منتخب غزلیں
ایک زمین 3 شاعر ” کیونکر ہوا ” بہادر شاہ ظفر، علّا…

ایک زمین 3 شاعر
” کیونکر ہوا ”
بہادر شاہ ظفر، علّامہ محمد اقبال، جمیلؔ مظہری
______________________________
بہادر شاہ ظفر
کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا
یہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہوا
جن کو محراب عبادت ہو خم ابروئے یار
ان کا کعبے میں کہو سجدہ ادا کیونکر ہوا
دیدۂ حیراں ہمارا تھا تمہارے زیر پا
ہم کو حیرت ہے کہ پیدا نقش پا کیونکر ہوا
نامہ بر خط دے کے اس نو خط کو تو نے کیا کہا
کیا خطا تجھ سے ہوئی اور وہ خفا کیونکر ہوا
خاکساری کیا عجب کھووے اگر دل کا غبار
خاک سے دیکھو کہ آئینہ صفا کیونکر ہوا
جن کو یکتائی کا دعویٰ تھا وہ مثل آئینہ
ان کو حیرت ہے کہ پیدا دوسرا کیونکر ہوا
تیرے دانتوں کے تصور سے نہ تھا گر آبدار
جو بہا آنسو وہ در بے بہا کیونکر ہوا
جو نہ ہونا تھا ہوا ہم پر تمہارے عشق میں
تم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا کیونکر ہوا
وہ تو ہے نا آشنا مشہور عالم میں ظفرؔ
پر خدا جانے وہ تجھ سے آشنا کیونکر ہوا
_____________________________
علّامہ محمد اقبال
کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا
اور اسیرِ حلقۂ دام ہوا کیونکر ہوا
جائے حیرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں میں
مجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کیونکر ہوا
کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کیا خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلا کیونکر ہوا
ہے طلب بے مدّعا ہونے کی بھی اک مدّعا
مرغِ دل دامِ تمنّا سے رِہا کیونکر ہوا
دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے
پھر یہ وعدہ حشر کا صبر آزما کیونکر ہوا
حسنِ کامل ہی نہ ہو اس بے حجابی کا سبب
وہ جو تھا پردوں میں پنہاں، خود نما کیونکر ہوا
موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے دردِ فراق!
چارہ گر دیوانہ ہے، میں لا دوا کیونکر ہوا
تو نے دیکھا ہے کبھی اے دیدۂ عبرت کہ گل
ہو کے پیدا خاک سے رنگیں قبا کیونکر ہوا
پرسشِ اعمال سے مقصد تھا رسوائی مری
ورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ، کیا ہوا، کیونکر ہوا
میرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی
کیا بتاؤں ان کا میرا سامنا کیونکر ہوا
____________________________
جمیلؔ مظہری
غور تو کیجے کہ یہ سجدہ روا کیوں کر ہوا
اس نے جب کچھ ہم سے مانگا تو خدا کیونکر ہوا
اے نگاہ شوق اس چشم فسوں پرداز میں
وہ جو اک پندار تھا آخر حیا کیونکر ہوا
اک ترازو عشق کے ہاتھوں میں بھی جب ہے تو وہ
عالم سود و زیاں سے ماورا کیونکر ہوا
دین و دانش دونوں ہی ہر موڑ پر تھے دل کے ساتھ
یک بیک دیوانہ دونوں سے خفا کیونکر ہوا
رہزنوں کے غول ادھر تھے رہبروں کی بھیڑ ادھر
آ گئے منزل پہ ہم یہ معجزہ کیونکر ہوا
خارزار دین و دانش لالہ زار حسن و عشق
دل کی اک وحشت سے طے یہ مرحلہ کیونکر ہوا
اپنے ذہنی زلزلوں کا نام جو رکھ لو مگر
دو دلوں کا اک تصادم سانحہ کیونکر ہوا
تیری محرومی اسے جو بھی کہے لیکن جمیلؔ
غیر سے اس نے وفا کی بے وفا کیونکر ہوا
……
بشکریہ بحر سے خارج
” کیونکر ہوا ”
بہادر شاہ ظفر، علّامہ محمد اقبال، جمیلؔ مظہری
______________________________
بہادر شاہ ظفر
کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا
یہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہوا
جن کو محراب عبادت ہو خم ابروئے یار
ان کا کعبے میں کہو سجدہ ادا کیونکر ہوا
دیدۂ حیراں ہمارا تھا تمہارے زیر پا
ہم کو حیرت ہے کہ پیدا نقش پا کیونکر ہوا
نامہ بر خط دے کے اس نو خط کو تو نے کیا کہا
کیا خطا تجھ سے ہوئی اور وہ خفا کیونکر ہوا
خاکساری کیا عجب کھووے اگر دل کا غبار
خاک سے دیکھو کہ آئینہ صفا کیونکر ہوا
جن کو یکتائی کا دعویٰ تھا وہ مثل آئینہ
ان کو حیرت ہے کہ پیدا دوسرا کیونکر ہوا
تیرے دانتوں کے تصور سے نہ تھا گر آبدار
جو بہا آنسو وہ در بے بہا کیونکر ہوا
جو نہ ہونا تھا ہوا ہم پر تمہارے عشق میں
تم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا کیونکر ہوا
وہ تو ہے نا آشنا مشہور عالم میں ظفرؔ
پر خدا جانے وہ تجھ سے آشنا کیونکر ہوا
_____________________________
علّامہ محمد اقبال
کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا
اور اسیرِ حلقۂ دام ہوا کیونکر ہوا
جائے حیرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں میں
مجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کیونکر ہوا
کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کیا خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلا کیونکر ہوا
ہے طلب بے مدّعا ہونے کی بھی اک مدّعا
مرغِ دل دامِ تمنّا سے رِہا کیونکر ہوا
دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے
پھر یہ وعدہ حشر کا صبر آزما کیونکر ہوا
حسنِ کامل ہی نہ ہو اس بے حجابی کا سبب
وہ جو تھا پردوں میں پنہاں، خود نما کیونکر ہوا
موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے دردِ فراق!
چارہ گر دیوانہ ہے، میں لا دوا کیونکر ہوا
تو نے دیکھا ہے کبھی اے دیدۂ عبرت کہ گل
ہو کے پیدا خاک سے رنگیں قبا کیونکر ہوا
پرسشِ اعمال سے مقصد تھا رسوائی مری
ورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ، کیا ہوا، کیونکر ہوا
میرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی
کیا بتاؤں ان کا میرا سامنا کیونکر ہوا
____________________________
جمیلؔ مظہری
غور تو کیجے کہ یہ سجدہ روا کیوں کر ہوا
اس نے جب کچھ ہم سے مانگا تو خدا کیونکر ہوا
اے نگاہ شوق اس چشم فسوں پرداز میں
وہ جو اک پندار تھا آخر حیا کیونکر ہوا
اک ترازو عشق کے ہاتھوں میں بھی جب ہے تو وہ
عالم سود و زیاں سے ماورا کیونکر ہوا
دین و دانش دونوں ہی ہر موڑ پر تھے دل کے ساتھ
یک بیک دیوانہ دونوں سے خفا کیونکر ہوا
رہزنوں کے غول ادھر تھے رہبروں کی بھیڑ ادھر
آ گئے منزل پہ ہم یہ معجزہ کیونکر ہوا
خارزار دین و دانش لالہ زار حسن و عشق
دل کی اک وحشت سے طے یہ مرحلہ کیونکر ہوا
اپنے ذہنی زلزلوں کا نام جو رکھ لو مگر
دو دلوں کا اک تصادم سانحہ کیونکر ہوا
تیری محرومی اسے جو بھی کہے لیکن جمیلؔ
غیر سے اس نے وفا کی بے وفا کیونکر ہوا
……
بشکریہ بحر سے خارج


