہیں لگ رہا تها جب میرے اپنے نے مجھ پہ بهروسہ نہیں کیا تو میں کسی اور سے کیا شکایت کرتی……
” اس گهر میں آج تک ہماری حکومت چلی ہے…ہمارے ہوتے ہوئے کسی کی ہمت نہیں ہوئی یہاں اڑان بھرنے کی تو تم کس کهیت کی مولی ہو …ہونہہ گر گئی ناں منہ کے بل…..پتهر جب شیشے سے ٹکراتا ہے تو شیشہ ہی ٹوٹتا ہے.” …تابش خالہ کی آواز آئی…..
” چلو تابش اندر چلو….سکندر سے کہہ کر اسے اپنے گهر پہنچاو…اور طلاق نامہ تجهے بهجوا دیا جائے گا…”.
میں نے قدموں کی آواز دور ہوتے سنی….پهر کوئی باہر آیا..کسی نے میرا ہاتھ پکڑا ..کوئی مجهے کار میں بٹهانے لگا. ..پهر کار چلی. .پهر. ..پهر..سب ختم..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _

آج کل میری زندگی کے اداس دن چل رہے ہیں میں کافی ٹینشن میں اور اداس رہنے لگا ہوں ..سونی کو گئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا ہے اور اس ایک ہفتے میں مجهے وہ پل پل یاد آئی..مجهے نہیں پتا اس نے جو کیا وہ کیوں کیا لیکن میں چاہ کر بھی اس سے نفرت نہیں کر سکا…کهبی کهبی سوچتا ہوں کیا واقعی اس نے ایسا کیا یا پھر مجهے کوئی غلط فہمی ہوئی تھی. .لیکن اگر وہ سچی تهی تو اس نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی…مگر میرا دل کہتا ہے وہ بے گناہ ہے وہ لاکھ منہ پهٹ بنا لگی لپٹی بولنے والی کیوں نہ ہو لیکن وہ بدکردار نہیں ہو سکتی… اگر ایسا ہوا تو میں خود کو کهبی معاف نہیں کر سکوں گا…….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
ابهی تهوڑی دیر پہلے میں نے نماز ادا کی اور ابهی قرآن پاک کی تلاوت کا ارادہ ہے. ..اس رات نے اگر مجھ سے سب کچھ چهینا ہے تو مجهے دیا بھی بہت کچھ ہے میری آنکھوں سے غفلت کی پٹی اتر گئی میں سب جان گئی…..
اس رات جب ماموں مجهے یہاں چهوڑ گئے تو میں پانچ گهنٹے تک بے ہوش رہی اور جب ہوش آیا تو میں نے خود کو بستر پہ پایا. . مما میرے برابر لیٹی ہوئی تهیں…
نہیں ہے مجهے تم پہ بهروسہ. …
مجهے گهٹن کا احساس ہوا کمرے میں وحشت ہونے لگی ہر شے سے نفرت ہونے لگی. …میں نے چادر چہرے سے ہٹائی…کمرے میں اے سی کے باوجود مجهے پسینہ آرہا تها . میں چپکے سے بنا کوئی آواز کیے کمرے سے باہر نکلی….ہر زخم ابهی تازہ تها…
میں پتا نہیں کہاں جا رہی تهی پهر میں نے اپنے قدم سیڑهیوں پر رکهتے ہوئے محسوس کیے یہ سیڑهیاں چهت کی طرف جاتی تهیں. ….میں نے سیڑھی پہ قدم رکھ کر ٹانگوں کو زور دیا….
پیار کا اقرار کرنے میں اتنا وقت لگا دیا یہ بات تو آپ پہلے بھی کہہ سکتی تهیں…….
میں نے اندهیرے میں سیڑهیوں کو ٹٹولہ….
"میں یقین کیسے نہیں کرتا…جو لڑکی ساری رات جاگ کر بخار میں میرے سر پہ پٹیاں رکھ سکتی ہے جو سوتے ہوئے میری پیشانی پہ کس کر سکتی ہے اس کی محبت پہ مجهے بهلا کیا شبہ ہونا تها. "…. …
آواز بہت قریب سے ہی کہیں آرہی تهی اور میں آواز سے دور بهاگ رہی تهی…اس لیے تیز تیز قدم اٹها رہی تهی…..
” میری گڑیا کے دولہے کا نام سمیر سکندر ہے”. …
میں سیڑهیاں مکمل عبور کر چکی تهی. . .
” نہیں ہے مجهے تم پہ بهروسہ.” ..
میں کهلے آسمان تلے کهڑی تهی ٹهنڈی ہوا کے جھونکے میرے جسم سے ٹکرانے لگے..ہوا کی وجہ سے میرے بال اڑ رہے تهے. ..ہر طرف اندهیرا تها اور اس اندهیرے میں میں کہاں تهی…کہیں بھی نہیں میرا وجود تو کہیں کهو گیا تها……
” میں عشق محبت کی جانڑاں _ _ _ _
تینوں ویکه کے ہوش اچ نئیں راندی ___”
اندهیرے میں مجهے سب نظر آ رہا تها میں سب دیکھ سکتی ہوں اپنی محبت کو بھی اور اپنے آپ کو بھی ایک آئینہ لا کر میرے سامنے رکھ دیا گیا تها. …..
اچانک آسمان پہ بجلی چمکی….اور ایک پل کے لیے سب کچھ روشن ہو گیا. ….
بائیس سال__زندگی کے بائیس سال ایک ایک لمحہ ایک ایک پل ایک ایک سانس میں میں نے جس سے محبت کی تهی جس سے عشق کرتی رہی …وہ کون تها….اور میں اس کے لیے کیا تهی…..؟
جو میری زندگی تها میری ہر دهڑکن پہ اس کا نام لکها تها ..گڑیاں کهیلتے وقت میں اس کا نام لیتی تهی رات کو سونے سے پہلے اسی کا نام لیتی تهی صبح جاگتے ہی اس سمیر سکندر کا نام لیتی تهی وہ سمیر سکندر جو میرے لیے سانس لینے کا ذریعہ تها.وہ کوئی ایک دن ایک ہفتہ ایک مہینہ نہیں تها میری زندگی کے بائیس سالوں کی محبت تهی…….
اس کے لیے میں کیا تهی….؟ میری اہمیت اس کے سامنے کیا تهی….کچھ بھی نہیں. … کچھ بھی نہیں. ایک معمولی تنکا بھی نہیں ریت کا ایک معمولی زرا جس کے لیے میں ہر حد تک گئی جس کی زبان سے نکلی ہر بات میری روح کا تسکین تها.. .جس شخص کو میں نے ہوش سنبهالتے ہی چاہا ہے جس کے خواب دیکهنے لگی جس کے ساتھ میں خیالوں میں گهر گهر کهیلتی تهی. ..اس کے لیے میں تو واقعی کچھ نہیں تهی…
” میں عشق محبت کی جانڑاں _ _ _ _
تینوں ویکه کے ہوش اچ نئیں راندی ___”
ہونہہ. .محبت …؟ کیا یہی محبت تهی ..یہی میرے سپنوں کا تاج محل تها…یہی تهے میری زندگی کے بائیس سال. ..بس….
ایک جهوٹ. .؟ دادی اور پهپهو کا دکهایا ہوا ایک جهوٹ ..اس نے اس جهوٹ پہ یقین کر لیا اور میری بائیس سال کی محبت کی کیا اوقات باقی رہ گئی. ..آنکهوں دیکهے ایک معمولی جهوٹ کی وجہ سے اس نے مجهے دهکے مار کر گهر سے نکال دیا….اسے جو صبح شام اس کے نام کا ورد کرتی تهی…اسے ایک جهوٹ نظر آ گیا لیکن وہ محبت نظر نہیں آئی جو میں اس سے کرتی تهی. …اور میں ساری زندگی کیا کرتی رہی ایک ایسے انسان سے محبت جس کے سامنے میری اوقات ایک تنکے سے زیادہ نہیں تهی…
آسمان کے بادلوں نے برسنا شروع کیا وہ بوندیں میرے ٹوٹے وجود سے ٹکرانے لگیں…. .
میں تمام عمر ایک کاغذ کی کشتی پہ سوار رہی جو ڈوب گئی اور محبت کے نام پہ جو میں نے خوبصورت شیشے کا تاج محل بنایا تها وہ بکهر کر ریزہ ریزہ ہو گیا. …
اور اسے توڑنے والا کون تها . مجهے توڑنے والا کون تها….؟ وہی میری محبت. .اس محبت کی اصلیت یہ تهی اس خوبصورت رشتے کی اصل سچائی یہ تهی.ایک…فقط ایک لمحہ لگا اعتبار ٹوٹنے میں اور سب ختم……..
میرا دم گھٹنے لگا. ..ایسا لگا جیسے یہ آسمان مجھ پر سے اپنا چهت چهین رہا ہو اور زمین قدموں تلے سے پهسل رہی ہو…….
".اور تم واپس آو گی جب تمہیں چاروں طرف اندهیرا نظر آئے گا ہر راستہ بند ہو جائے گا….تمہیں سانس لینے سے بھی تکلیف ہونے لگے گی.تم دنیا کو قبر کی مانند پاو گی..ہر بشر پہ کهبی نہ کهبی ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب نہ زمین پاوں تلے رہتی ہے اور نہ آسمان کی چهت سر پہ…چاروں طرف پوری کائنات سناٹے میں آ جاتی ہے ہر طرف ویرانی ہوتی ہے روشنی کی ایک کرن بھی باقی نہیں رہتی ..تب اسے وہ بیس حروف وہ پانچ الفاظ یاد آئیں گے ..تم پر بھی وہ وقت عنقریب آئے گا تب تم واپس آو گی…”….
اس فقیرنی کی آواز بجلی کی آوازوں کو چیرتی ہوئی میرے کانوں میں گونجی……
سناٹا __ویرانی__اندهیرا __قبر__یہی سب کچھ تو تها یہی تو میں محسوس کر رہی تهی. ..یہی تو وہ لمحہ تها جب نہ سر پہ آسمان تها…اور نہ قدموں تلے زمین. ..اور مجهے زندگی میں پہلی بار اس فقیرنی کی باتوں پہ یقین آیا…اور پہلی بار مجهے وہ بیس حروف یاد آئے..وہ پانچ الفاظ. ..مجهے ان کی ضرورت پڑی..
میرا ذہن بہت تیز کام کرتا تها اور اس وقت جب میں خالی ذہن تهی اس وقت تو ذہن اور اچھی طرح کام کیا. ..میں نے آنکهیں بند کر کے وہ بیس حروف یاد کرنے کی کوشش کی اور مجهے وہ یاد آگئے…..
ن_آ _ر _ق_ہ_ز_و_ر_ز_ا_م_ن_د_م_ ح_م_ہ_ل_ل_ا_
میری آنکھوں کے سامنے تهے…اور میں ان بیس حروف سے پانچ الفاظ بنانے لگی….
میں نے دائیں سے بائیں طرف شروع کیا اور پہل لفظ بنایا…..
نآرق ..پہلے چار حروف سے یہی لفظ بنا لیکن اس کا مطلب میں نہیں سمجھ سکی…ہو سکتا ہے کسی اور زبان کا لفظ ہو میں نے ذہن پہ زور دے کر دوسرا لفظ بنانے کی کوشش کی. …
ہزور….یہ بھی میری سمجھ سے بالاتر تها…ہو سکتا ہے یہ الفاظ ہی ایسے ہوں لیکن مجهے جلد ہی احساس ہوا میں غلط جوڑ کر رہی ہوں….میں نے ایک بار ان بیس حروف کو ذہن میں لا کر دیکها. . .اب میں بائیں سے دائیں طرف جوڑ بنانے لگی……
” ا….ل….ل..ہ…”..اور انہیں ملا کر جوڑ بنانے سے بنتا ہے. ..
” اللہ. ..”.ذہن میں جهماکہ ہوا کہیں. ..میں نے جهٹکا کهایا کیونکہ میں جوڑ بنانے میں کامیاب ہو چکی تهی….
یہ بیس حروف تمہاری زندگی بدل سکتے ہیں. …
میری آنکهوں سے آنسو کی ایک بوند گری جو برستی بارش میں شامل ہو گئی….اب میں دوسرا جوڑ بنانے لگی….
” م…ح .م…د….”.یعنی کہ….یعنی کہ. …
” محمد صلی علیہ والہ وسلم….”..برستی بارش کے ہر بوند میں ایک پیغام تها….
یہی پانچ الفاظ تمارے لیے راہ نجات ہیں. …..
میں نے تیسرے چار حروف کو ملایا …..
” ن…م….ا…ز..”…نماز …..
میں روتے ہوئے مسکرا دی کیونکہ میں بالکل سہی جا رہی تهی…
اگر تم ان بیس حروف کو نہیں سمجھ سکی تو ساری زندگی پچهتاتی رہو گی. .
” ر….و..ز….ہ……مطلب روزہ”…..
کڑی سے کڑی مل رہی تهی ہر الجهن ختم ہو رہی تهی..ان میں ایک کنجی ہے جس سے تمارے دل پہ لگا تالا کهل سکتا ہے. ……
ق…..ر….آ..ن…..یعنی قرآن پاک ….
” یہ تمہیں تب سمجھ آئیں گے جب تم انہیں سمجهنا چاہو گی.”….
اور میں نے بیس حروف پانچ الفاظ کا وہ پزل سلجها دیا. .تو کیا یہی بیس حروف کامیابی کا راستہ تهے انہی میں کامیابی کی کنجی ہے. ..اور جنت کی کنجی نماز روزہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں چلنے سے ملے گی…وہ فقیرنی اسی کنجی کی بات کر رہی تهی. ….میں سناٹے میں تهی. ….
ہر حساب برابر تها سب سچ سامنے تها… .
میں نے بند آنکهوں کو کهولا _ہر طرف اندهیرا محسوس ہوا _گهپ اندهیرا .لیکن میں اس اندهیرے میں بھی دیکھ سکتی تهی سب صاف نظر آ رہا تها___اب تو کوئی دهند نہیں تها ہر شے شفاف تها آئینے کی طرح. ….
بند آنکهیں پوری کی پوری کهل گئیں_بس ان آنکهوں کو کهلتے ہوئے بہت وقت لگ گیا .. بائیس سال لگے _ بہت دیر ہو گئی__واقعی بہت دیر ہو ہوگئی. ..ہاں میری آنکهوں کو کهلتے کهلتے اتنا وقت گزر گیا. …..
” محترمہ سونی سمیر کیا آپ انتخاب کرنا پسند کریں گی_”_کہیں سے ایک آواز آئی ___
میں نے سر اٹها کر دیکها تو کوئی نہیں تها__میرے بال الجهے ہوئے تهے ..ہوا میرے جسم کے آر پار ہو رہی تهی. …. لیکن میں کچھ بھی نہیں محسوس کر پا رہی تهی __محسوس کرنے والی حس ختم ہو گئی _____
” اللہ یا سمیر سکندر”__؟
آواز ایک بار پھر سے سنائی دی _
” نماز یا سمیر سکندر__؟ ” ایک اور آواز آئی__
میری آنکھوں سے دو آنسو لڑهک آئے میں جواب نہیں دینا چاہتی تھی___ جو جواب کهبی میں دے چکی تھی اس سے مجهے نفرت ہونے لگی. …
” سمیر سکندر __ ” دوسری طرف سے کہا گیا __بس کچھ ہی پل لگے آسمان کی چادر کو میرے سر سے ہٹنے میں__
کسی نے کهبی مجھ سے کہا تها مجهے ڈھانپنے کے لیے کپڑے کم پڑ جائیں گے. ..اور اس رات واقعی کپڑے کم پڑ رہے تھے ..آسمان کی جو واحد چادر سر پہ تهی وہ بھی دور ہوتی جا رہی تهی …کہیں بہت آگے …
” نہیں ہے مجهے تم پہ بهروسہ ”
” تم جهوٹ کے ایک بلبلے پہ کهڑی ہو جس دن وہ بلبلا پهٹا سب ختم …” .واقعی وہ بلبلا پهٹ گیا تها..میں ساری زندگی جس جهوٹ کے سہارے جیتی آئی وہ جهوٹ آخر ختم ہو ہی گیا. …..
مجهے لگا کوئی مجھ پہ ہنس رہا ہے_ میں نے اپنے بهاری سر کو گهمایا _اور برف بن گئی _سامنے وہ بوڑھی عورت کهڑی تهی__جو مجھ پہ قہقہے لگا رہی تھی میں اسے پہچان سکتی ہے __بہت اچهی طرح __
اب تو میں سب دیکھ سکتی تهی بائیس سال لگے لیکن میری بینائی بہرحال لوٹ ہی آئی ___وہ آسمان وہ زمین__اور ان سب کے بیچ میں کہاں تهی کہیں بھی نہیں__
صبح صبح نماز کے لیے اپنی نیند کون خراب کرے…..
میرے اپنے ہی الفاظ چابک بن کر میرے منہ پہ پڑے…ایسے کئی چابک ابهی پڑنے تهے کیونکہ میری ساری زندگی گناہ کے ماوئنٹ ایورسٹ پہ کهڑی تهی .
مجهے زندگی میں پہلی بار اللہ تعالیٰ کی شدت سے یاد آئی اور اپنی پچھلی زندگی سے گهن…..یہی وہ راستہ تها جو مجهے میری منزل تک پہنچا سکتا تها. ..ایک جگنو کی طرح. ..اس دن وہ فقیرنی اس صراط مستقیم کی کنجی کا کہہ رہی تھی ..جس پہ چل کر میں جنت کی کنجی حاصل کر سکتی ہوں …میری زندگی کے بائیس سال سامنے تهے کسی فلم کی طرح. …جن میں ساری زندگی سمیر سکندر سے محبت کرتے گزری ہے اور میں نے اللہ تعالیٰ سے محبت کب کی…؟
کهبی نہیں. ..جواب آیا…اور میں کانپ گئی میری ساری زندگی یوں گزر گئی مطلب یوں ہی…ایسا کیسے ہو سکتا ہے. .میں نے پوچها ..
ایسا ہو چکا ہے. ..جواب آیا…
اور پہلی بار مجھ پہ انکشاف ہوا میں بالکل خالی ہاتھ ہوں…سمیر والا غم بهول چکی تهی…
” اللہ تعالیٰ اور سمیر سکندر. .”..؟
ایک سے میں نے ساری زندگی بائیس سال محبت کی اور اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ نظر انداز کرتی رہی…کهبی نماز قرآن پاک پہ توجہ نہیں دی. ….
آخری وقت پہ موت کو دیکھ کر میں نے اللہ کا نہیں سمیر سکندر کا نام لیا… اور سمیر سکندر کہتا ہے اسے مجھ پہ بهروسہ نہیں. .کیا وہ سمجھ سکتا ہے اس نے کیا کیا ہے میرے ساتھ .کتنا بڑا نقصان کر دیا اس نے میرا…مجهے کہاں سے کہاں لا کر کهڑا کر دیا اس نے…اس کی محبت میں اندهی ہو کر میں نے بائیس سال اللہ کو نظر آ کر دیا. اس کی محبت نے مجهے کچھ اور سوچنے ہی نہیں ….آسمان سے پاتال میں گرانے والا انسان وہ تها جس سے میں ٹوٹ کر محبت کرتی تهی……
زندگی میں پہلی بار ایک خیال بجلی کی طرح میرے دماغ میں آیا…اگر میں بیس سال سمیر سکندر کی بجائے اللہ تعالیٰ سے محبت کرتی تو….؟
تب شاید میں یوں نہ بکهرتی…تب شاید میں اپنے آپ سے نفرت نہ کرتی اور اب….؟ جب میں ایسا کر چکی ہوں تو جان رہی ہوں کتنا غلط کیا ہے میں نے. ..کتنے گھاٹے کا سودا کیا ہے میں نے. …اتنا احمق کون ہے دنیا میں جو اللہ کی بجائے انسان سے محبت کرے. ..
لیکن میں وہ بے وقوف ہوں اور سر فہرست ہوں . ضروری نہیں ہر انسان کی محبت کامل ہو ..ہم جس سے محبت کریں وہ بھی ہم سے محبت کرے …..مجهے سمیر سے کوئی شکایت نہیں شکایت تو خود سے ہے….وہ تو ہم سب انسانوں کی طرح ایک عام انسان تها…اسے غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے غصہ بھی آ سکتا ہے…وہ غلطیاں بھی کر سکتا ہے ..بس میں ہی اس سے کچھ زیادہ امیدیں لگائے بیٹهی تهی.
لیکن ایک ذات ایسی بھی ہے جو کهبی آپ کو گرنے نہیں دیتی جو آسمان کے اوپر ہمیشہ آپ کے سر پہ سایا بنائے رکهتی ہے. .اسے غلط فہمی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی وہ دهوکہ دیتا ہے. ……..
اگر زندگی کے بائیس سال میں اس ہستی سے محبت کرتی تب شاید میں خالی دامن نہ ہوتی.. .
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﮧ ﻗﺎﺩﺭ ﮨﮯ ..
ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ میں” ﻗﺎﺩﺭ ” ﮐﻮ ﭼﻬﻮﮌ ﮐﺮ "ﻗﺎﺻﺮ ” ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺪ
ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﻬﮯ تهی….
کاش میں نے نماز ادا کیے ہوتے زندگی میں کهبی یا قرآن پاک کا علم حاصل کرتی تو یوں نہ بکهرتی. …
اس وقت میرا سارا علم ساری ڈگریاں مجھ پہ قہقہے لگانے لگیں. ..
..اب مجهے سب نظر آ رہا تها صاف صاف….اپنا عکس اور سچائی کا عکس…..
میری زندگی کا سفر یہی تها…عشق مجازی. .لیکن اب ہر جهوٹ سے پردہ اٹھ چکا تها..اب میں مزید کسی گرد و آلود میں نہیں رہ سکتی . ساری زندگی ضمیر کو نہیں کچل سکتی……میں نے بائیس سال عشق مجازی کا سفر کیا اور عشق کی اصلیت بھی دیکھ چکی… اب باقی کی زندگی عشقِ حقیقی کا سفر طے کرنا چاہتی ہوں اور مجهے معلوم ہے یہ سفر بہت خوبصورت ہوگا اس سفر میں کهبی منہ کے بل نہیں گروں گی….میں واپس جانا چاہتی ہوں اور میں واپس جا سکتی ہوں وہ ذات پاک آخری سانس تک اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے …اور میں توبہ کرنا چاہتی ہوں ….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
یک دم میری زندگی سے اداسی اور غم کے بادل چهٹ گئے واقعی آج میں بہت خوش ہوں مجهے نہیں یاد میں زندگی میں پہلے کهبی اتنا خوش ہوا ہوں. ..آج دادی کو ہارٹ اٹیک آیا ہے جو ہائی لیول کا نہیں تها اب وہ بالکل ٹهیک ہیں لیکن اس اٹیک نے انہیں بالکل بدل دیا وہ اتنا ڈر گئیں کہ ان کے ظلموں کا گهڑا پهوٹ گیا…مجهے یہ تو یقین تها ہی کہ ظالم لوگوں کی خدا رسی ضرور کھینچتا ہے مگر اتنی جلدی یہ میں نے سوچا نہیں تها. ..انہوں نے ساری زندگی جو امی اور بھابیوں پہ ظلم کیے ان کے لیے ان سے معافی مانگی ایک حادثہ انسان کی زندگی بدل سکتا ہے. جو گهریلو ساسیں بہوؤں پہ ظلم کرتی ہیں کهبی نہ کهبی اللہ تعالیٰ کی بے آواز لاٹھی ان پہ ضرور پڑتی ہے………
اور پھر انہوں نے اعتراف کیا سونی بے گناہ ہے ان پہ لگایا الزام جهوٹ ہے وہ سب ان کی سازش تهی…مجهے پہلے تو ان پہ غصہ آیا لیکن پھر یہ سوچ کر معاف کر دیا وہ بزرگ ہیں اور غلطیاں سبهی سے ہوتی ہیں. ….اور میں بہت خوش ہوں سونی کے لیے میرے دل میں محبت اور بڑھ گئی. ..میرا دل چاہ رہا ہے ابهی اڑ کر اس کے پاس جاؤں اور اسے منا لوں لیکن ابهی رات ہے تو اس وقت نہیں جا سکتا. ..وہ مجھ سے ناراض ہوگی لیکن میں اسے منا لوں گا…وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے مجهے معاف کر دے گی …جو لڑکی رات ایک بجے تک میرے لیے رو سکتی ہے وہ یقیناً میری یہ غلطی بھی معاف کر دے گی.میں اب زندگی میں کهبی اس سے بدگمان نہیں ہوں گا اور اسے پلکوں پہ سجا کر رکهوں گا….اللہ تعالیٰ نے مجھے وقت پہ سب دکها دیا اور میری آنکهیں کهول دیں. ..ورنہ میں یونہی ساری زندگی اسے غلط سمجهتا …گهریلو رشتے بہت نازک ہوتے ہیں اور انہیں بڑی محبت سے سنبهالنا چاہیے. ..ایسا نہ ہو کسی کے ساتھ انصاف کرنے کے چکروں میں کسی بے گناہ کے ساتھ نا انصافی ہو جائے. ….آج رات مجهے نیند نہیں آئے گی..میں جلد ہی صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں……
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اس وقت میں اپارٹمنٹ کے کچن میں سمیر کے لیے کهانا بنا رہی ہوں .سمیر ابهی کهیتوں سے واپس نہیں آیا….لیکن تهوڑی دیر بعد اس کے آنے کا وقت ہے میں کل ہی یہاں آئی تهی وہ خود مجهے لینے آیا تھا …اسی کے ہی فیصلے سے ہی ہم اس اپارٹمنٹ میں شفٹ ہو گئے ہیں کیونکہ اس نے کہا تها وہ اب سب کے ساتھ گاوں میں نہیں رہنا چاہتا …وہ مجهے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا وہ کافی شرمندہ لگ رہا ہے .اس نے کئی بار مجھ سے معافی مانگی اور میں نے اسے معاف کر دیا لیکن اپنے آپ کو کهبی معاف نہیں کر سکوں گی آخری سانس تک نہیں. …….
جب وہ مجهے لینے آیا تھا تو اس نے کہا تها سب ٹهیک ہو جائے گا .سب کچھ پہلے جیسا ہوگا …لیکن میں جانتی تهی اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں ہوگا سب بدل چکا ہے. …..وہ کہہ رہا تها وہ ساری زندگی مجھ سے شدید محبت کرے گا…اور میں. ..میں کیا کہتی اس سے. …؟
” ﻣﺮﮨﻢ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺳﮑﮯ ﮔﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﻌﺬﺭﺕ ___
ﺩﻝ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﻨﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﺎ ___”
میں اب زندگی بهر اس سے وہ پہلے والی محبت نہیں کر سکتی. .وہ سونی مر چکی ہے جو سمیر سکندر کو ایمان سمجهتی تهی. صرف ایک غلطی کے بدلے اس نے سب کچھ ختم کر دیا..اس کی محبت یہی تهی جو ڈگمگا گئی ایک غلطی فہمی سے محبت کا محل ٹوٹ گیا…میں نے بائیس سال جس شخص سے محبت کی اس نے کتنی آسانی سے کہہ دیا اسے مجھ پہ بهروسہ نہیں.اور …اب میں سمیر سکندر سے زیادہ کسی اور ہستی سے محبت کرنے لگی ہوں…وہ جو میری بائیس سال کی محبت کے بدلے میں مجھ پہ آسمان نہیں گرائے گا جو مجھ پہ بهروسہ کرے گا..جو دهکے مار کر مجهے اپنے گهر سے باہر نہیں نکالے گا…..اور میں اس بار اس ہستی سے محبت کرنا چاہتی ہوں جو کهبی مجهے تنہا نہیں کرے گا. …..
میں سمیر کی بیوی ہوں اور ایک بیوی ہونے کے ناطے میں اپنا ہر فرض نبهاوں گی….
لیکن میں پهر سے کهبی وہ محبت اس سے نہیں کر پاؤں گی.ایک عورت اور مرد کی محبت میں بہت فرق ہے عورت ایک مرد سے محبت کرتی ہے اس پہ بهروسہ بھی کرتی ہے لیکن مرد صرف محبت کرتا ہے. ..
..وہ منہ پهٹ بنا سوچے سمجھے بولنے والی__ وہ مقابلہ کرنے والی سونی کہیں کهو چکی ہے. ..میں انسانوں سے محبت کرنا چهوڑ چکی ہوں میں اب اس ذات سے محبت کروں گی جو مجهے کهبی تنہا نہیں چهوڑے گا..تب بھی نہیں جب سب ختم ہو جائے گا…تب بھی نہیں جب آسمان اپنی چادر کهینچ لے گا…ہر انسان دهوکہ دے سکتا ہے لیکن اللہ کهبی دهوکہ نہیں دیتا… ایک موڑ ایسا ہوتا ہے جہاں کوئی محبت کوئی رشتہ نہیں ہوتا…سبهی تصویریں واضح ہونے لگتی ہیں ہر محبت کی سچائی سامنے آ جاتی ہے. …تب ہمارے پاس صرف اللہ ہوتا ہے جو ہمیں سن سکتا ہے اور دیکھ سکتا ہے. ہر محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد آتا ہے….نانی اور خالہ انسان تهے اور انسان ہر برائی کر سکتا ہے وہ دهوکہ بھی دے سکتے ہیں جهوٹ بهی بول سکتے ہیں ..وہ عام انسانوں جیسے تهے جو ظلم کی انتہا کو پہنچ چکے تهے. .مجهے ان کے ظلم پہ کوئی تعجب نہیں ہوا جب بیٹا باپ کو جائیداد کے لیے قتل کر سکتا ہے جب ایک مرد اپنے دس بچوں کو زہر دے خر مار سکتا ہے تو نانی اور خالہ یہ کیوں نہیں کر سکتی تهیں…. ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺭﺣﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻬﺎﺗﺎ ..ﺭﺣﻢ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﯽ ﺩﻫﻮﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ .. میں ہی بے وقوف تهی جو انسانوں سے امید لگائے بیٹهی تهی. .
یہ دنیا ایک دلدل ہے یہاں ہر رشتہ ہر محبت وفا نہیں کرتی جہاں ہر رشتہ دهوکہ دے جائے وہاں اللہ باقی رہتا ہے جہاں ہر محبت ساتھ چهوڑ جائے وہاں اللہ ہی ہمیں اندهیرے میں روشنی دکهاتا ہے.اور میں ساری زندگی اس اندهیرے میں نہیں گزار سکتی جہاں اپنے وجود سے بھی ڈر جاوں .. اب میں صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتی ہوں . ..اور میں بس لوٹنا چاہتی ہوں. پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے. …راستہ میں پا چکی ہوں بس جنت کی کنجی اپنے اعمال اور نیکیوں سے حاصل کرنی ہے. ……
زندگی کا سفر کافی طویل ہوتا ہے جہاں ہر قدم پہ ہر موڑ پہ نئے دوست نئے رشتے بنتے ہیں لیکن وہ رشتے وقتی ہوتے ہیں وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ وہ رشتے وہ دوستیاں وہ محبتیں ساتھ چهوڑ جاتی ہیں. ….لیکن زندگی کے اس مکمل سفر میں صرف اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہوتا ہے شروع سے لے کر آخر تک وہ کهبی اپنے بندے کو تنہا نہیں چهوڑتا………اور اللہ کو ہم کب یاد کرتے ہیں جب ہمیں ٹهوکر لگتی ہے جب ہم دنیا کے رشتوں سے اعتبار کهو دیتے ہیں. .. .لیکن اگر ہم اللہ تعالیٰ کو ٹهوکر لگنے سے پہلے یاد کریں تو کهبی منہ کے بل نہیں گریں گے. ..
*ختم شد*

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/