منتخب غزلیں
ہم پہ کچھ دل کا حال کھولو نا ! کیا تمہیں ہو گیا ہے…

ہم پہ کچھ دل کا حال کھولو نا !
کیا تمہیں ہو گیا ہے ؟ بولو نا !
کیا تمہیں ہو گیا ہے ؟ بولو نا !
کیوں کھڑے دیکھتے ہو مُونہ سب کا
تم بھی دنیا کے ساتھ ہو لو نا !
ایسے گم سُم ہو ‘ جیسے زندہ نہیں
کچھ تو دیکھو ، کہیں تو بولو نا !
ہنس بھی لیں گے کہ وقت آئے گا
دل گرفتہ بہت ہو ، رو لو نا !
جاگ لینا ‘ میں سو گیا جس دَم
میں ابھی جاگتا ہوں ، سو لو نا !
ٹیس بِن یہ سفر نہیں کٹتا
خار کوئی کہیں چبھو لو نا !
تم کو مل جائیں گے جواب سبھی
اپنے دل کو کبھی ٹٹولو نا !
مہرباں ہے وہ مثلِ ابرِ کرم
اپنی خِفّت کا داغ دھو لو نا !
پھر تو سب خواب ہو ہی جائے گا
خواب ہستی میں آنکھ کھولو نا !
( اَبــرارؔ احمـــــد )



