منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) اہلِ گمان کرتے نہیں ہیں یقیں…

( غیــر مطبــوعــہ )

اہلِ گمان کرتے نہیں ہیں یقیں بہُت
اور کچھ ہمارے لوگ بھی ہیں نکتہ چیں بہُت

میں نے سَــمُندروں کو بتایا تھا ایک روز
رہنے کے واسطے ہے مجھے یہ زمیں بہُت

ہم چھوڑ آئے اُس کو’ مگر بھولتا نہیں
کرتے ہیں یاد ایک مکاں کو مکیں بہُت

فرصت نہیں ہے اُس کو کسی غیر کے لئے
اُس سنگِ آستاں کو ہماری جبیں بہُت

مالک ! یہ کس حساب سے بانٹا ہے تو نے رزق
کچھ بھی نہیں دیا ہے کہیں، اُور کہیں بہُت

اب تو بھی آ گیا ہے مِری جان کو ۔۔۔ تو آ
پالے ہوئے ہیں تجھ سے تہہِ آستیں بہُت

سمجھا اُنہیں تو اور ہی نکلے وہ فطرتاً
عُظـمٰی ؔ ! جو دیکھنے میں لگے دل نشیں بہُت

( عُظــمیٰ ؔ محــمُود )

( Uzma Mahmood

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/