ایک زمین مرزا غالبؔ اصغرؔ گونڈوی متینؔ امروہوی ۔۔۔…

مرزا غالبؔ
اصغرؔ گونڈوی
متینؔ امروہوی
۔۔۔۔۔
دِل ہی تو ہے نہ سنگ و خِشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
دَیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہ گُزر پہ ہم غیر ہمیں اُٹھائے کیوں
جب وہ جمالِ دِل فروز صُورتِ مہرِ نیم روز
آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
دُشنہء غمزہ جاں ستاں ناوکِ ناز بے پناہ
تیرا ہی عکسِ رُخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نِجات پائے کیوں
حُسن اور اُس پہ حُسنِ ظن رہ گئی بُوالہوس کی شرم
اپنے پہ اِعتِماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
واں وہ غُرورِ عِزّ و ناز یاں یہ حِجابِ پاسِ وضع
راہ میں ہم مِلیں کہاں بزم میں وہ بُلائے کیوں
ہاں وہ نہیں خُدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
جِس کو ہُوں دین و دِل عزیز اُس کی گلی میں جائے کیوں
غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں۔۔۔!
۔۔۔۔۔
تاب نہیں فِراق کی نالہ نہ لب پر آۓ کیوں
مُجھ میں بھرا ہے درد و غم سینہ میں دم سماۓ کیوں
جُھوٹ تھا عہد بے وفا کیوں نہ کہُوں مَیں برملا
جب نہ رہا وہ راز و ناز بات کوئ چُھپاۓ کیوں
مَیں نے کہا تُو دِل میں ہے کہنے لگا غلط نہ کہہ
ہم تیرے دِل میں ہوں کِینِ رقیب آۓ کیوں
وعدہ کی شب تو ہوچُکی اب تو یہ پُوچھ اے ندیم
نعش پہ بھی نہ آئیں تو جان سے کوئ جاۓ کیوں
تُم نے کہا ہے غیر سے حال میرا وگرنہ یوں
تذکرے اپنی چاہ کے ہو گئے جاۓ جاۓ کیوں
فِکرِ زمانہ رنج و یاس آتِشِ شوق و داغِ ہِجر
چار طرف کے یوں الم چُپکے کوئ اُٹھاۓ کیوں
شِکوہ ہے اپنے بخت کا تُو نہ خفا ہو دِل رُبا
دِل کہ رہا نہ کام کا جان کو بھی ستاۓ کیوں
شل ہُوۓ ہاتھ اُٹھے اُٹھے آمیں سے گنگ ہے زباں
میری دُعا کو اب اثر شرم سے منھ دِکھاۓ کیوں
اصغرؔ خستہ حال تو غم ہی کی شکل بن گیا
سوچ تو بزمِ عیش ہے وہ تُجھے بُلاۓ کیوں۔۔۔!
۔۔۔۔۔
جِس کو دِل آزما چُکا اُس کو پِھر آزماۓ کیوں
چال میں اُس کی آۓ کیوں اور فریب کھاۓ کیوں
دِل کا قرار بھی گیا مے کا خُمار بھی گیا
راہء وفا میں آپ نے ایسے قدم اُٹھاۓ کیوں
عِشق کا ہے یہ سِلسِلہ حُسن کا ہے مُعاملہ
اہلِ خِرَد سے پُوچھئے جوشِ جُنُوں میں آۓ کیوں
اُن سے یہ داستانِ غم کہئے نہ آپ بیش و کم
دِل کا ہمارے بارِ غم اور کوئ اُٹھاۓ کیوں
جیتے جی اور بات تھی شمع ہمارے پاس تھی
مرنے کے بعد قبر پر کوئ دیا جلاۓ کیوں
دیکھ کے میری چشمِ تر کہتے ہیں لوگ بیشتر
"دِل ہی تو ہے نہ سنگ و خِشت درد سے بھر نہ آۓ کیوں”
مُجھ کو متینؔ زِندگی راس یہاں نہ آۓ گی
کرب و بلا کے شہر میں کوئ سُکون پاۓ کیوں۔۔۔!
بشُکریہ عُمر جاوید خان




