#hamidnaved ہمارے ہاں لاؤڈ سپیکر کے بڑھتے ہوئے ا…

ہمارے ہاں لاؤڈ سپیکر کے بڑھتے ہوئے استعمال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب تو موبائل میں بھی ’’سپیکر‘‘ کی آپشن لازمی خیال ہونے لگی ہے۔ ہم اونچا بولنے اور اونچا سننے کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ سرگوشی جیسی نعمت ہماری زندگیوں سے نکلتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ مساجد کے لاؤڈ سپیکر اذان کے علاوہ بھی دن رات مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتے نظر آتے ہیں‘ کچھ عرصہ پہلے لاؤڈ سپیکرز کے بے جا استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی تھی‘ یہ پابندی اب بھی ہے تاہم اس پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔ جب پہلی بار لاؤڈ سپیکر کے غیر ضروری استعمال پر پابندی لگی تو میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں اس پابندی کا سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوگا؟
اطمینان سے بولا’’ گوالوں اور زیادہ بچوں والوں کو ….‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا’’وہ کیسے؟‘‘
اطمنیان سے بولا’’ ایسے کہ اب گوالے کی بھینس گم ہو گئی یا کسی کا بچہ شام تک گھر نہ آیا تو وہ مسجد میں اعلان نہیں کروا سکے گا۔‘‘
میں اپنے دوست کے جواب سے پانچ سو فیصد متفق ہوں کیونکہ لاؤڈ سپیکر کا یہ استعمال میں متعدد مواقع پر خود بھی دیکھ چکا ہوں۔ لاہور کے نزدیکی علاقے کے ایک گاؤں میں سبزی والا جب بھی گاؤں میں داخل ہوتا ہے ، مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر دیتاہے کہ میں آگیا ہوں۔ موجودہ پابندی یقیناٌ ان لوگوں کے لئے بھی ہوگی جو لاؤڈ سپیکر پر آم اور انار کا خالص شربت دو دو روپے میں بیچتے ہیں۔ ایک شربت والے سے میں نے پوچھا کہ جناب کیا واقعی یہ شربت پینے سے فائدہ ہوتا ہے؟
قسم اٹھا کر بولا ’’ سو فیصد ہوتا ہے ….لیکن ….. دوکاندار کو …..‘‘
لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہمارے ہاں اتنا زیادہ عام ہو چکا ہے کہ ہم دعائیں بھی لاؤڈ سپیکر پر مانگتے ہیں۔ شاید ہم اپنے اپنے لاؤڈ سپیکر کی آواز زیادہ سے زیادہ بلند کر کے اللہ تعالیٰ تک اپنی آواز زیادہ واضح پہنچانا چاہتے ہیں۔ میرے علاقے میں ایک پٹھان صاحب لاؤڈ سپیکر پرالیکٹرانک کا سامان فروخت کرتے ہیں اور دو نمبر مال کے بارے میں بڑی سے بڑی قسم اٹھانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں کہ یہ دو نمبر نہیں ہے۔ میں نے ایک دفعہ چیک کیا تو خان صاحب کی قسم کو درست قرار پایا کیونکہ سامان دو نمبر نہیں بلکہ چار نمبر تھا۔ لاؤڈ سپیکر پر روانگی جنازہ کے اعلانات بھی بکثرت سنے جا سکتے ہیں۔ یہ اعلان کرنے والے اکثر احباب اتنی گرم جوشی سے جنازے کی تیاری کا اعلان کرتے ہیں کہ لگتا ہے جنازہ نہیں ناشتہ تیار ہے۔ ایک اعلان ملاحظہ فرمائیے !۔۔۔’’حضرات! محمد بشیر کے والد محمد قدیر کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی نماز جنازہ پڑھی جا چکی ہے۔۔۔ اب جنازہ بالکل تیار ہے۔۔۔ہلکی ہلکی ہوا چل رہی ہے۔۔۔ سب لوگ آچکے ہیں۔۔۔لیٹ آنے والوں کو اپنی نماز جنازہ خود پڑھنی ہوگی ۔۔۔لہذا جلدی جلدی تشریف لے آئیں کیونکہ اب مزید انتظار ممکن نہیں۔۔۔!!!
میں سوچ رہا ہوں کہ اگر لاؤڈ سپیکروں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی پر سختی سے عمل درآمد شروع ہوگیا تو سب سے بڑا فائدہ ان نمازیوں کو ہوگا جن کی عید کی نمازیں میری طرح گڑبڑ ہو جاتی ہیں۔ پچھلی دفعہ کی بات ہے، میں عید کی نماز پڑھنے اپنے ہمسایوں کے ہمراہ مقامی گراؤنڈ میں پہنچا، اردگرد کی چار مساجد میں بھی عین اسی وقت نماز عید ادا ہونا تھی۔ ہوا یوں کہ تمام مساجد کے سپیکر بلند آواز کھلے ہوئے تھے ، آوازیں مکس ہو گئیں۔ ہماری نماز کے امام صاحب سجدے کے لئے اللہ اکبر کہتے تو ساتھ والی مسجد کے سپیکر سے رکوع کے لیے اللہ اکبر کی آواز بلند ہوتی۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ہمارے امام صاحب کی آواز کون سی ہے کہ اسی اثناء میں تیسرے لاؤڈ سپیکر سے سلام پھیرنے کی آواز آجاتی۔ اس گھمن گھیری کا اثر یہ ہوا کہ کچھ لوگ سجدے میں چلے جاتے، کچھ رکوع میں اور کچھ حالت قیام میں کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔۔۔!!!
لاؤڈ سپیکروں پر پابندی کا فائدہ ان لوگوں کو بھی بہت ہوگا جن کے گھر ایسی مسجد کے قریب ہیں جہاں دن رات مولوی صاحب چاروں سپیکر کھول کر ثواب اور چندہ اکٹھا کرتے رہتے ہیں۔ میرے گھر کے سامنے والی مسجد میں بھی یہی حال تھا، ایک دفعہ رات کے تین بجے اچانک نعتیہ کلام نشر ہونا شروع ہوگیا اور بغیر وقفے کے دو گھنٹے تک جاری رہا،میں خوشی سے سرشار ہوگیا کہ مسلمانوں کا جذبہ ایمانی ابھی زندہ ہے اور اتنی شدت سے زندہ ہے کہ رات تین بجے بھی عقیدت اپنے عروج پر ہے۔میں نے جلدی سے وضوکیا اور خود بھی اس نورانی محفل میں شرکت کے لیے مسجد پہنچ گیا، پتا چلا کہ مولوی صاحب گہری نیند سو رہے ہیں اور مائیک کے آگے نعتوں والی ٹیپ چلا کر رکھی ہوئی ہے۔ میں نے مولوی صاحب کا کندھا ہلایا اور اس سائنسی عبادت کی وجہ پوچھی‘ اطمینان سے بولے’’یہ بھی ثواب ہے‘‘۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ یہ ثواب آپ کے کانوں تک کیوں نہیں جارہا ‘ ایک سپییکر اپنے کان کے پاس بھی کر لیجئے ناں۔۔۔یہ سنتے ہی مولوی صاحب نے قہر آلود نظروں سے میری طرف دیکھا‘ پھر گھور کر بولے ۔۔۔’’تم مجھے مخالف فرقے کے لگتے ہو۔۔۔دو منٹ یہیں رکو ‘ تمہاری درگت بنواتا ہوں۔۔۔‘‘ یہ سنتے ہی میری روح فنا ہوگئی اور میں نے نہایت سکون سے ’’دُڑکی ‘‘ لگا دی۔
لاؤڈ سپیکرکے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے اکثر لوگ قومی اسمبلی کے سپیکر کو بھی’’ لاؤڈ سپیکر ‘‘سمجھنے لگے ہیں‘ شاید ٹھیک ہی سمجھتے ہیں۔ویسے بھی شور زیادہ ہو جائے تو اپنی آواز دوسروں کے کانوں تک ایسے ہی پہنچائی جاتی ہے۔ لاؤڈ سپیکر پر پابندی کے اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر کسی نے اس کی خلاف ورزی کی تو اس کی سزا کی نوعیت کیا ہو گی؟ یقیناًکوئی نہ کوئی تو سزا ضرور ہوگی‘ لیکن میرا ذاتی خیال ہے یہ سزا کچھ اس قسم کی ہوگی جیسی اکثر کسی کھلے میدان یا مارکیٹ کے کونے والی دیوار پر لکھی ہوتی ہے کہ’’خبردار! کسی بھی قسم کی ’’نمی‘‘ پھیلانے والے کو حوالہ ء پولیس کیا جائے گا‘‘۔ میں نے تو آج تک کسی کو اس ’’جرم‘‘ میں گرفتار ہوتے نہیں دیکھا۔۔اس بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟ اس کے لیے کسی وکیل سے مشورہ کرنا پڑے گا۔ لاؤڈ سپیکروں کے شوق میں مبتلا اکثر لوگوں نے طے کرلیا ہے کہ جو کوئی لاؤڈ سپیکر کے خلاف بات کرے گا اس کا جینا دوبھر کر دیں گے حالانکہ بزرگوں کو یاد ہوگا کہ جب لاؤڈ سپیکر نیا نیا ایجاد ہوا تھا تو نیک لوگوں کی اکثریت نے اسے ’’شیطانی چرخہ‘‘ قرار دیا تھا۔ میں اس سلسلے میں حکومت کو ایک اہم تجویز دینا چاہتا ہوں کہ اذان یا جمعہ کے خطبے کے علاوہ اگر کہیں لاؤڈ سپیکر سے گائے کی گمشدگی ، بچوں کو ٹیکے لگانے والی ٹیم کی آمد، نماز جنازہ کی تیاری یا سبزی والے کی آمد کا اعلان سنائی دے تو اعلان کرنے والے کو جیل بھیجنے کی بجائے اسی وقت پکڑ کر لاؤڈ سپیکر کے اندر بٹھا دیا جائے اور پوری قوت سے مائیک میں چلا کر کہا جائے ۔۔۔’’ہاؤ‘‘۔
’’ہاؤ‘‘ از گل نوخیز اختر


